بلاول کا مشن اور آرڈیننسوں والی قانون سازی!

بلاول کا مشن اور آرڈیننسوں والی قانون سازی!
بلاول کا مشن اور آرڈیننسوں والی قانون سازی!

  



راولپنڈی کے لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کی برسی کا جلسہ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، بارہ برس کے بعد اس پنڈال میں پارٹی نے جلسہ کیا ہے اور اس بار مرکزی مقرر محترمہ کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری تھے،جلسے کی حاضری کے حوالے سے ہر کسی کی اپنی رائے ہے اور سبھی اسے اپنی اپنی عینک سے دیکھیں گے، ہمیں اس بحث میں اُلجھنے کی ضرورت نہیں،جلسہ بہرحال اچھا تھا اور پیپلزپارٹی والے بہت مطمئن ہیں ہم تو یہی عرض کریں گے کہ بلاول کی یہ تقریر بہرحال سابقہ سے کافی بہتر تھی، ان کی اُردو بول چال ترقی پذیر ہے، تو لیاقت باغ میں مزدوروں، کسانوں اور غریب عوام کی بات بھی کی گئی، ایسا محسوس ہوا کہ بلاول بھٹو از خود پیپلزپارٹی کے اساسی منشور کو پیش ِ نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ منشور آج کے دور میں بھی انقلاب آفرین ہے، بلاشبہ معیشت کے حوالے سے آج سوشلزم کہیں گم ہو چکا تاہم مراعات یافتہ اور محروم طبقات کے درمیان فرق کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے اور آج کے عوام گو ناگوں پریشانیوں سے دوچار ہیں۔گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اپوزیشن نے بھی ان کی بات نہیں کی، اور جوابی طور پر الزام اور الزام ہی سے گذارہ چلانے کی کوشش کی،لیکن اب بلاول نے پھر سے پسماندہ طبقات کی بات شروع کی ہے۔اگرچہ ”میڈیا وار“ کے اس دور میں کرپشن کا بیانیہ بہت طاقتور ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود الزام علیہ جماعتوں کے کارکن بھی یقین کئے بیٹھے ہیں،لیکن سیاسی تعصب اور جماعتی وابستگی ان کو اقرار سے روکتی ہے، تاہم اندازہ ہے کہ اب یہ بیانیہ بھی اپنی انتہا کو پہنچ چکا اور جب کوئی امر اپنی بلندی کو چھو لے تو پھر اس کی واپسی بھی لازم ہوتی ہے اور اب یہ آثار بھی نظر آنے لگے ہیں۔اس کا اندازہ تو یوں ہوتا ہے کہ ابھی گزشتہ روز ہی صدرِ مملکت کے دستخطوں سے ایک ترمیمی آرڈیننس جاری ہو کر نافذ العمل ہوا ہے، جس کے مطابق تاجر برادری کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا اور سرکاری ملازمین(خصوصاً بیورو کریٹ) کو سہولتیں دے دی گئی ہیں۔ یوں اب دائرہ عمل سیاست دانوں تک ہی رہے گا اور اس پر تنقید اور اعتراض بھی زیادہ ہو گا۔

نیب آرڈیننس میں یہ رعایت ترمیمی آرڈیننس ہی کے ذریعے دی گئی ہے، اگرچہ اس سے پہلے بھی نیب کا ترمیمی آرڈیننس ہی جاری کیا گیا،جس کے ذریعے پچاس کروڑ روپے سے زیادہ کرپشن کے ملزموں سے ہر قسم کی رعایت واپس لی گئی تھی۔یہ آرڈیننس دوسرے 8 آرڈی نینسوں کے ساتھ ایوان میں پیش کیا گیا تو ایک بڑے ہنگامے اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی واپسی والی شرط کے باعث اسے مجلس قائمہ کے سپرد کر دیا گیا تھا، حالانکہ بظاہر اسے ایوان سے منظور بھی کرا لیا گیا تھا۔ وہ اب بھی مجلس قائمہ کے زیر غور ہے، جس میں اپوزیشن کی بھی نمائندگی ہے لیکن ضرورت ایجاد کی ماں کے مترادف سے وہیں رہنے دیا گیا اور نیا ترمیمی آرڈیننس جاری کرا لیا گیا ہے۔ اب اگر اس پر اپوزیشن کی طرف سے اعتراض ہو تو وہ غیر منطقی نہیں ہو گا۔ہم نے بھی تو گزشتہ روز اسی کالم میں عرض کیا تھا کہ رجائیت کو مایوسی میں تبدیل ہونے سے بچایا جائے اور اب یہ آرڈیننس ہو گیا، جس کے ذریعے قومی اسمبلی اور پہلے سے زیر غور ترمیمی نیب آرڈیننس کو نظر انداز کر دیا گیا۔ یقینا سرکار کی قانونی ٹیم نے اس پر غور کر لیا ہو گا اور یہ ”نہلے پر نہلے“ والی بات نہیں ہو گی۔ بہرحال پارلیمینٹرین اور ماہرین آئین و قانون ہی اس پر رائے دیں گے، ہم تو اتنا عرض کریں گے کہ ہماری پارلیمانی رپورٹنگ کے پورے دور میں ایک آرڈیننس کو ایک سے زیادہ مرتبہ توسیع کر کے نافذکیا گیا،لیکن ایسا نہیں ہوا کہ ایک ہی آرڈیننس جو قومی اسمبلی میں پیش ہو کر مجلس قائمہ کے سپرد کر دیا گیا ہو،اسے وہیں رہنے دیا جائے اور اسی آرڈیننس (اصلی) میں ترمیم کا ایک نیا آرڈیننس جاری کر دیا جائے۔ انتظار کرتے ہیں کہ ردعمل کیا آتا ہے، تاہم یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے جو یہ کہا تھا کہ حکومت قانون سازی آرڈی نینسوں کے ذریعے کرے گی،جب انہوں نے یہ کہا تو ایک دھمکی تھی، جو اپوزیشن کو دی گئی کہ ہمارے ساتھ تعاون کرو اور ہماری منشاء کے مطابق قانون سازی ہونے دو ورنہ آرڈیننس تو جاری ہوں گے۔ اب قانونی اور آئینی طور پر جب اسمبلی کا اجلاس نہ ہو رہا ہو تو حکومت کوئی بھی قانون آرڈیننس کے ذریعے نافذ کر سکتی ہے، جو فوراً نافذ العمل ہو جاتا ہے، تاہم اس کی مدت 120 دن ہوتی ہے، اور اس دوران اسے قومی سمبلی سے منظور کرانا ہوتا ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس میں ایک بار پھر چار ماہ کی توسیع آرڈیننس کے ذریعے ہو سکتی ہے،لیکن تابکہ جب تک ایسے قانون کو اسمبلی کی منظوری حاصل نہ ہو یہ عارضی ہی رہتا ہے اور اسمبلی میں جب بھی آئے گا اعتراض پہلے سے زیادہ ہوں گے،اس پر غور کرنا چاہئے کہ پہلے ہی حکومت نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ متعین کر کے پھر اجلاس بلانے سے اجتناب کیا اور سینیٹ کے اجلاس کو بھی ایک سو بارہ دن سے زیادہ ہو چکے، سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اس پر سخت احتجاج بھی کیا ہے۔

بات کہاں سے شروع کی اور کہاں تک چلی گئی، زبان تو پھسلتی ہے یہاں قلم بھی پھسل گیا۔ بہرحال راولپنڈی کے جلسے نے اور کوئی اثر کیا ہو یا نہ کیا ہو، جیالوں کو تو جلا بخشی ہے اور وہ سب خوش ہیں۔اگرچہ معترض کہتے ہیں کہ پورے ملک سے حاضرین بُلا کر بھی جلسہ گاہ نہ بھر سکی،اس کا جواب بھی پیپلزپارٹی پر واجب ہے۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو کچھ سامنے ہے، اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مسلم لیگ(ن) بھلے دھیمی چال پر ہو،لیکن پیپلز پارٹی اب مقابلے پر ہے اور بلاول یقینا تحریک ہی کے موڈ میں نظر آئے، یہ سب پیپلزپارٹی کی منصوبہ بندی کے مطابق ہے، اب اگر شیخ رشید کی پیش گوئی پوری ہو کر بلاول کو بھی جیل جانا ہے تو ایسا ہونا ہی چاہئے کہ اسے بھی تو لیڈر بننا ہے کہ نہیں؟

مزید : رائے /کالم