سندھ طاس معاہدے کو کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر منسوخ یا معطل نہیں کر سکتا، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے پاکستانی حکومت نے ہر ممکن کوشش کی :ترجمان دفتر خارجہ

سندھ طاس معاہدے کو کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر منسوخ یا معطل نہیں کر سکتا، ...
سندھ طاس معاہدے کو کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر منسوخ یا معطل نہیں کر سکتا، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے پاکستانی حکومت نے ہر ممکن کوشش کی :ترجمان دفتر خارجہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہناہے کہ سندھ طاس معاہدے کو کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر منسوخ یا معطل نہیں کر سکتا اور پاکستان اِس بدلتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں اپنی حکمتِ عملی اپنائے گا،امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے پاکستانی حکومت نے ہر ممکن کوشش کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں انڈیا کی سرگرمیوں کا جائزہ لے گا۔ انھوں نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے دوران اگر کوئی تنازع پیدا ہو تو اسے دور کرنے کے لیے ثالثی کا نظام موجود ہے۔

سعودی عرب میں پہلی جماعت کی لڑکی سے انتہائی شرمناک حرکت، ویڈیو منظر عام پر، یہ کس نے کیا؟ ایسا انکشاف کہ پورے ملک میں تہلکہ برپاہوگیا، کوئی تصور نہ کرسکتا تھا کہ۔۔۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ حقائق جاننے کےلیے مشن کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جانے کی اجازت دینے کیلئے بھارت پر دباو¿ ڈالے،امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے پاکستانی حکومت نے ہر ممکن کوشش کی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عافیہ صدیقی کا معاملہ امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سیاسی سطح پر اٹھایا ہے، پاکستان نے ان کے لیے وکیل کیے ہیں اور پاکستانی اہلکار ان سے باقاعدگی سے ملاقات کرتے رہے ہیں، اب بھی جب کبھی عافیہ صدیقی کو کوئی مدد چاہیے ہوتی ہے تو انھیں فراہم کی جاتی ہے۔
عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سابق سفیر حسین حقانی کو دی جانے والی رقم کے سوال پر ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ انھیں اِس معاملے میں معلومات نہیں ہیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے بتایا کہ پاکستان چین اور روس کے درمیان ہونے والا اجلاس دراصل پہلے سے موجود سہہ ملکی نظام ِکار کا تسلسل ہے اور اِس کامقصد خطے خصوصاً افغانستان میں امن کا قیام ہے اور اِس سلسلے میں افغانستان کو اِس سہہ ملکی نظام میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔

مزید :

قومی -