سزائے موت پانیوالے والے مسلم خان کو 2009میں گرفتار کیا گیاتھا

سزائے موت پانیوالے والے مسلم خان کو 2009میں گرفتار کیا گیاتھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور( ما نیٹر نگ ڈیسک ) سزائے موت پانے والے والوں میں ٹی ٹی پی کے ترجمان مسلم خان کو 2009میں گرفتار کیا گیاتھا۔بی بی سی کے مطابق مسلم خان زمانہ طالب علمی میں بائیں بازو تحریک کا رکن رہ چکا ہے، جو 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ضلع سوات کے جہانزیب کالج میں پیپلزسٹوڈننٹس فیڈریشن کے سرگرم رکن تھے اور کئی دہائیوں کے گزرجانے کے بعد اسی پیپلز پارٹی کے خلاف طالبان کے ہمراہ سوات کے ہی پہاڑوں میں مورچہ زن رہے۔انہوں نے یورپ سمیت پندرہ ممالک کا سفر کیا۔ جو زمانہ طالبعلمی میں بائیں بازو کے سرگرم کارکن ہونے کے ناطے پچیس دن جیل میں رہے اور انہیں اردو،انگریزی ،پشتو ،عربی اور فارسی پر دسترس حاصل ہے۔ انہوں نے ایف اے تک تعلیم بھی حاصل کی ہے۔مسلم خان ضلع سوات کے کوزہ بانڈہ میں آٹھ اگست1954کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے میٹرک اپنے آبائی علاقے سے کیا جس کے بعد انہوں نے 1972 میں جہانزیب کالج سوات میں داخلہ لیا۔اس وقت مرکز میں ذولفقار علی بھٹو کی جبکہ صوبہ سرحد میں نیپ اور جمیعت علماء اسلام کی مخلوط حکومت قائم تھی۔وہ جس پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف طالبان کے ہمراہ لڑ رہے تھے،1972 میں اسی پارٹی کے ساتھ وابستگی کی بناء پر انہیں پچیس دن تک جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ جیل جانے کی وجہ وہ دو سکیورٹی اہلکاروں اور اسسٹنٹ کمشنر کا اغوا بتاتے ہیں جنہیں پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جوشیلے نوجوانوں نے اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کے بدلے میں اغواء کیا تھا۔جیل سے نکل جانے کے بعد انہوں نے تعلیم کو خیر باد کہا اور پاکستان شپنگ کارپوریشن کے توسط سے ایک برطانوی کمپنی میں بطور سی مین کے وابستہ ہوئے جس کے ساتھ انہوں نے دو سال تک کام کیا۔یہاں سے فراغت کے بعد وہ کویت چلے گئے اور وہاں پر مختلف ٹرانسپورٹ کمپنیوں میں ملازمت کی مگر جب عراق نے کویت پر چڑھائی کی تو وہ بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح پاکستان آئے اور ضلع سوات میں اپنا میڈیکل سٹور کھولا۔ حاجی مسلم خان 1999 میں امریکہ گئے اور وہاں پر رنگ رو غن کرنے والی ایک کمپنی میں ملا زمت اختیار کی۔انہوں نے عرب ممالک اورامریکہ سمیت یورپ اور مشرق بعید کے تقریباً پندرہ ممالک دیکھے ہیں۔مسلم خان میں اس وقت تبدیلی آئی جب 1999 کی دہائی میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے رہنماء مولانا صوفی محمد نے ملاکنڈ ڈو یژن میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے متعدد حکومتی عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا تب سے وہ اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔

مزید :

صفحہ اول -