خیبر ایجنسی‘ پولیو یا نمونیا سے بچے جاں بحق‘ مسئلہ گھمبیر

خیبر ایجنسی‘ پولیو یا نمونیا سے بچے جاں بحق‘ مسئلہ گھمبیر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


خیبرایجنسی (نمائندہ پاکستان) پولیوسے یا نمونیا سے بچے جاں بحق ہوگئے ہیں؟مسئلہ گھمبیر ہو تا جارہا ہے علاقہ سلطان خیل میں ایک اور بچہ مبینہ پولیو قطرپلوانے سے جاں بحق ہو گیا،خیبر ایجنسی میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد چھ ہو گئی ،پولیو قطرے پلوانے سے بچوں کی حالت غیر پو گئی تھی جو بعد میں موت کے منہ میں چلے گئے ،والدین کاالزام، خشک سردی سے پورا علاقہ نمونیا اور چسٹ انفیکشن کی لپیٹ میں ہیں چلڈرن اسپشلٹ کا موقف ،پولیو میں کوئی مضر صحت چیز نہیں پائی گئی دو یاتین دن بعد پولیو مہم شروع کر سکتے ہیں ،ایجنسی سرجن ڈاکٹر نیاز خیبر ایجنسی میں گز شتہ ایک ماہ سے مبینہ پولیو قطر ے پلوانے سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد چھ ہو گئی گزشتہ رات لنڈیکوتل علاقہ سلطان خیل میں چھ ماہ کا بچہ عبدالودود ولد اویس جاں بحق ہو گیا ہے والدین کے مطابق کہ چھ دن پہلے بچے کو پولیو کے قطر ے پلائے تھے جس سے بچے کی حالت غیر ہو گئی تھی اس سلسلے میں چلڈرن اسپشلسٹ ڈاکٹر راسم شاہ شنواری نے بتایا کہ خشک سردی کی وجہ پورا علاقہ نمونیا اور چسٹ انفیکشن کی لپیٹ میں ہیں گزشتہ کئی سالوں سے پولیو مہم ہو رہی ہیں کھبی اسطرح کے کیسیز سامنے نہیں آئی ہے نمونیا اور انفیکشن کے دوران بچے کو ویکسئین نہ دی جائے مکمل صحت یابی کے بعد ویکسئین دی جائے ایجنسی سرجن ڈاکٹر نیا زنے بتا یا کہ پولیو میں کوئی مضر صحت چیز نہیں پائی گئی ہیں نمونیا اور چسٹ انفیکشن میں مبتلا بچوں کے کیسزعلیحدہ رجسٹرڈ کی ہے محکمہ صحت ،فاٹاسیکرٹریٹ اور اسلام آباد کی میڈیکل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تحقیقات کررہے ہیں اور انکے بھی روزانہ اعلی حکام سے میٹنگ ہو رہی ہیں بہت جلد اس مسئلے کاحل نکالیں گے انہوں نے کہا کہ دو یا تین دن بعد پولیو مہم شروع کرنے کیلئے تیا ریا ں مکمل کی ہے واضح رہے کہ خیبر ایجنسی میں مبینہ پولیو قطرے پلوانے سے جاں بحق ہونے والے بچوں کے بعد پولیو کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع ہو چکاہے جو محکمہ صحت اور پولیٹیکل انتظامیہ کیلئے بڑا چیلنج ہیں محکمہ صحت بچوں کی ہلاکت نمونیا اور چسٹ انفیکشن بتا ئی جارہی ہیں جبکہ والدین بچوں کی اموات پولیو قطرے پلوانے سے بتا ئی جا رہی ہیں مسئلہ روز بروز گھمبیر ہو تا جا رہا ہیں اگر محکمہ صحت نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہیں کئے گئے تو کئی سالوں کی محنت رائیگا ں جا سکتی ہیں