سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس، پولیس اور سول انتظامیہ میں معاملات طے، ڈپٹی کمشنر پورے ضلع کا سربراہ ہو گا

سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس، پولیس اور سول انتظامیہ میں معاملات طے، ڈپٹی کمشنر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(جاوید اقبال)پنجاب حکومت کی طرف سے منظور کردہ سول ایڈمنسٹریشن آرڈنینس 2016ء پر سول اور پولیس انتظامیہ میں معاملات طے پا گئے ہیں جس کے مطابق پولیس نے سول انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں اور اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ ہر ضلع کاڈپٹی کمشنر ڈی پی او سمیت پوری ضلعی پولیس کا سربراہ بھی ہوگا اور باس بھی ہو گا تاہم ڈپٹی کمشنر کو مئیر یا چیئرمین ضلع کونسل جواب دہ نہیں ہوں گے لیکن ان سے ہر کام میں مشاورت کے پابند ہوں گے ۔مئیر یا چیئرمین ضلع کونسل کوئی بھی ترقیاتی سکیم ڈپٹی کمشنر کی منظوری کے بغیر جاری نہیں کر سکیں گے ڈپٹی کمشنر ہر ضلع میں وزیراعلی اور چیف سیکرٹری کا نمائندہ ہوگا ۔اس حوالے سے چیف سیکرٹری کی زیر صدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس میں آرڈنینس کے حوالے سے بڑی حد تک معاملات طے پا گئے ہیں اس اجلاس میں ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب بھی شریک ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن (ر) زاہد سعید نے سول ایڈمنسٹریشن آر ڈیننس جاری کرنے کیلئے تمام مصروفیات ترک کر کے آئی جی اورہوم سیکرٹری سے ملاقاتیں کیں۔تفصیلات کے مطابق اجلاس چیف سیکرٹری کیمپ آفس میں ہوا جس میں دیگر اعلی افسران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں جائزہ لیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ڈی پی او سمیت ضلع میں تعینات کسی بھی صوبائی افسر کو اپنے دفتر بلا سکے گا۔ اور ضلع میں تمام سکیموں کی مانیٹرنگ کرے گا۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ میئر، چیئرمین ضلع کونسل کا باس نہیں ہوگا لیکن اس کی ان کے ساتھ کیا ورکنگ ہوگی اس پر مشاورت کی جا ئیگی۔ڈپٹی کمشنر امن و امان کے حوالے سے پولیس کے ساتھ کنسلٹ کر سکے گا۔ اجلاس میں سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس کو جلد جاری کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ اجلاس میں ڈی سی اور ڈی پی او کی ورکنگ کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے آرڈنینس میں دپٹی کمشنر کو ضلعی پولیس کا سر براہ بھی تسلیم کر لیا اور آرڈنینس جاری کرنے پر اتفاق بھی کر لیا اس آرڈنینس کے مطابق تمام اختیارات کا مرکز ڈپٹی کمشنرز قرار پائے اور ہر ضلع میں طاقت کا مرکز ڈپٹی کمشنر ہی ہو گا ۔
سول ایڈمنسٹریشن آرڈنینس

مزید :

صفحہ آخر -