’سیربین کا میچ ختم ہوا،شب بخیر‘ (1)

 ’سیربین کا میچ ختم ہوا،شب بخیر‘ (1)
 ’سیربین کا میچ ختم ہوا،شب بخیر‘ (1)

  



یہ 1988 ء کی بات ہے۔ مَیں بی بی سی عالمی سروس کے صدر دفتر بش ہاؤس لندن میں اردو کا نیوز بلیٹن پڑھ رہا تھا۔ اعلان ہوا ”خبروں کے بعد خبروں کا پس منظر۔ہمارے نامہ نگاروں کے مراسلوں اور تجزیوں پر مبنی پروگرام سیربین، جسے آپ کے لیے اطہر علی نے ترتیب دیا اور وہی پیش کر رہے ہیں“۔انگلینڈ کی مائیک گیٹنگ والی کرکٹ ٹیم اُن دنوں پاکستان کے دورے پہ تھی، چنانچہ پروگرام کے آخر میں کراچی سے جانے پہچانے مبصر قمر احمد کی لائیو رپورٹ نشر ہوئی۔ ساتھ ہی کلوزنگ اناؤنسمنٹ: ”سامعین، تیسرے کرکٹ ٹیسٹ کا کھیل ابھی جاری ہے، لیکن سیربین کا میچ یہیں ختم ہوا۔ اطہر علی کو اجازت دیجیے، شب بخیر“۔ ہماری ایک نئی ساتھی حیران رہ گئیں کہ اطہر صاحب نے جو کچھ کہا معمول سے ہٹ کر تھا۔ بی بی سی اردو کی پرانی ٹیم مطمئن تھی کہ آج کے پروگرام پہ بھی اُن کے سینئر پروڈیوسر کے نام کی مہر نمایاں رہی۔ یہ احساس  البتہ کسی کو نہیں تھا کہ ہر کھیل کی طرح ایک دن سیربین کا میچ بھی سچ مچ ختم ہو جائے گا۔ اب وہ دن آ پہنچا ہے۔

بی بی سی ریڈیو پہ سیربین کب شروع ہوا اور کیسے؟ سالِ نو کے آغاز سے یہ مقبول و معروف پروگرام اور میڈیم و شارٹ ویو پہ اردو نشریات کے خاتمے کی خبر پر منجھے ہوئے صحافی اور اردو سروس کے سابق سربراہ عباس ناصر نے اخباری صفحات میں روشنی ڈالی ہے، لیکن دو روز ہوئے کہ اِس پروگرام کی تخلیق کے عینی شاہد، بلکہ سلطانی گواہ سید راشد اشرف سوشل میڈیا کے توسط سے ہمارے لیے مزید تفصیل لے کر سامنے آ  گئے۔ راشد اشرف نے، جنہیں اردو براڈ کاسٹ  جرنلزم کی تجسیم سمجھنا چاہئے، اپنے تازہ اسٹیٹس میں لکھا:”بھائی عباس ناصر، سیربین کی Obit  اچھی لکھی ہے۔ پاکستان کے سیاسی تنزل کے مختلف ادوار میں سیربین کے اہم رول کی آپ نے بخوبی نشاندہی کر دی ہے۔ ایک چھوٹی سی بات جو شاید آئندہ کبھی کام آ جائے کہ اِس پروگرام کی ابتدا کرنے والے دو اشخاص میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے، دوسرا ابھی زندہ ہے۔ اطہر علی نے اِس کا خاکہ تیار کیا تھا اور راشد اشرف نے اِس کی عملی شکل میں اُن کی مدد کی تھی“۔

سید راشد اشرف مزید لکھتے ہیں کہ  ”1971ء  کا ہمیشہ ذکر ہوتا ہے، اِس بات کا نہیں کہ جون کے مہینے تک راشد اشرف نے انتہائی ہنگامہ خیز حالات میں سیربین پیش کرنے کی ساری ذمہ داری اٹھائی تھی۔ جون کے وسط میں اِس ذمہ داری سے علیحدگی اختیار کر لی،کیونکہ بی بی سی کی رپورٹنگ پہ اُنہیں سخت اعتراض تھا۔ اِس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ لوگوں کو کیا یاد ہے، کیا نہیں“۔ جواب میں برادرم عباس ناصر نے اپنی طبعی شرافت سے کام لے کر اور ارفع ترین صحافتی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے وضاحت کی کہ انہوں نے بی بی سی کی ویب سائٹ پہ اور اردو سروس کے دیرینہ نگران ڈاکٹر ڈیوڈ پیج کی تحریروں میں متعلقہ تاریخی حوالے تلاش کرنے کی  بھر پور کوشش  کی تھی۔ ”پھر بھی مَیں اِس کوتاہی پہ آپ (راشد اشرف) سے غیر مشروط معافی کا طلب گار ہوں آئندہ  جونہی موقع ملا  اِس کی تصحیح کر دی جائے گی۔اگر آپ چاہیں تو مَیں روزنامہ ڈان سے درخواست کر سکتا ہوں کہ آپ کے وضاحتی بیان کا ترجمہ  ایڈیٹر کے نام مراسلے کے طور پہ شائع کر دیا جائے۔“ پڑھتے ہی میرے منہ سے نکلا ”گل ہوئی نا“، مگر راشد اشرف کے یہ الفاظ دل میں چبھ سے گئے: کہ ”فرق نہیں پڑتا کہ لوگوں کو کیا یاد ہے، کیا نہیں“۔

مَیں ذاتی حیثیت میں بہت حد تک  انسانی اور کائناتی  ارتقا کے تسلسل کا قائل ہوں، اِ س لئے یہی کہوں گا کہ ہر لحظہ بدلتی ہوئی دنیا میں یہ عمل جاری و ساری رہے گا۔ پر یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو نشریات کی روایت ٹوٹنے کی خبر پہ دوسروں کے علاوہ خود میرے نام تعزیتی پیغامات کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ چیدہ چیدہ نمونہء کلام ملاحظہ ہو: ”افسوس صد افسوس“، ”انتہائی دکھ اور ناسٹیلجیا“، ”میرے دادا، میرے والد بی بی سی اُردو پابندی سے سنتے تھے۔ سیربین، شیر دریا، جی ٹی روڈ اور شیر دریا کبھی نہیں بھول سکتا“، ”یہ ایک عہد کا خاتمہ ہے کہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ذرائع ابلاغ بھلے جتنی ترقی کر لیں، پاکستان میں بی بی سی کا مطلب صرف ریڈیو سروس لیا گیا۔“ یہ آخری الفاظ کسی عام سامع کے نہیں،بلکہ ڈاکٹریٹ سے مزین ایک استاد کے ہیں، جو ایک اعلیٰ درس گاہ میں ادب کی تعلیم دیتے ہیں اور انہیں یہ اطلاع مل چکی ہے کہ ریڈیو سیربین کے خاتمے کے باوجود ایف ایم پہ اردو کے بلیٹن، ٹی وی پہ حالاتِ حاضرہ کا پروگرام اور  آن لائن خبریں جاری رہیں گی۔ انہی کے تعلیمی و تدریسی مقام کے حامل ایک اور استاد نے لکھا: ”ملک صاحب، کل بی بی سی کی ویب سائٹ سے یہ خبر پڑھ کر دُکھ ہوا۔ بچپن سے جوانی تک کے دَور کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں، اُن آوازوں سے جو محنت اور سلیقے سے ہماری سماعتوں کا متواتر کئی برس حصہ بنی رہیں“۔

آج کل ہر روز کوئی نہ کوئی یوم منانے کا جو روج چل نکلا ہے اسی بنا پہ سیربین کے خاتمہ پر میرا دِل آج اپنا ہی انٹرویو کرنے کو چاہے تو اِس پہ حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ چند سال پہلے کسی شخص کو گولی مارے جانے کی بریکنگ نیوز نشر ہوتے ہی ایک نجی چینل کو مستعد رپورٹر نے مرحوم کی بیوی سے پوچھا تھا کہ ”بیوہ ہونے پر آپ کیا محسوس کر رہی ہیں؟“ اِسی طرح مَیں بھی خود سے یہ سکہ بند جرمن سوال کر سکتا ہوں کہ شاہد ملک تم نے نئی صدی شروع ہونے سے پہلے گاہے گاہے سیربین کی جو پیش کاری کی، سچ سچ بتاؤ کہ اُس پہ سامعین کے تاثرات کیا تھے یا نشریاتی صحافت سے لندن اور پھر پاکستان میں طویل وابستگی کے بعد تمہیں اخباری کالم نویسی کا خیال کیوں آ گیا۔ مجھے صرف سوال نمبر دو وارا کھاتا ہے، کیونکہ پہلے سوال کے جواب میں اپنی ’ریٹنگ‘ بڑھانے کے لئے اگر مَیں نے گراف کو ذرا اوپر نیچے کر دیا تو اِس کا سوؤ موٹو نوٹس لیا جا سکتا ہے اور پھر سخت سردی کے موسم میں معاملہ نیب کے پاس ہوگا۔

میڈیم اور شارٹ ویو پر سیربین کی ریڈیو نشریات ختم ہونے پر وہ مرحلہ یاد آ رہا ہے جب بی بی سی کے80سال مکمل ہونے پرمجھے اب سے آٹھ برس پہلے دو دن کے نوٹس پر مجھے لندن طلب کیا گیا۔ مطالبہ یہ تھا کہ مائیکروفون کے سامنے بیٹھ کر اُس وقت کو یاد کرو جو تم نے ورلڈ سروس کے صدر دفتر بُش ہاؤس میں گزارا (اور اِس میں شرمانے کی کوئی ضرورت نہیں)۔ یہ کرم فرمائی اِس جرم کا انعام تھی کہ بندہٗ عاجز نے اول اول پروڈیوسر پریزنٹر اور پھر نامہ نگار کے طور پر چوتھائی صدی تک سامعین کی سمع خراشی کی۔ اگر محض ذاتی تجربہ ہی گفتگو کا واحد حوالہ ہوتا تو مائیک کے سامنے مادری زبان میں اتنا کہہ سکتا تھا کہ ”بیٹا جی، بی بی سی ہوندی سی ساڈے زمانے وچ، ہُن تے اوہ بی بی سیاں نئیں رہیاں“۔ لیکن جو سوال داغے گئے وہ سنجیدہ،بلکہ تجزیاتی نوعیت کے نکلے۔ یہی کہ تب اور اب کے نیوز بلیٹن میں کیا فرق ہے، بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی سے کتنا فائدہ یا نقصان ہوا، اور حالاتِ حاضرہ سے ہٹ کر سائنس، ادب، آرٹ، کلچر اور انگریزی زبان سکھانے کے پروگرام کیا آج بھی عوامی دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں؟

مشکل یہ ہے کہ مجھ جیسا غیر ذاتی سوچ کا دعویدار بھی ایک خاص عمر کو پہنچ کر وقت کے بہاؤ میں عام طور پر کسی نہ کسی مخصوص لمحے کا اسیر ہو چکا ہوتا ہے، چنانچہ ہر اُس موضوع پہ غور کرتے ہوئے، جس کا تعلق کسی انسانی صورت حال سے ہو وہ اُسی ایک لمحے کے عطا کردہ معیارات کو بنیاد بنا کر تازہ حقائق کو پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس تناظر میں دیکھیں تو آج سے ٹھیک پینتیس سال اور چھبیس دن پہلے بُش ہاؤس لندن میں داخل ہوتے ہی دل پہ نقش ہو جانے والی پہلی یاد تو اُردو سروس کے انگریز سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ پیج کی شفقت آمیز علمیت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سینئر ساتھیوں کا سرپرستانہ خلوص کہ اُس مرحلے پر میرا بچپن ختم ہو رہا تھا اور اُن میں سب سے ”نوجوان“ کا پچپن شروع ہو رہا تھا۔ دوسرا اہم نکتہ یہ کہ کچھ ہو جائے، بی بی سی کے ہر لینگوئج سیکشن کو باہم آواز ملائے رکھنی چاہئے۔ مطلب یہ ہوا کہ اردو پروگراموں سے وابستہ لوگ صرف اُردو نشریات کا حصہ نہیں تھے،بلکہ یہ اردو زبان میں بی بی سی کی عالمی سروس تھی۔

تو پھر ہوا کیا؟ اِس کا جواب آئندہ اتوار دینے کی کوشش کی جائے گی۔ (جاری ہے) 

مزید : رائے /کالم