مقدمے کے دوران مسجد الحرام میں گرنے والی کرین سے متعلق ایسا حیران کن انکشاف سامنے آگیا کہ کیس کا رُخ ہی تبدیل ہوگیا

مقدمے کے دوران مسجد الحرام میں گرنے والی کرین سے متعلق ایسا حیران کن انکشاف ...
مقدمے کے دوران مسجد الحرام میں گرنے والی کرین سے متعلق ایسا حیران کن انکشاف سامنے آگیا کہ کیس کا رُخ ہی تبدیل ہوگیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ سال مسجد الحرام کے صحن میں کرین گرنے کا المناک واقعہ پیش آیا، جس کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں اور متعدد افراد کو غفلت کے مرتکب قرار دے کر ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی کاروائی کے دوران اب یہ غیر متوقع انکشاف سامنے آ گیا ہے کہ مسجد الحرام جیسی اہم ترین جگہ پر ایک دیوقامت کرین بغیر کسی اجازت نامے (لائسنس) کے کام کر رہی تھی۔
سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف جدہ کی عدالت میں جاری مقدمے کے دوران ایک انجینئر کی جانب سے کیا گیا، جو کہ بن لادن کمپنی کے ان 14 ملازمین میں سے ایک ہے جنہیں اس مقدمے کے دوران الزامات کا سامنا ہے۔ مسجد الحرام کے توسیعی پراجیکٹ پر کام کرنے والی کرین بن لادن کمپنی کی ہی ملکیت تھی۔ عدالت میں پیش ہونے والے انجینئر کا کہنا تھا کہ ناصرف کرین لائسنس کے بغیر کام کررہی تھی بلکہ وہاں موجود محنت کشوں میں سے اکثر کو آپریشن کے طریقہ کار کے بارے میں بھی معلومات نہیں تھیں۔

’’العربیہ ‘‘کی رپورٹ کے مطابق مکہ حادثے کی تحقیقات کرنے والی فوجداری عدالت میں کرین حادثے کی پیش کردہ رپورٹ میں سنگین بے ضابطگیوں کا سراغ لگایا گیا ہے جب کہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حادثے کے مقام پر کام کرنے والا ایک انجینئر اور دیگر لوگ کرین چلانے کے رہنما کتابچے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے جب کہ ان میں سے بعض ورکرز نے تو رہنمائی کرنے والے کتابچے کو تو کبھی دیکھا تک نہیں تھا۔ سیفٹی ماہرین کے مطابق حادثے کی جگہ پر کام کے دوران عوام الناس کے تحفظ اور کرین چلانے کے لئے اختیار کردہ اقدامات بھی ناکامی تھے۔

تحقیقاتی بیورو کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ کرین کو بنانے والی کمپنی کی جانب سے اسے چلانے کے لیے وضع کردہ ہدایاتی کتابچے میں درج ہدایات کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور اس کے برعکس کرین کو نصب کیا گیا تھا جس کی وجہ سے 80 کلومیٹر کی رفتار سے چلنے والی تیز آندھی میں کرین اپنا بوجھ برداشت نہ کر سکی اور مسجد الحرام کے ایک حصے میں عبادت میں مصروف لوگوں پر گر پڑی تھی۔واضح رہے کہ مسجد الحرام میں گزشتہ سال ستمبر میں 1300 ٹن وزنی کرین عبادت میں مصروف افراد پر گر گئی تھی جس کے نتیجے میں 111 افراد شہید جب کہ سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔

عدالت اس مقدمے کی سماعت کے دوران چار نشستوں کا انعقاد کرچکی ہے، جن کے دوران اڑھائی ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل شواہد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ عدالت کے سامنے پیش ہونے والے ملزمان پر حفاظتی اصول و ضوابط کو نظر انداز کرنے، غفلت برتنے اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہلاکتوں اور لوگوں کو معذور کرنے کا سبب بنے کے الزامات ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -