پاک بھارت مذاکرات میں تعطل غلط فہمیوں میں اضافے کا باعث ہے :سیکرٹری خارجہ

پاک بھارت مذاکرات میں تعطل غلط فہمیوں میں اضافے کا باعث ہے :سیکرٹری خارجہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ماسکو( اے این این ) سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے پاک بھارت جامع مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات میں تعطل غلط فہمیوں میں اضافے کا باعث ہے،کنٹرول لائن پرجنگ بندی کی خلاف ورزیاں تذویراتی راست اقدام کاباعث بن سکتی ہیں،دنیا بھارت کوعالمی ضابطوں کی پاسداری اورامن واستحکام کے تقاضے پورے کرنے کاپابندبنائے، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ توڑ اتو خطرناک مثال قائم ہو جائیگی،دوسر وں کوبھی معاہدے توڑ نے کی شہ ملے گی، نئی امریکی انتظامیہ کیساتھ تعمیری تعلقات کے خواہاں ہیں،پاکستان اورروس دہشتگردی اورمنشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کیلئے تعاون کررہے ہیں،افغانستان میں امن واستحکام ہمسایہ ملکوں وخطے کے امن کیلئے ناگزیرہے ۔ روسی خبر رساں ادارے ’’سپوتنک‘‘ کو دئیے گئے انٹرویو میں اعزاز احمد چوہدری نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اچھے نہیں ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہورہے ، پاکستان سمجھتا ہے کہ انتہا پسندی کو شکست دینے کیلئے بھارت کے ساتھ مذاکرات بہترین راستہ ہے کیونکہ انتہا پسندی دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچارہی ہے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو میز پر بیٹھنا چاہیے اور ایک دوسرے کے موقف کا تبادلہ کرنا چاہیے۔ مذاکرات نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزیاں تزویراتی مہم جوئی کا باعث بن سکتی ہیں، عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو عالمی ضابطوں اور علاقائی امن و استحکام کے تقاضوں کا کاربند بنائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ستمبر کے بعد سے 310 سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جن میں 46 شہری بھی شہید ہوئے ، کنٹرول لائن پر امن و امان یقینی بنانے کیلئے پاکستان اور بھارت نے اقوام متحدہ کے مانیٹرنگ مبصر گروپ کا کردار انتہائی اہم ہے یہ گروپ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ طورپر نگرانی کرسکتا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا لیکن بھارت مبصر گروپ کو کنٹرول لائن تک رسائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے کہاکہ اگر بھارت نے پاکستان کے ساتھ 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کویکطرفہ طورپر ختم کیا یا خلاف ورزی کی تو یہ خطرناک مثال قائم ہوگی جس سے دوسرے ملکوں کو اس طرح کے اقدامات کرنے کا جواز مل جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے گا۔ اعزاز احمد چوہدری نے کہاکہ پاکستان روس کی طرف سے دہشت گردی سے نمٹنے کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کیے جانے کو سراہتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس مسئلے پر ایک دوسرے کے نکتہ نظر کے تبادلے اور تعاون کیلئے مذاکرات اہم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ روس اور پاکستان دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کے بارے میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے فریم ورک کے تحت قریبی طورپر تعاون کررہے ہیں۔ دونوں ملک دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں پاکستان ،روس اورچین کے سہ فریقی اجلاس کے بار ے میں اعزازاحمدچوہدری نے کہاکہ ہم نے افغانستان کی صورتحال اوروہاں پائیدارامن واستحکام کوفروغ دینے کے بارے میں مفیدبات چیت کی ہے۔فریقین نے اس بات پراتفاق کیاہے کہ افغانستان میں امن واستحکام ہمسایہ ملکوں ،خطے اوردنیامیں امن واستحکام کیلئے ناگزیرہے۔

مزید :

علاقائی -