اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام مشاعرہ بیاد جانبازجتوئی کا انعقاد

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام مشاعرہ بیاد جانبازجتوئی کا انعقاد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کی جانب سے مشاعرہ بیادِ جانباز جتوئی کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کی صدارت رفیع الدین رازنے کی مہمان خاص جدہ میں مقیم انور انصاری اور مہمان اعزازی سعودی میں مقیم اطہرنفیس عباسی، سلطان مسعود شیخ تھیں۔اس موقع پر صدر محفل رفیع الدین رازنے کہاکہ جانباز جتوئی کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ آپ وطن کے شاعر ہیں۔ انہیں وطن سے پیارہے ۔اس دھرتی سے پیار اور وطن کے باشندوں کے پیار ہے۔ یہ سب پیار الہوں نے اپنے خلوص کی لڑی میں پروکراپنے گلے میں ڈال لئے ہیں اور سینے سے لگالئے ہیں ۔ ان کے کلام کا بہت ساحصہ وطن کے متعلق ہے ۔وطن سے ان کی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ پاک و ہند کی جنگوں کے دوران سرحد پر جاکر اپنی فوج کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے اپنی مخصوص گھن گرج سے نظمیں پڑھا کرتے تھے۔ دیگر کئی نظموں کے علاوہ ’’پاک سپاہی‘‘ مجاہدو‘‘ ’’سپاہی دا پیغام‘‘’’مضبوط وطن جوڑوں‘‘ ’’آس ‘‘ اور متعدد ترانے بھی انہی دنوں کی یادیں تازہ کرنے کے لیے کافی ہیں لیکن ان کی نظم’’ڈھال حق دی‘‘ کچھ ایسی مشہور ہوئی کہ جانباز جتوئی کو اسی نام سے پکارا جانے لگا۔ بہاولپور کمشنر جانباز جتوئی کی سرائیکی ادبی خدمات کے معترف تھے اور چاہتے تھے کہ وہ بہاولپور منتقل ہوجائیں لیکن اُوچ شریف سے اتنی نسبتوں کے باعث انہوں نے بہاولپور کی بجائے اُوچ شریف میں مستقل سکونت اختیار کرنے کی ٹھانی۔ جانباز جتوئی نے بزم جانباز تشکیل دے کر سرائیکی ادب کے فروغ کے لیے دن رات ایک کردیا ۔گویا جانباز جتوئی سرایکی مشاعروں کی پہچان بن گئے جس کی بدولت جانباز جتوئی کے مداحوں کا سلسلہ اُوچ شریف کی حدود سے نکل کرپورے وسیب میں پھیل گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرونے کہاکہ جانباز جتوئی نے تحریک پاکستان کو اپنی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتے دیکھا۔ پاکستان معرض وجود میں آیا تو ان کی عمر ۳۲برس تھی۔مادروطن کی آزاد فضا اور اسدھرتی کے کے ذرے ذرے سے خصوصی انس رکھت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں حب الوطنی کا جذبہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا نظرآتا ہے۔وطن عزیز سے بے حد محبت کے باعث انہیں قومی شعرکہا جاتا ہے۔ مشاعرے میں رفیع الدین راز، اطہر نفیس عباسی ،انور انصاری،عرفان علی عابدی، سیف الرحمن سیفی، زیب النساء زیبی، سلطان مسعود شیخ، کشور عدیل جعفری، پروفیسر صفدر علی انشا،نصیر سومرو،ڈاکٹر نزہت عباسی، شبیر نازش، نوارہ مختار ماناؔ ،تاج علی رعنا، تاجبربونیر بابا،الحاج نجمی، الطاف احمد، سید مہتاب شاھ، شاہدہ عروج خان، عشرت حبیب، مہرالنساء جمالی، جمیل ادیب سید، شاہین شمس زیدی،سلمان عزمی، تنویر حسین سخن، حمیرافرحت صدیقی، شاہنواز پیاسی گبول، سلیم حامد، عرفانہ پیرزادہ، سید شہباز احمد، ناصرحسین، علی محمد،نے اپنا کلام سُنا کر جانباز جتوئی کی عظمت کوخراج تحسین پیش کیا۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔