اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 102

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 102

  

جب دس روز گزرگئے تو گنگو نے راجہ ارجن سے کہا کہ وہ شہزادی شگفتہ کو جنگل سے نکال کر سومنات لے جانے کے لئے تیار ہے۔ راجہ نے کہا کہ آج رات پچھلے پہر کی تاریکی میں ہم جنگل کی طرف جائیں گے۔ آدھی رات کو اٹھ کر انہوں نے جوگیوں کا بھیس بدلا اور محل کے خفیہ دروازے سے نکل کر عقبی پہاڑیوں میں آگئے۔ یہ راجہ کی ریاست تھی اور وہ اپنی ریاست کے چپے چپے سے واقف تھا۔ ساری زندگی اس کی اس جنگل میں شکار کھیلتے گزری تھی۔ وہ گنگو کو جنگل کے ایسے راستے سے لے کر مینا دیوی کے مندر تک گیا جہاں کسی جنگلی درندے کا ملنے کا امکان نہیں تھا۔ جنگلی درندے زیادہ تر جنگل کے دوسرے حصے کی طرف ہوتے تھے جہاں پانی کا ایک بہت بڑا تالاب تھا۔

رات کے اندھیرے میں مینا دیوی کا چھوٹا سا ویران مندر انتہائی پراسرار لگ رہا تھا۔ وہاں کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مگر راجہ ارجن کو معلوم تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اس نے منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر تین بار ایک خاص انداز سے چیتل کی آواز نکالی۔ تیسری آواز کے بعد مندر میں سے بوڑھا پجاری ہاتھ میں چراغ لئے باہر نکل آیا اور بولا ’’یہاں نہ دیوی ہے نہ دیوتا۔ تو یہاں کیا لینے آیا ہے۔ جا جنگل میں بسرام کر۔ میں تیرے لئے دیوتاؤں کے آگے پرارتھنا کروں گا۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 101 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

راجہ ارجن درختوں سے نکل کر بوڑھے پجاری کے سامنے آگیا۔ بوڑھے پجاری نے جھک کر راجہ کی تعظیم کی اور اشارے سے اپنے پیچھے آنے کو کہا۔ مندر میں مورتیوں کے استھان سنسان اور خالی پڑے تھے۔ ان پر ایک بھی مورتی یا بت نہیں تھا۔ پجاری راجہ ارجن اور گنگو کو مندر کے نیچے تنگ و تاریک تہہ خانے میں لے گیا جہاں مسلمان شہزادی شگفتہ بے بسی کی حالت میں پڑی تھی۔ وہ راجہ ارجن کو پہچانتی تھی۔ راجہ کو دیکھتی ہی اس پر پھٹ پڑی اور کہا کہ اس کا باپ اس کی ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا۔ راجہ ارجن نے قہقہہ لگا کر کہا

’’شہزادی! تم مسلمانوں نے میری ریاست کی جو اینٹ سے اینٹ بجانی تھی بجادی۔ اب ہمارے دیوتاؤں کا تم سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ ہم ایک ایک مسلمان سپاہی کو ہندوستان کی سرز مین پر ہی قتل کردیں گے اور ہمارے مندروں میں ناقوس اور گھنٹیوں کا شو رایک بار پھر بلند ہوگا۔‘‘

شہزادی شگفتہ نے بڑی جرأت کے ساتھ جواب دیا ’’ہندوستان پر اسلام کا جو پرچم بلند ہوا ہے اسے اب کوئی سرنگوں نہیں کرسکتا۔ تمہیں بہت جلد اس گستاخی کی سزا لے گی۔‘‘

گوالیار کے مکار راجہ ارجن نے راتوں رات شہزادی شگفتہ کو ایک ٹوکرے میں بند کرکے اونٹ پر رکھا اور گنگو کے ساتھ اپنے چار سپاہی بھی حفاظت کے لئے ساتھ کردئیے اور انہیں سومنات کے مندر کی طرف روانہ کردیا گیا۔ جس رات راجہ ارجن نے قلعے دار مہمندی کی بیٹی شہزادی شگفت کو سومنات کی طرف روانہ کیا اس سے اگلے روز فوج کے سپہ سالار نے شہزادی کی گمشدگی یا اغوا کے بارے میں مجھ سے مشاورت کی۔ یہ جتنے واقعات میں نے اوپر لکھے ہیں یہ سب کے سب بعد میں مجھے ایک ہندو سپاہی نے بتائے تھے جو شہزادی شگفتہ کو اغوا کرنے والوں میں شامل تھا۔ 

میں سپہ سالار سے وعدہ کیا کہ میں شہزادی کا سراغ لگانے کی پوری کوشش کروں گا۔ سپہ سالار نے کہا کہ یہ مسلمانوں کی عزت اور وقار کا مسئلہ ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ شہزادی شگفتہ کو کسی غیر مسلم نے اغوا کیا ہے اور اغوا کرنے والا ایک آدمی نہیں ہے۔ میں خود بھی ان ہی نقوش پر غور کررہا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ ہندوؤں کو اپنے بتوں کے پامال کئے جانے اور مندوں کے اجاڑ دئیے جانے کا شدید صدمہ ہے۔ اگرچہ بظاہر انہوں نے غزنوی لشکر کی اطاعت قبول کرلی تھی لیکن ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف سوائے نفرت کے اور کچھ نہیں اور وہ انتقام کی آگ میں جل بھن رہے تھے۔ چنانچہ میں غو رکرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک بلند مرتبت شہزادی کا اغوا کوئی عام ہندو نہیں کرسکتا۔ اس کے پیچھے کسی بااثر شخصیت کا ہاتھ ہے اور ہندوؤں میں اس وقت سوائے گوالیار کے راجہ ارجن کے اور کوئی نہیں ہوسکتی تھی۔ یہ راجہ اطاعت قبول کرنے کے بعد اپنے محلات میں ایک طرح سے نظر بند تھا اور وہ اتنا احمق نہیں تھا کہ اگر شہزادی کو اس نے اغوا کروایا تھا تو وہ اسے اپنے محل میں چھپا کر رکھتا۔ شاہی محلات کے چپے چپے کی تلاشی لی جاچکی تھی۔ قرین قیاس یہی تھی کہ شیزادی شگفتہ کو یا تو گولیار کے قریب و جوار میں کسی خفیہ جگہ پر چھپایا گیا ہے یا اسے قتل کردیا گیا ہے اور اسے شہر سے باہر کسی دوسری جگہ بھجوادیا گیا ہے۔ ایک بات ثابت ہوتی تھی کہ اس منصوبے میں اگر راجہ ارجن شریک تھا تو اسے کچھ ہندو مذہبی لوگوں یعنی پجاریوں وغیرہ کی بھی حمایت حاصل تھی۔

میں نے فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے شہر اور شہر کے باہر کے مندروں کا دورہ کیا جائے۔ ایک مسلمان یا سلطان محمود کی حکومت کے امیر کی حیثیت سے مجھے اس دورے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ میں نے ایک روز ابروؤں کا صفایا کیا ماتھے پر تلک لگایا ہاتھ میں کرمنڈل پکڑا او رایک رشی منی جوگی کا روپ دھار کر شہر کے مندروں کی طرف چل پڑا۔ جیسا کہ آپ کو علم ہی ہے کہ عاطون اور تاریخ کے غیر قانونی مسافر ہونے کے ناطے سے مجھ پر دنیا کی ہر قدیم زبان کے مطالب واضح ہوگے تھے اور تاریخ کے کسی بھی دور کی کوئی ایسی زبان نہیں تھی کہ جو میں بول اور سمجھ نہ سکتا تھا۔ اس اعتبار سے میں اس وقت کی ہندوؤں کی مقدس ترین زبان سنسکرت کا بھی ماہر تھا اور انپشدوں کے اشلوک مجھے زبانی یاد تھے۔ اسی لئے میں نے ایک ہندو رشی کا بھیس بدلا تھا۔ میں جس مندر میں بھی گیا وہاں کے پجاری نے میرا بھرپور خیر مقدم کیا کیونکہ وہ میرے ویدوں کے علم اور انپشدوں کے اشلوکوں سے بے حد متاثر ہوتا۔ مندر ویران ہوچکے تھے۔ بت پاش پاش ہوچکے تھے۔ پجاری آزردہ دل تھے۔ میں نے ان کے سامنے مسلمانوں کی مخالفت کی اور سلطانی فوج سے انتقام لینے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ بھی کہا کہ کسی ہمارے ہی ہندو بھائی نے شہزادی شگفتہ کو اغوا کرکے ہمارے جذبہ انتقام کو کسی حد تک ٹھنڈا کردیا ہے۔ اس سے میرا مطلب یہ تھا کہ پجاری مجھ کو شہزادی شگفتہ کے بارے میں کچھ بتائیں۔ مگر میں نے دیکھا کہ شہر کے مندروں میں رہنے والے پجاری شہزادی شگفتہ کے اغوا کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 103 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار