2019ء جنگ بندی کی خلاف ورزی میں دو گنا اضافہ،3200واقعات رونما ہوئے،بین الاقوامی میڈیا

2019ء جنگ بندی کی خلاف ورزی میں دو گنا اضافہ،3200واقعات رونما ہوئے،بین الاقوامی ...

  



سری نگر(آئی این پی)پاکستان اور بھارت کے مابین سال 2019 میں 3200 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جو گزشتہ دو برسوں کی نسبت کافی زیادہ ہے۔ 2018 میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے 1610 واقعات پیش آئے تھے، جبکہ 2017 میں یہ تعداد 1 ہزار تھی۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد تقریبا 1553 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئینی شق 370 کا خاتمہ کر دیا تھا۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔رواں برس لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے بھارتی اور پاکستانی افواج کے مابین گولہ بھاری کا تبادلہ کافی زیادہ ہوا ہے۔بین الاقوامی میڈیاکے مطابق رواں برس 3200بار جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی، جو گزشتہ دو سالوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ 5 اگست کے بعد سے ایسے 1553واقعات پیش آئے۔گزشتہ چند دنوں سے لائن آف کنٹرول پر دونوں افواج کے مابین گولہ باری کا تبادلہ جاری ہے۔ جموں و کشمیر کے پونچھ، اکھنور، اوڑی، ٹنگڈار، کیرن اور گریز علاقوں میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ان علاقوں میں رہائش پذیر افراد خوف و دہشت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔بھارت کا الزام ہے کہ پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول سے دراندازی کی کوشش کی جاتی ہے جس کے باعث بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور شدید گولہ بھاری کی جاتی ہے۔رواں سال کے آغاز سے ہی سرحد پر کشیدگی کا ماحول ہے۔ فروری کے بعد سے بھارت نے فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شدید گولہ بھاری شروع کی تھی تاہم اس ماہ یہ تعداد صرف 300 رہی تھی، تاہم جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اگست میں مجموعی طور پر 307 واقعات پیش آئے۔ ستمبر میں 292، اکتوبر میں 351، نومبر میں 304 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی اور جبکہ دسمبر میں یہ تعداد 300 سے تجاوز کرگئی۔

جنگ بندی واقعات

مزید : علاقائی


loading...