نیب قانون میں تبدیلی 

 نیب قانون میں تبدیلی 

  



وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کی تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے یہ دھماکہ خیز اعلان کر کے تالیاں وصول کیں کہ بزنس برادری کا ایک بڑا مسئلہ اس کے معاملات میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی مداخلت تھی، اسے آج حل کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے تاجروں اور صنعت کاروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آرڈی ننس کے ذریعے نیب کو تاجر برادری سے الگ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ بزنس برادری وسائل پیدا کرتی ہے، وہ قوم آگے نہیں بڑھ سکتی جہاں تجارتی طبقہ مسائل سے دو چار رہے۔ حکومت کا کام تاجروں کو سہولتیں اور ساز گار ماحول فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم کی واضح رائے تھی کہ نیب کو  صرف پبلک بزنس ہولڈرز کی سکروٹنی کرنی چاہئے۔

نیب قانون میں ترمیم کے لئے وفاقی کابینہ نے آرڈیننس کا جو مسودہ منظور کیا تھا، بعد ازاں صدر مملکت نے بھی اس کی منظوری دے دی، اور یوں نیب کے دائرہ کار اور طریق کار میں بنیادی تبدیلی کر دی گئی۔ اس  پیش قدمی پر وزیر اعظم کو یقیناً مبارک باد پیش کی جانی چاہئے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں نافذ ہونے والے نیب قانون سے شکایات تو ہمیشہ سامنے لائی جاتی رہیں، لیکن اس پر موثر نظر ثانی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔ جنرل پرویز مشرف نے 1999ء میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے کچھ عرصہ بعد ہی کرپشن کے خاتمے کے لئے قومی احتساب بیورو قائم کیا تھا، اور ایک خصوصی قانون کے تحت اسے وسیع ترین اختیارات سونپ دیئے گئے تھے۔ نیب کسی بھی تفتیشی یا تحقیقاتی ادارے، یا کسی بھی ملکی قانون کو خاطر میں لائے بغیر کرپشن کی بو سونگھتے ہوئے کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف کارروائی کر سکتی تھی۔ اس کے چیئرمین کی تقرری کا اختیار صدر مملکت کے پاس تھا، اس لئے عملاً یہ انہی کو جواب دہ اور انہی کے ماتحت تھا۔ اس ادارے کی شہرت کو شدید نقصان اس وقت پہنچا جب جنرل پرویز مشرف کی سیاسی ضرورتوں اور خواہشات کے تحت اس نے مختلف سیاست دانوں کے خلاف اقدامات کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ تاثر عام ہوتا گیا کہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے اس کا استعمال کیا جا رہا ہے اور جنرل پرویز مشرف کے حامیوں کا جتھہ بنانے کے لئے نیب قانون کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے…… اس کے چیئرمین چونکہ جنرل موصوف مقرر کرتے تھے، اس لئے ان کے حکومتی حلیفوں کو اس سے کوئی شکایت نہیں ہو سکتی تھی۔ بعد ازاں اس میں تبدیلی یہ لائی گئی  کہ قومی اسمبلی کے قائد ایوان (وزیراعظم) اور قائد حزب اختلاف دونوں کے اتفاق رائے سے چیئرمین مقرر کیا جانے لگا۔ جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار ختم ہونے کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ حکومتیں بنانے کے مواقع آئے۔ دس سال تک دونوں قانون سازی کرنے کا کلی اختیار رکھتی تھیں۔ دونوں کو آئین میں ترمیم کرنے کے لئے دو تہائی اکثریت بھی حاصل تھی۔ اس کا بھرپور استعمال اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت کیا گیا۔ صوبوں اور مرکز کے درمیان اختیارات کی نئی تقسیم عمل میں آئی، اور قانون سازی کی مشترکہ فہرست کتاب آئین سے خارج کر دی گئی۔اس ترمیم کے بعض پہلوؤں پر مختلف حلقوں کی طرف سے آج بھی بے اطمینانی کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن صوبوں کو اختیارات منتقل کرنے کے اس اقدام سے اب پیچھے ہٹنا آسان نہیں رہا۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے نیب کے قانون میں موثر تبدیلی کرنے، اسے دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق سے ہم آہنگ کرنے، اور احتساب کے دوسرے اداروں پر حاصل فوقیت کو ختم کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔پیپلزپارٹی کے دور میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں پیپلزپارٹی نیب کے قانون کو ایک دوسرے کے لئے خاص سمجھتی رہیں …… تاجروں، صنعت کاروں اور سرکاری افسروں کو بھی اس سے وسیع تر شکایات پیدا ہوتی گئیں۔ اختیارات کا استعمال اس طرح کیا جانے لگا کہ مذکورہ طبقات کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔ سرکاری افسر فیصلہ کرنے سے گھبرانے لگے کہ کسی بے ضابطگی یا کوتاہی کو بنیاد بنا کر ان کا گھیرا تنگ کیا جا سکتا تھا، اور انہیں حوالہئ زنداں کر کے رسوا کیا جا سکتا تھا۔ بزنس برادری کو شکایت تھی کہ جو امور ایف بی آر، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، سٹیٹ بنک  اور دوسرے  اداروں کے اختیار میں آتے ہیں وہاں بھی ان کی اتھارٹی ختم ہو رہی ہے اور  ان کے فیصلوں کو نیب تلے روندا جا رہا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی رہنماؤں کے خلاف جس طرح کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں ان کے خلاف جس طرح کے مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں ان کی ایک جھلک اعلیٰ عدالتوں کے ان فیصلوں میں دیکھی جا سکتی ہے جو گزشتہ چند ماہ میں صادر ہوئے ہیں اور جن سے نیب کے تفتیش کاروں کی اہلیت کے بارے میں انتہائی سنجیدہ سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے نیب نیازی ”گٹھ جوڑ“ کا الزام عائد کیا جا رہا ہے اور احتساب کی کارروائیوں کو یک طرفہ اور انتقامی قرار دینے  والے پُرجوش ہیں …… اس پس منظر میں وفاقی کابینہ نے جو ترمیمی آرڈی نینس منظور کیا ہے، اس کے بعد سرکاری افسروں اور بزنس کمیونٹی کو سکون کا سانس لینے کا موقع ملے گا۔ دونوں طبقے اپنے اپنے دائرے میں سکون اور اطمینان سے کام کر سکیں گے…… اس حکومتی اقدام پر تنقید کرنے والے بھی کم نہیں ہوں گے۔ کئی تبصرہ نگاروں نے تو نیب کو بند کرنے کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اسے صرف سیاست دانوں تک محدود کرنے سے اس پر تالہ لگانا ہی بہتر ہے لیکن یہ جذباتی (یا منفی) ردعمل ہے۔ احتساب کسی ایک ادارے کا کام نہیں ہے اس کے لئے ہر ادارے کو اپنی اپنی سطح پر اپنے اپنے دائرے میں کام کرنا ہوگا۔ عدالتی نظام کو موثر بنانا ہوگا۔ نیب کے دانت بھی باقی رہنے چاہئیں لیکن اسے کہاں کاٹنا ہے، کس کو کاٹنا ہے اور کس وقت کاٹنا ہے یہ  واضح کرنا بہرحال ایک قومی ضرورت ہے۔ 

مزید : رائے /اداریہ


loading...