پنجاب میں ،شہری ڈاکوؤں ،راہزنوں اور چوروں کے رحم و کرم پر روزانہ 159افراد لٹنے لگے

پنجاب میں ،شہری ڈاکوؤں ،راہزنوں اور چوروں کے رحم و کرم پر روزانہ 159افراد ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لا ہور (شعیب بھٹی ) پنجاب حکومت نے شہریوں کو ڈاکوؤں اور چوروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔صوبے میں روزانہ 159اور ہر ایک گھنٹے میں 6سے 7شہری لٹنے لگے ،پولیس نے باز پرس کے خوف سے مقدمات کے اندراج میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں،عوام کا اعتماد اُٹھنے لگا۔تفصیلا ت کے مطا بق پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دعووں سے ہٹ کر پنجاب کے شہری عملی طورپر چوروں ، ڈاکوؤں اور راہزنوں کے نرغے میں ہیں۔پنجاب پولیس کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق اکتوبر 2015سے اکتوبر 2016تک ایک سال کے دوران صوبے میں چوری، ڈکیتی ،راہزنی ،نقب زنی، گاڑی چھیننے اور گاڑی چوری کے 58ہزار سے زائد واقعات پیش آئے اور اوسطاً روازنہ 159اور ہر گھنٹے میں 6سے 7شہری جمع پونچی سے محروم ہوئے۔ ایک سال کے دوران صوبے میں ڈکیتی کی رجسٹرڈ وارداتیں801 ،راہزنی کی412 11،نقب زنی کی 618،چوری کی 1181،کار چوری کی343 13،گاڑی چھیننے کی218 3،مویشی چوری کی603 4اوراسی طرح856 2 2دیگر وارداتیں وقوع پذیر ہوئیں۔صوبے میں چوری و ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے شہریوں کا پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اعتماد اٹھنے لگا ہے۔رواں سال کے دوران 94ارب روپے کا بجٹ استعمال کرنے والی پنجاب پولیس کی کارکردگی اور مورال روزبروز گرنے لگا ہے۔البتہ پولیس نے بڑھتی ہوئی وارداتوں کی پردہ پوشی اور کارکردگی کو اچھا ظاہر کرنے کے لیے ایسے مقدمات درج کرنے سے کنی کترانا شروع کردی ہے۔ صرف ایسے مقدمات درج کئے جاتے ہیں جن پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ورنہ معمول میں ڈکیتی کی واردات کی صورت میں پولیس چوری کا مقدمہ اور چوری کی صورت میں گمشدگی کا مقدمہ درج کرتی ہے۔ اس حوالے سے پو لیس حکام کا کہنا ہے کہ چور ی ڈ کیتی کے واقعا ت میں نما یاں کمی آئی ہے ۔صو بہ بھرمیں واقع تھا نو ں میں ایس ایچ اوز کو سختی سے ڈ کیتی اورچوری کا مقد مہ فور ی در ج کرنے کی ہدا یت کی گئی ہے ۔

مزید :

علاقائی -