حساس اداروں نے غیر ملکیوں کو جعلی شناختی کارڈز کے اجرا سے متعلق رپورٹ مرتب

حساس اداروں نے غیر ملکیوں کو جعلی شناختی کارڈز کے اجرا سے متعلق رپورٹ مرتب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(رپورٹ :محمد یونس باٹھ )حسا س ادارو ں نے غیر ملکیوں کو جعلی شناختی کارڈز کے اجرا کے حوالے سے ایک رپو ر ٹ مر تب کر لی ہے جبکہ غیر ملکیوں کو جعلی شناختی کارڈز کے اجرا پر نادراعملہ کے ساتھ تصدیق کنند گان کیخلاف بھی کاروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جعلی کاغذات کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے بھارتیوں، افغانیوں اور ایرانیوں کے خلاف کاروائی کے حوالے سے تیار کردا پالیسی میں حساس اداروں کی ان رپوٹس کو بھی شامل کیا گیا جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ اس عمل میں نادرا عملہ کے ساتھ وہ سیاسی شخصیات اور دیگر محکموں کے سرکاری افسر بھی شامل ہیں جنھوں نے جانچ پڑتال کئے بغیر شناختی کارڈز فارموں کی تصدیق کی، فورتھ شیڈول میں شامل بعض ایسے افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کا تعلق سیاست دانوں سے گہرا وابستہ ہے جس کے پیش نظر پنجاب میں فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے خلاف کارروائی کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے۔ با خبر زرا ئع سے معلو م ہوا ہے کہ وفا قی حکو مت نے ملک بھر میں شناختی کارڈ کے ایسے دفاتر اور عملے کا ریکارڈ مرتب کیا ہے جہاں غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کئے جاتے تھے حساس ادارے کی ایک رپورٹ کے بعدوفاقی وزیر داخلہ نے پنجاب بھر میں نادرا کے دفاتر کا ریکارڈ حاصل کیا اس ریکارڈ میں وہ ڈیٹا بھی سامنے آیا جس کے مطابق غیر ملکیوں کے شناختی کارڈ تیار کئے گئے تھے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی شناختی کارڈز بنانے میں سندھ پہلے نمبر پر اور بلوچستان دوسرے نمبر پر ہے اس کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی بنے، جعلی شناختی کارڈز بنانے والوں میں زیادہ تعداد افغانیوں، اس کے بعد بنگالیوں، برما اور ایران کے افراد کی ہے۔ بلوچستان کے اندر زیادہ شناختی کارڈز اس وقت بنائے گئے جب وہاں کی بڑی سیاسی جماعت کے اہم رہنما کے افغانستان کے سیاستدانوں کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور وہ اکثر اینٹی فوج گفتگو کرتے تھے، تصدیقی عمل سے لیکر شناختی کارڈز بننے تک اس سیاسی رہنما کا پریشر ہوتا تھا، ان کے لیڈر ہیڈ بھی چلتے تھے۔ بلوچستان کے اندر افغانوں کی بہت بڑی تعداد جعلی شناختی کارڈوں پر سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے اندر ملازمت کر رہی ہے۔ سندھ اور پنجاب کے اندر تو برتھ اور سکولوں کے جعلی سرٹیفکیٹ بنا کر شناختی کارڈز حاصل کئے گئے اور اس میں کئی غیر ملکی این جی اوز نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پنجاب سندھ اور دیگر صوبوں کے اندر افغانوں نے جو جائیدادیں بنا رکھی ہیں ان کی رجسٹری سے لیکر دیگر کاغذات میں سے کسی جگہ بھی یہ ذکر نہیں کہ ان کا کبھی افغانستان سے تعلق رہا۔ ذرائع کے مطابق شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق کے اعلان کے بعد حساس ادارے بھی متحرک ہو چکے ہیں، ایسے تمام لوگوں کو پکڑا جائے گاجنہوں نے جعلی شناختی کارڈز بنانے کیلئے تصدیق کی۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فورتھ شیڈول میں شامل بعض ایسے افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کا تعلق سیاست دانوں سے گہرا وابستہ ہے جس کے پیش نظر پنجاب میں فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے خلاف کارروائی کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے ۔جبکہ حساس ادارے ان افراد کے خلاف کارروائی کے لئے دفاقی حکومت کو اپنی رپورٹس بھجوا چکے ہیں ۔
جعلی شناختی کارڈز

مزید :

صفحہ آخر -