وزارت داخلہ کا تحفظ پاکستان اور انسداد دہشت گردی قوانین یکجا کرنے کا فیصلہ،مسودہ تیار

وزارت داخلہ کا تحفظ پاکستان اور انسداد دہشت گردی قوانین یکجا کرنے کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد(اے این این ) ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ اور تحفظ پاکستان قانون کو ضم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ نئے قانون کا مسودہ بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس چئیرمین قائمہ کمیٹی رانا شمیم کی صدارت میں ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ اجلاس میں وزارت داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ اور تحفظ پاکستان قانون کو ضم کرکے نیا قانون بنانے کی تجویز دی۔سیکرٹری داخلہ عارف احمد خان نے کمیٹی کو مختلف قوانین میں ترامیم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لائسنس یافتہ اسلحہ گاڑی میں رکھا جاسکتا ہے اور دوران تلاشی پولیس لائسنس یافتہ اسلحہ پر کوئی کارروائی بھی نہیں کرسکتی اور اگر پولیس جائز اسلحہ پر کوئی کارروائی کرتی ہے تو لائسنس یافتہ شخص متعلقہ حکام کو فوری شکایت کرے۔سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ معاشرے میں جن افراد کو واقعی اسلحہ رکھنے کی ضرورت ہے انہیں لائسنس جاری کیا جائے، اسلحہ لائسنس کے اجرا کیلئے سفارشات تیارکرلی گئی ہیں فوری طور پر اس کی تفصیلات نہیں بتائی جاسکتی کیوں کہ حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور امید ہے کہ آئندہ ماہ جنوری میں فیصلہ ہوجائے گا۔ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق نئے قانون کا مسودہ بھی تیار کرلیا گیا ہے اور اس پر وزارت قانون سے مشاورت جاری ہے جبکہ نئے مجوزہ قانون کا مسودہ منظوری کے لئے وزیرداخلہ کو پیش کیا جائے گا اور وزیرداخلہ کی باقاعدہ منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں لایا جائے گا جس کے بعد یہ قانون مستقل قانون کی حیثیت رکھے گا۔نئے مجوزہ قانون میں فوجی عدالتوں کی مدت کا معاملہ بھی شامل کردیا گیا ہے ، فوجی عدالتوں کی مدت آئندہ برس 7 جنوری کو ختم ہورہی ہے اور فوجی عدالتوں میں زیرسماعت تمام کیسز انسداد دہشتگردی عدالتوں میں منتقل ہوجائیں گے اس وقت فوجی عدالتوں میں 300 کیسز بجھوائے گئے ہیں اور 120 کیسز زیرسماعت ہیں۔نئے قانون میں دہشتگردی کے مقدمات فوجی عدالتوں میں ہی بھیجے جائیں گے دہشت گردی کے مقدمات کے لئے فوجی عدالتیں مستقل ہوجائیں گی۔ نئے قانون کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کو تحقیقات کے لئے 90 روز تک اپنی تحویل میں رکھ سکیں گے۔ اجلاس میں مجوزہ غیرقانونی بے دخلی ترمیمی بل 2016 کو زیرغور لایا گیا، اس دوران ایم کیو ایم کے رکن سلمان مجاہد بلوچ نے بولنے کی کوشش کی۔ کمیٹی چیئرمین نے انہیں بولنے سے باز رکھا لیکن وہ اپنی بات جاری رکھنے پر مصر تھے۔اجلاس میں بولنے سے منع کرنے پر ایم کیوایم پاکستان کے رہنما سلمان مجاہد بلوچ نے چئیرمین کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے بولنے دیں آپ مجھے نہیں جانتے۔ جس پررانا شمیم نے سلمان بلوچ سے کہا کہ مجھے دھمکی دینے سے پہلے ہوش کے ناخن لیں آپ مجھے نہیں جانتے۔

مزید :

صفحہ اول -