سندھ ہائی کورٹ کی اے ڈی خواجہ کو آئی جی کے عہدے پر کام جاری رکھنے کی ہدایت

سندھ ہائی کورٹ کی اے ڈی خواجہ کو آئی جی کے عہدے پر کام جاری رکھنے کی ہدایت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (سٹا ف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کی جبری رخصت کیخلاف دائر درخواستوں پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے انھیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے ۔ بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں آئی جی سندھ کی جبری رخصتی کے خلاف 7 درخواستوں کی سماعت ہوئی۔اس حوالے سے عدالت میں 7درخواست گزاروں کی جانب سے درخواستیں دائر کردی گئی ہیں،جن میں معروف گلوکار شہزاد رائے بھی شامل ہیں،درخواست میں پولیس آرڈر2002 کو چیلنج کیا گیا ہے۔درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ اے ڈی خواجہ اچھی شہرت کے حامل آفیسر ہیں، انہوں نے محکمہ پولیس میں میرٹ پر بھرتیاں کیں، انہیں میرٹ پر کام کرنے کی وجہ سے ہٹاکر جبری رخصت پر بھیجا گیا ہے۔درخواست گزاروں کے مطابق گزشتہ دنوں وزیراعلی سندھ کے مشیر سعید غنی ٹی وی ٹاک شو میں کہہ چکے ہیں کہ اے ڈی خواجہ کو ایسے حالات میں واپس نہیں آنا چاہئے،جس کا مطلب ہے کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹایاجارہا ہے۔عدالت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ممکنہ طور پر عہدے سے ہٹانے کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے وفاقی وصوبائی حکومت اوراے ڈی خواجہ کو نوٹس جاری کردئیے۔عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہو ئے مزید سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ اللہ ڈنو خواجہ گزشتہ 8 ماہ سے سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدے پر فائز تھے لیکن اس دوران ان کے چند معاملات پر پیپلز پارٹی کی قیادت سے اختلافات ہوگئے جس کے بعد انہیں مبینہ طور پر جبری چھٹیوں پر بھجوا دیا گیا جبکہ ان کی جگہ ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کو آئی جی کی اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔

مزید :

صفحہ اول -