شام اور برما میں ظلم کیخلاف آواز بلند کرنامشترکہ ذمہ داری ہے ، مفتی نعیم

شام اور برما میں ظلم کیخلاف آواز بلند کرنامشترکہ ذمہ داری ہے ، مفتی نعیم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی سربراہی میں وفد کی جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم سے ملاقات، وفد میں عبدالرزاق ، بلقیس احمد، زاہد عسکری ، مولانا عبدالوحید،عنایت الرحمن سمیت دیگر بھی شامل تھے ،،اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیرنے امت رسول ﷺریلی میں شرکت کی دعوت دی جس کورئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے قبول کیا ،بعدازاں حافظ نعیم الرحمن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہاکہ مذہبی طبقہ کو فروعی اختلافات کو بھلا کر یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ، شام اوربرما میں جاری ظلم وبربریت عالم اسلام کی بے حسی اور حکمرانوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے ، حلب کے ہزاروں پناہ گزین بے یار و مددگار در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ،ترکی کے نقش قدم پر چل کر پاکستانی حکومت بھی اس حوالے سے کردار ادا کرے ،حکومت اجازت دے تو شامی 10ہزار بچوں کی تعلیم وتربیت کا جامعہ میں بندوبست کرنے کو تیار ہوں،عالمی برادری بالخصوص مسلم حکمران خاموش تماشائی کا رول ادا کرنے کے بجائے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ، جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے شام اور حلب کے مظلوموں کی داد رسی کیلئے امت رسول مارچ کا انعقاد خوش آئند ہے اور علماء کرام اور اہل مدارس کو بڑھ چڑھ کر اس میں شرکت کی دعوت دیتاہوں ۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم کو شام وبرما کے مظلوم بچوں ، عورتوں اور جوانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اتوار یکم مارچ کو شاہراہ قائدین میں منعقد کی جانے والی امت رسول ﷺماچ میں شرکت کی دعوت دی جس کو انہوں نے قبول کیا ، حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جب پاکستان بنا تھاپوری دنیا کے مسلمانوں نے خوشیاں منائی تھی کہ کیونکہ وہ سمجھتے تھے برصغیر میں وجود میں آنا والا پاکستان پوری امت مسلمہ کی قیادت کرے گا، مگر بدقسمتی سے یہاں اسلام کا عادلانہ نظام رائج نہ ہوسکا ، آج حکمران اپنے کاروبار اور اپنی ذات کیلئے بیرون ممالک سے ملکر اپنے مسائل تو حل کرتے ہیں مگر امت مسلمہ پر ظلم وبربریت کیخلاف کوئی آواز بلند نہیں کی جارہی ہے ، انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمرانوں کو ترکی کے نقش قد م پر چل کر شام اور برما کے مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کا فریضہ ادا کرنا چاہیے ، انہوں نے کہاکہ امت رسول مارچ کا مقصد شام اور برما میں جاری ظلم کیخلاف احتجاج کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا کیونکہ برما اور شام کا مسئلہ صرف ایک مسلک یا فرقہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے ، انہوں نے کہاکہ او آئی سی ، اقوام متحدہ اور دیگر پلیٹ فارم سے بھی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ برما اور شام کے مسئلے کو فوری طور پر حل کریں ، انہوں نے کہاکہ مظلوموں کی آواز پر لبیک کہنا مسلمان کا شیوہ اور حبّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضہ ہے ہماری اجتماعی خاموشی کی وجہ سے برما اور شام میں بچے ، خواتین اور نوجوانوں کو چن چن کر مار اجارہاہے ،غیر مسلم بھی ان مظالم کی داستانیں سن کر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں مگر افسوس امت مسلمہ خواب غفلت کی تصویر بنی ہوئی ہے ، انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ امت رسول ﷺمارچ شامی اور برمی مظلوں کی آواز کو عالمی سطحی پر اٹھانے کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔قبل ازیں حافظ نعیم الرحمن کی آمد پر جامعہ بنوریہ عالمیہ کے ایڈمنسٹریٹر مولانا غلام رسول ، مولانا نعمان نعیم ،مولانا انصر محمود ، مفتی عبدالرحمن سمیت دیگر نے ان کا استقبال کیا۔

مزید :

صفحہ آخر -