محکمہ اطلاعات ایک اہم ترین محکمہ ہے جو حکومت اور عوام کے مابین پل کا کردار ادا کرتا ہے :ضیا ئ اللہ بنگش

محکمہ اطلاعات ایک اہم ترین محکمہ ہے جو حکومت اور عوام کے مابین پل کا کردار ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پشاور (سٹاف رپورٹر) خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ کے ارکان نے بدھ کے روز کمیٹی کے چیئرمین ضیاء اللہ خان بنگش کی زیر قیادت محکمہ اطلاعات پشاور کے دفاتر کا دورہ کیا۔اس موقع پر کمیٹی کے دیگر اراکین صالح محمد اور محمود احمد خان کے علاوہ سیکرٹری اطلاعات طاہر حسن،ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات بشیر خان، ڈائریکٹر اطلاعات شعیب الدین ،ڈپٹی سیکرٹری اسمبلی نعیم خان اور اے ڈی انعام اللہ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔کمیٹی نے محکمہ اطلاعات کے دورے کے دوران دفتر کے مسائل،کام کے طریقہ کار اور ضروریات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔کمیٹی کے چیئرمین ضیاء اللہ بنگش نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اطلاعات ایک اہم ترین محکمہ ہے جو حکومت اور عوام کے مابین پل کا کردار ادا کرتا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ اطلاعات کو تمام اہم سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کو دفاتر کے لئے مناسب جگہ بہت جلد فراہم کر دی جائے گی اس کے علاوہ محکمہ سے جو گاڑیاں لی گئیں ہیں ان کی واپسی کے لئے بھی حکومت سے سفارش کی جائے گی تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محکمے کو بھی اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لئے نئی ٹیکنالوجی سے مستفید ہونا ہوگا۔اس موقع پر ارکان کمیٹی نے محکمہ کے قائم کردہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس اطلاع سنٹر کا بھی دورہ کیا جہاں ممبران کو مختلف محکموں سے متعلق میڈیا پرسیپشن سے آگاہ کیا گیا جس میں ممبران نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔بعد ازاں ممبران نے پختونخوا ریڈیو پشاور کا بھی دورہ کیا۔وفد کو بتایا گیا کہ صوبے میں دو ایف ایم چینلوں کے بعد ایبٹ آ باد،کوہاٹ اور سوات میں تین نئے ایف ایم چینلز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ وفد کو اس موقع پر سٹیشن ڈائریکٹر فردوس خان اور پروڈیوسر ہارون داؤدزئی نے ریڈیو چینل کے مختلف شعبوں کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین ضیاء اللہ بنگش اور ایم پی اے صالح محمد نے مختصر گفتگو کے دوران اپنے پیغام سے بھی سامعین کو آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں اراکین نے اسمبلی کی کارروائی کو زیادہ سے زیادہ پبلسٹی دینے کے لئے سٹیشن ڈائریکٹر کے ساتھ طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیالات کیا۔