محکمہ ر یونیور کی کارکردگی مایوس کن ، ادارہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام

محکمہ ر یونیور کی کارکردگی مایوس کن ، ادارہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور(عامر بٹ سے)حکومتی گڈ گورننس کے دعووں کے برعکس محکمہ ریونیو حسب معمول اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ،محکمہ ریونیو میں ناصرف ایڈمنسٹریشن انتظامی غفلت کا بدترین مظاہرہ کیا گیا ،کرپشن ،رشوت وصولی،اختیارات کا ناجائز استعمال ،فنڈز میں غبن ،سرکاری زمینوں پر قبضے اور فراڈ جعلسازی کے سینکڑوں واقعات سے بورڈ آف ریونیو پنجاب کے تمام شعبہ جات جن میں سرفہرست ایل آر ایم آئی ایس ،محال،رجسٹریشن،سیٹلمنٹ ،اشتمال میں اربوں روپے کے فراڈ اور جعلسازی نے بدنامی میں اضافہ کر دیا ،رواں سال 2016کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،روزنامہ پاکستا ن کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق رواں سال 2016میں ضلع لاہور میں ریونیو سٹاف اور انتظامی افسران کی جعلی مہریں اور دستخط ثبت کرتے ہوئے جعلی فردات،رجسٹریاں ،تیار کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس کی روک تھام نہیں کی جاسکی ،بورڈ آف ریونیو کے پراجیکٹ ایل آر ایم آئی ایس کے زیرنگرانی چلنے والے اراضی ریکارڈ سنٹر ز پر وکلاء،سیاسی شخصیات سمیت بااثر افراد کی جانب سے تشدد کے متعدد واقعات رونما ہوئے جس کی روک تھام نہیں کی جاسکی ،بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر عدم دستیابی اور بعد ازاں تعینات ہونے والے افسران کی عدم دلچسپی کے باعث ریونیو کورٹس میں زیر سماعت سینکڑوں کیسز التواء کا شکار ہوئے ،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں 100سے زائد ملازمین کرپشن،رشوت وصولی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے تحت محکمہ سے نکالے گیے جبکہ محکمہ سے نکلنے والے انتظامی افسران بھی چھ چھ مالاکھ روپے رشوت وصولی اور جعلی بھرتیوں کے الزام کے تحت گرفتار ہوئے اور رسوا ہوئے ،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں دو ارب روپے کے فراڈ کرنے والے ملزم فیض الحسن کو محکمہ اینٹی کرپشن اور ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب مظفر علی رانجھا گرفتار کرنے سے قاصر نکلے،ایڈیشنل کمشنر ریونیو غلام سروس نور نے واہ گزار کروائی جانے والی سرکاری اراضی دوبارہ قابضین کے حوالے کرنے کا حکم صادر کر دیا ،ضلع لاہور کی تحصیل شالیمار کے اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ خان نیازی ،علی شہزاد ،راؤ امتیاز ،ارشد بھٹی اور سائرہ حیات تارڈ کی جانب سے لینڈ مافیا کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے سرکاری اراضی واہ گزار کروائی گئی،عبداللہ خان نیازی نے 60کروڑ سے زائد قیمتی اراضی واہ گزار کر وا کر قابضین کے خلاف مقدمات درج کروائے دیگر افسران کے پرچہ رجسٹری ،ریکوری ،جوڈیشل کیسز کو نمٹانے اور عوامی مفادات کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی رواں سال بھی بورڈ آف ریونیو کے تحصیلدار کی پرموشن بورڈ کی کمیٹی تشکیل نہ دی جاسکی ،300سے زائد تحصیلدار رواں سال بھی ترقی کے منتظر نظر آئے ،کسانوں کی رجسٹریشن کرنے میں مصروف اراضی ریکارڈ سنٹرز پر تعینات ملازمین کو ڈبل سیلری کی ادائیگی نہیں کی جاسکی ،جعلسازی کرپشن میں ملوث والٹن اراضی ریکارڈ سنٹرپر تعینات اے ڈی ایل آر سمیت دیگر ملازمین پر محکمہ اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کیا ،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں کیپٹن (ر)ظفر اقبال کی بطور ڈی جی دھوا دار انٹری ہوئی اور اس کے بعد کرپٹ ملازمین کی گرفتاریاں ہوئیں ،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی منظوری ہوئی اور باقاعدہ اتھارٹی بنی ،ڈی سی او لاہور اور اے ڈی سی آر کے مابین اختیارات کی سرد جنگ بدستور جاری رہی،چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنجاب سمیت ڈپٹی کمشنرز او ر دیگر انتظامی افسران کے جعلی جوڈیشلی فیصلے تیار کئے جانے کا انکشاف ہوا ،لینڈ فراڈ میں ملوث تحصیلدار کینٹ کی ضمانت منسوخ ہوئی اور وہ عدالت سے فرار ہوئے ایل آر ایم آئی ایس کی جانب سے ویب سائٹ پر دیئے جانے والے اعداد وشمار اور انفارمیشن جعلی نکلی،ود ہولڈنگ ٹیکس ،سی وی ٹی گین ٹیکس سمیت رجسٹریشن برانچوں میں جائیداد کی منتقلی کے لئے عائد کردہ ٹیکسز سے جہاں صوبے بھر کی عوام متاثر ہوئی وہاں بورڈ آف ریونیو کے ریونیو میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی ،صوبے بھر میں رجسٹریشن ٹیکسز میں اضافے کے سبب بحران کی صورت دیکھائی دی ،صوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز پر تعینات ملازمین نے کرپشن اور رشوت وصولی کی انتہاء کئے رکھی ،رجسٹریشن برانچوں میں گین ،ود ہولڈنگ اور اشٹام ڈیوٹی ٹیکس کا آڈٹ نہ ہو سکا ،جس میں کروڑوں کے فراڈ سامنے آئے ،اور ٹائم ایشو پر اراضی ریکارڈ سنٹر ملازمین سراپا احتجاج نظر آئے ،اراضی ریکارڈ سنٹر ز پر جعلی اور بوگس ڈگریوں پر انتقالات کی تصدیق کا انکشاف ہوا،پنجاب کی 144تحصیلوں میں ای سٹامپ پیپرز کے نئے نظام کا اجراء ہوا ،کرپشن اور رشوت وصولی کے الزامات ثابت ہونے پر 23سروس سنٹر آفیشل کو بلیک لسٹ قرار دے دیا گیا ،سالہا سال سے ضلعی انتظامیہ کی 30کلرکوں کی سالانہ خفیہ رپورٹ رواں سال بھی التواء کا شکار رہی ،بورڈ آف ریونیو کی ملی بھگت سے تعمیر ہونے والے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں کروڑوں کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ،اراضی ریکارڈ ز سنٹر ز کے لئے ورلڈبینک کے جاری کر دہ فنڈز میں کروڑوں روپے کے غبن کا انکشاف ہوا جس میں پرکیورمنٹ اور انجینئرنگ کے سٹاف کے ملوث اور خرد برد کا بھی انکشاف سامنے آیا ،ڈی سی او رحیم یار خان کیپٹن (ر)ظفر اقبال نے سابق ڈپٹی پی ڈی پنجاب مقبول احمد دھاولہ کی جگہ پر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے نئے ڈی جی کا چارج سنبھال لیا ،بھاری رشوت میں ملوث کرپٹ سٹاف کو اراضی ریکارڈ سنٹرز افسران کی جانب سے بھرپور تحفظ دیا گیا ،پٹواخانوں کے بعد اراضی ریکارڈ سنٹرز میں بھی کرپشن کی شکایات زبان ذد عام ہو گئیں ،اجودھیا پور منشی کے پیسے اور رجسٹریاں لے کر غائب ہونے کی وجہ سے سائل سراپا احتجاج بنے رہے ،پنجاب بھر کے پٹوارخانوں میں بوگس انتقالات کی فوٹو کاپیاں چسپاں کرنے کا انکشاف ہوا جس کی تمام تر اطلاعات کے باوجود بورڈ آف ریونیو کے افسران صرف کاغذی کاروائیوں تک ہی محدود نظر آئے ،لینڈ ریکارڈ کے کنٹریکٹ ملازمین کے اثاثوں میں مسلسل اضافے کی اطلاعات پر ان کے خلاف تحقیقا ت شروع کی گئیں ،رواں سال میں بھی ریونیو اور پیڈا یکٹ صرف چھوٹے ملازمین تک محدود رہا ،جام پور میں واقع اراضی ریکارڈ سنٹرز میں کرپشن کی تصدیق شدہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے باوجود فائل سرخ فیتے کی نذر رہی ۔