ہائی کورٹ :چیف جسٹس نے سول جج رحیم یار خان کے گھر پر پولیس کے چھاپہ کا نوٹس لے لیا

ہائی کورٹ :چیف جسٹس نے سول جج رحیم یار خان کے گھر پر پولیس کے چھاپہ کا نوٹس لے ...
ہائی کورٹ :چیف جسٹس نے سول جج رحیم یار خان کے گھر پر پولیس کے چھاپہ کا نوٹس لے لیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(نامہ نگارخصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے پولیس کی جانب سے جوڈیشل آفیسر اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ بد تمیزی کا نوٹس لیتے ہوئے کیس جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کو بھجوادیا۔

عدالت نے ڈی پی او رحیم یار خان اور متعلقہ عملے کو دو جنوری کو طلب کرلیا۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی عدالت میں رحیم یار خان پولیس کی جانب سے اختیار کے غلط استعمال کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی، عدالت کو بتایا گیا کہ ایس ایچ او تھانہ صدر راجن پور اور سب انسپکٹر عفت کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے 12دسمبر کو سول جج کے گھر پر غیر قانونی طور پر ریڈ کیا اور مذکورہ جوڈیشل آفیسر اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ بد تمیزی کی جو کہ عدالتی وقار کو مجروح کرنے کی بد ترین مثال ہے، جس پر عدالت نے ڈسٹرکٹ پولیس آفسیر رحیم یار خان، ایس ایچ او تھانہ صدر راجن پور اور سب انسپکٹر عفت کو دو جنوری کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق سول جج رحیم یار خان ذو الفقار علی مزاری نے ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج رحیم یار خان کی وساطت سے عدالت عالیہ لاہور کو درخواست دی کہ 12دسمبر کو تھانہ صدر راجن پور پولیس نے ان کے گھر پر غیر قانونی طور پر دھاوا بولا ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پولیس پارٹی کو جب مذکورہ سول جج نے اپنا تعارف کروایا اور ان کے گھر پر ریڈ کرنے اور تلاشی کے احکامات سے متعلق دریافت کیا توپولیس نے کہا کہ انہیں کسی بھی گھر پر ریڈ کرنے کےلئے کسی تحریری وارنٹ کی ضرورت نہیں ہے.

درخواست میں بتایا گیا کہ پولیس نے مذکورہ جوڈیشل افسرکے اہل خانہ اور بزرگ رشتہ داروں کے ساتھ بد تمیزی کی ، گھر کی قیمتی اشیاءکو اٹھا اٹھا کر پھینکا اور گھر کا سارا سامان بکھیر دیا۔درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ جوڈیشل آفیسر یا اسکے خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف آج تک کوئی بھی مقدمہ درج نہیں ہوا، پولیس کی جانب سے غیر قانونی طور پر ایک جوڈیشل آفیسر کے گھر پر دھاوا بولنا عدلیہ کی توہین اور دباو میں لانے کی کوشش ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے مذکورہ درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے اسے رٹ درخواست میں تبدیل کرنے کا حکم دیا اور مذکورہ کیس کو جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی عدالت میں بھیج دیاہے۔

مزید :

لاہور -