مسلمان،مغربی معاشرہ اور نقل مکانی

مسلمان،مغربی معاشرہ اور نقل مکانی
مسلمان،مغربی معاشرہ اور نقل مکانی

  



میرے بیٹے اور داماد مزید تعلیم کے لئے باہر کے ملکوں میں گئے،پھر اُنہی ملکوں کے ہو کر رہ گئے، اسی وجہ سے مجھے خاص طور پر آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا کا سفر کرنے کا زیادہ اِتفاق رہتا ہے۔ اِن تین ممالک میں نقلِ مکانی کر کے آنے والے مسلمان زیادہ تر عرب، پاکستانی، ہندوستانی، افغانی، اِنڈونیشین، ترکی اور شمالی افریقہ کے ممالک کے باشندے ہیں۔ یورپ اور برطانیہ میں رہنے والے مسلمان تعداد میں براعظم امریکہ اور آسٹریلیا سے بہت زیادہ ہیں۔ اِن ممالک میں قیام کے دوران میرا زیادہ وقت لائبریریوں میں گزرتا ہے۔ یہاں کی محلہ لائبریریاں بھی کتابوں سے مالا مال ہوتی ہیں۔ دنیا کے ہر موضوع پر کتابیں مل جائیں گی، بلکہ اگر ان لائبریریوں کے نواح میں اُردو، پنجابی، چینی یا عربی بولنے والوں کی مناسب آبادی رہتی ہو تو اِن کی زبانوں کی کتابیں بھی مل جائیں گی۔ اس مرتبہ مجھے آسٹریلیا کے مسلمان تارکین وطن کے بارے میں مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔میری اس عاجزانہ تحقیق کا اطلاق کسی خاص قومیت کے مسلمانوں پر نہیں ہوتا،بلکہ آسٹریلیا میں رہنے والے تمام مسلمانوں کے معاشرتی اور ثقافتی حالات سے تعلق رکھتا ہے۔جن جن مغربی ممالک میں مسلمان نقلِ مکانی کر گئے ہیں، وہاں بھی آپ قریباً آسٹریلیا جیسے ہی مسائل اور حالات پائیں گے۔دنیا میں نقلِ مکانی کی بڑی وجہ ایک ہی رہی ہے اور وہ ہے معاشی…… زمانہ قدیم میں ملکوں کو فتح کرنے کے لئے جب بادشاہ حملہ آور ہوتے تھے تو اُن کے ساتھ کثیر آبادی مفتوحہ ملکوں میں آکر آباد ہو جاتی تھی۔ برصغیر پر آریہ(Aryan) حملہ آور وسطی ایشیا کے بنجر اور بے آب و گیاہ میدانوں سے اُٹھتے تھے اور وادیئ سندھ کی زرخیز زمینوں پر قابض ہو جاتے تھے۔ سکندرِ اعظم سے لے کر مسلمان فاتحین تک، نقلِ مکانی ہوتی رہی اور برِصغیر بہت سی قوموں کا گہوارہ بن گیا۔ یورپ میں آباد پانچ کروڑ مسلمان ہیں جو 39 ممالک سے نقلِ مکانی کر کے آئے۔ اس تعداد میں ناروے اور برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی بھی شامل ہیں۔اِن 5 کروڑ تارکینِ وطن مسلمانوں کی دوسری یا تیسری نسل چل رہی ہے، لیکن اِن میں سے صرف2 فیصد آبادی ہو گی جو امیر، کبیر کہلا سکتی ہے،البتہ 75 فیصد سے زیادہ خوشحال ہو چکے ہیں۔ کینیڈا میں تو 95 فیصد مسلمان معاشی تارکین و طن ہیں۔ باقی 5 فیصد ایسے ہیں جو اپنے ملکوں کا سرمایہ لے کر کینیڈا بھاگ آئے ہیں۔ اِن ممالک میں عربی، مصری، پاکستانی، انڈونیشین اور ایرانی مسلمان شامل ہیں۔

جو طالبِ علم مغربی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے لئے جاتے ہیں، اُن میں سے قریباً 75 فیصد اُنہی ممالک میں ٹِک جاتے ہیں، اس کی وجہ بھی دراصل معاشی ہے، کیونکہ غریب یا غیر ترقی یافتہ مسلمان ممالک کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعداپنے ملک میں مناسب ملازمت یا روزگار نہیں ملتا۔ پاکستان کو ہی دیکھ لیں، سوائے اعلیٰ تربیت یافتہ ڈاکٹروں یا انجینئروں کے، جن کو پاکستان واپس آ کر اچھے مواقع مل جاتے ہیں، باقی تمام شعبوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بغیر سفارش یا تعلق کے کوئی ڈھنگ کی ملازمت نہیں ملتی۔ایسے ہی حالات دیگر ترقی پذیر مسلمان ممالک کے ہیں۔ آسٹریلیا میں مسلمانوں کی آبادی قریباً 7 لاکھ ہے۔ اس آبادی کا 90 فیصد سڈنی، میلبورن اور پرتھ میں آباد ہے۔ اس آبادی کا کم از کم 20-25 فیصد غیر قانونی تارکینِ وطن پر مشتمل ہے، جن میں زیادہ تر اِنڈونیشین، بنگلہ دیشی، افغانی اور پاکستانی شامل ہیں۔ اِن غیر قانونی تارکینِ وطن کو غیر معینہ مدت کے لئے Detention کیمپوں میں رکھا جاتا ہے۔یہ بد نصیب اگر قانونی حیثیت حاصل بھی کر لیتے ہیں تو اِن کے پاس نہ کوئی اَثاثہ ہوتا ہے، نہ رقم۔ آسٹریلیا کے بڑے شہروں میں اِن کو گھٹیا سے گھٹیا روزگار بھی مل جائے تو کر لیتے ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن کے علاوہ مسلمان جو قانونی طور پر بھی آتے ہیں، اُن کو بھی ڈھنگ کی ملازمت مشکل سے ہی ملتی ہے۔ صرف وہ مسلمان نوجوان جو آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں اور یہیں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، اُن کو مناسب روزگار یا ملازمت بھی مل جاتی ہے۔ اس کیٹیگری میں زیادہ تر وہ نوجوان ہوتے ہیں، جن کے پیچھے دولت مند ماں باپ ہوتے ہیں اور اُن کے مالی ذرائع کے بَل بوتے پر فوراًہی اپنے لئے گھر بھی خرید لیتے ہیں اور شادی کر کے اپنے بوڑھے والدین کے لئے 10 سال کا سپر ویزا حاصل کر لیتے ہیں یا شہریت لے لیتے ہیں۔ قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن اپنے ساتھ اِتنا مال و متاع ضرور لاتے ہیں کہ وہ آسانی سے نئے ملک میں آباد ہو سکیں۔ مسلمان تارکینِ وطن کے چند مسائل ایسے ہیں جو ہر مغربی معاشرے میں اُن کے ساتھ چپکے رہیں گے۔ سب سے پہلا مسئلہ Racism کا ہے۔ مغربی معاشرے میں ایشین کے خلاف خصوصی طور پر نسل پرستی موجود ہے، لیکن مسلمان تارکینِ وطن کے خلاف تو کچھ زیادہ ہی تعصبات ہیں۔ بعض ممالک میں ذرا کھل کر نسل پرستی کا اظہار ہوتا ہے اور بعض مغربی ملکوں میں خاموش نسل پرستی نظر آتی ہے۔

آسٹریلیا میں بھی نسلی تعصب موجود ہے، لیکن کم کم۔ دراصل سفید فام معاشرہ ثقافتی طور پر یکساں معاشرہ ہے،علاوہ رنگ روپ اور مذہب کی یکسانیت کے۔ گورے معاشرے کا کھانا پینا، لباس، تفریح کے طریقے اور مخلوط پارٹیاں وغیرہ ایک ہی طرح کی ہیں، جبکہ مسلمان تارکینِ وطن دوسری اور تیسری نسل تک اپنی خواتین کو تیراکی کے نیم عریاں لباس میں سمندر کنارے جانے نہیں دیں گے اور نہ ہی اُن کو کھلم کھلا ڈیٹنگ کرنے دیں گے، خاص طور پر کسی گورے نوجوان کے ساتھ۔ مغربی معاشرے میں جونہی لڑکے یا لڑکی نے ہائی سکول کر کے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا، وہ ماں باپ کا گھر چھوڑ کر ہوسٹل میں چلا جائے گا یا Sharing رہائش لے کر ماں باپ کی دسترس سے باہر نکل جائیں گے۔ اِن ترقی یافتہ معاشروں میں طالب علموں کو عارضی ملازمتیں یا روزانہ کی اُجرت پر کام بھی مل جاتا ہے، جس سے وہ اپنے اخراجات چلاتے ہیں اور ڈئیزانر لباس بھی خریدتے ہیں۔ اپنے ماں باپ پر بوجھ نہ بننے کی وجہ سے عموماً گوروں کی نوجوان نسل مادر پدر آزاد ہو جاتی ہے۔ مسلمان ماں باپ اپنی لڑکیوں پر پابندی ضرور رکھتے ہیں۔اس کے دو ہی نتائج نکلتے ہیں۔ اگر ماں باپ امیر ہیں تو وہ اپنی لڑکی کو تنہا یا دوسری لڑکیوں کے ساتھ Sharing فلیٹ لے کر دیں گے، ورنہ اُسے گھر بٹھا کر شادی کی فکر کریں گے، لیکن روشن خیال ماں باپ بیٹیوں کو Selective ملازمت کرنے کی اِجازت دے دیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک کی معیشت اِسی لئے آگے بڑھتی ہے،کیونکہ وہ اپنی خواتین پر کسی بھی شعبے میں ملازمت کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگاتے، جبکہ مسلمان تارکینِ وطن کی پہلی نسل تو اپنی خواتین کے بارے میں بہت ہی Conservative ہوتی ہے۔ تیسری اور چوتھی نسل تک یہ پابندیاں قریباً ختم ہو جاتی ہیں۔ مذہب کی پکڑ بھی چوتھی/ پانچویں نسل تک ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ پاکستانی مسلمان تارکینِ وطن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اسلامی شناخت کو قائم رکھیں۔ آج سے 20 سال قبل، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپ میں بچوں کو قرآن پڑھانے کے لئے قاری صاحبان پاکستان سے آتے رہتے تھے، ویزے کی پابندی بھی کم تھی، لیکن اَب زیادہ تر بچے Face timeاور Skype پر قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ اہتمام بھی نوجوان شادی شدہ تارکینِ وطن کی پہلی نسل زیادہ کرتی ہے، دوسری نسل یہ تکلف بھی نہیں کرتی۔

برصغیر کے مسلمانوں کی پہلی نسل، جو معاشی ضروریات کے لئے آتی ہے، وہ عموماً جوان نسل ہوتی ہے۔ اِن لوگوں کو سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اکثر بغیر ہنر کے ہوتے ہیں اور اگر کوئی ہنر جانتے بھی ہیں تو وہ اپنے اُس ہنر کو High-tech ماحول میں استعمال کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ امریکہ نے تو مسلمان ممالک کے لئے Immigration کو قانونی طور پر ہی بے پناہ محدود کر دیا ہے۔ 2019ء میں امریکی کانگرس نے قانون پاس کیا ہے کہ امریکہ میں 90 فیصد تارکینِ وطن اَب صرف ہندوستان اور چین سے آئیں گے، جو امریکی Labour market میں کھپ جانے کے قابل ہوں۔ باقی 10فیصد سالانہ کو ٹہ تمام غریب ممالک کے لئے مختص ہے، جس میں مسلمان ملک بھی شامل ہیں۔ دوسرا قانون یہ ہے کہ اگر کوئی بھی خاندان بغیر کسی سپانسر کے ترکِ وطن کر کے آتا ہے تو اُس خاندان کے پاس پانچ سال کا علاج معالجے کا خرچہ بحساب دس ہزار ڈالر فی کس سالانہ، یعنی اگر پانچ افراد کا خاندان ترکِ وطن کر کے امریکہ جاتا ہے تو وہ بارڈر پر اڑھائی لاکھ ڈالرز کی موجودگی کا ثبوت دے گا۔ کسی پاکستانی خاندان کے پاس اڑھائی لاکھ ڈالر ہوں تو وہ ترکِ وطن ہی کیوں کرے گا؟ پاکستان میں ہنر مندنوجوان تیار کرنے کے لئے کئی اِدارے بنائے گئے ہیں، جو کامیابی سے چل رہے ہیں،مگر جس تیزی سے دنیا میں ٹیکنالوجی تبدیل ہو رہی ہے، اُس تیزی سے مسلمان ممالک کے تارکین وطن نوجوان ترقی نہیں کر رہے۔ آج سے -20 25 سال پہلے مسلمان اور سکھ تارکینِ وطن ریڈیو ٹیکسی چلا کر اچھے خاصے پیسے کما لیتے تھے، لیکن UBER نے ریڈیو ٹیکسی کا کاروبار، جو سڈنی، نیو یارک،ٹورنٹو، ہوسٹن اور شکاگو میں مسلمان تارکینِ وطن کے ہاتھ میں تھا، بالکل ہی چوپٹ کر دیا ہے۔ معاشی آسودگی مسلمان ثقافت کی بھی حفاظت کرتی ہے۔ مہنگا حلال گوشت بھی افورڈ کیا جا سکتا ہے، لیکن میَں نے دیکھا کہ مسلمان تارکینِ وطن کی تیسری نسل حلال گوشت کے لئے اِتنی فکر مند نہیں ہوتی۔ صرف ایک ملک تھائی لینڈ ہے،جہاں قریباً 4-5 لاکھ پٹھان مسلمان 4 پشتوں سے آباد ہیں، اُنہوں نے اپنے گھر کے اندر کا ماحول پشاور یا مردان جیسا ہی رکھا ہوا ہے۔ برطانیہ میں بھی مسلمانوں کی چوتھی نسل کسی نہ کسی طرح پاکستان اور اسلام سے جڑی ہوئی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...