ملک کے بڑے عہدوں پر فرعون صفت افسران بیٹھے ہیں،پنشن کیس میں ای ڈی او کو جرمانہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے ریمارکس

ملک کے بڑے عہدوں پر فرعون صفت افسران بیٹھے ہیں،پنشن کیس میں ای ڈی او کو ...
ملک کے بڑے عہدوں پر فرعون صفت افسران بیٹھے ہیں،پنشن کیس میں ای ڈی او کو جرمانہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے ریمارکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے ریٹائرڈہیڈ ماسٹر کے پنشن واجبات ڈیڑھ سال بعد بھی جاری نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پرمعاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ای ڈی او ایجوکیشن اور دیگر افسران کو موقع پر ہی فی کس 10ہزار روپے جرمانہ کر دیا،فاضل عدالت نے دوران سماعت قرار دیا کہ انتظامی عہدوں پر براجمان ہوتے ہی افسران فرعونیت کا شکار ہو جاتے ہیں، ظلم یہ ہے کہ ملک کے بڑے عہدوں پر فرعون صفت افسران بیٹھے ہیں۔

اساتذہ کا مقام اپنی جگہ ہے کسی کو زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انتظامی عہدوں پر براجمان افسران خود کو خدا سمجھنا شروع کر دیتے ہیں یہی کیفیت فرعونیت کہلاتی ہے۔عدالتیں ان روئیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔درخواست گزار ادریس نامی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کو ڈیڑھ برس گزرنے اور عدالتی حکم کے باوجودپنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف دائر درخواست میں عدالتی حکم پر ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر گجرات نے پیش ہو کرعدالت کو بتایا کہ مجاز اتھارٹی کے دستخط نہ ہونے کے سبب پنشن ادا نہیں کی جا سکی۔ عدالت نے دوران سماعت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تاخیر سے پنشن اور واجبات کی ادائیگی کے ذمہ دار افسران اور سیکرٹری سکول ایجوکیشن کو توہین عدالت کے براہ راست نوٹس جاری کئے جائیں، عدالت نے ای ڈی او گجرات کا جواب مسترد کرتے ہوئے عدالتی احکامات نظر انداز کرنے پر ای ڈی او ایجوکیشن اور کمرہ عدالت میں موجود متعلقہ افسران کو موقع پر ہی فی کس دس ہزار روپے جرمانہ کر دیا، عدالتی حکم پر ای ڈی او ایجوکیشن گجرات نے دس ہزار روپے جرمانہ کی رقم موقع پردرخواست گزار کوادا کی اور عدالت سے استدعا کی کہ جرمانہ کی بقایا رقم واپس جاتے ہی درخواست گزار کو ادا کر دی جائے گی۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کا مقام اپنی جگہ ہے کسی کو زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انتظامی عہدوں پر براجمان افسران خود کو خدا سمجھنا شروع کر دیتے ہیں یہی کیفیت فرعونیت کہلاتی ہے۔عدالتیںان روئیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔عدالت نے احکامات پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ افسران کودو یوم کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگراب بھی عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو سیکرٹری سکولز ایجوکیشن اور ذمہ دار افسران کے خلاف براہ راست توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید :

لاہور -