باپو عزت نال ایدھر آ

باپو عزت نال ایدھر آ
باپو عزت نال ایدھر آ

  



کوئی امب چوپن جائے اور باغ میں پھڑا جائے تو شاید اسکا ارادہ پھڑے جانے کا نا ہو۔لیکن جب بلاول زرداری یہ کہتے ہیں کہ انہیں پکڑ کر دکھاؤ تو بات سمجھ آتی ہے کہ ان کا ارادہ پھڑے جانے کا ہے۔کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ کوئی موگیمبو کوچیلنج کرے اور باہر پھرتا پھرے۔لیکن کیا کریں بلاول کے بیک گراؤنڈ میوزک میں بھی ”بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں جو مجھ کو چھو لے گا وہ جل جائے گا“چل رہا ہے۔یعنی ڈان کو پکڑنا مشکل نہیں ناممکن ہے۔لیکن ان کے لچھن یہی بتاتے ہیں کہ آج نہیں تو کل انکی یہ خواہش پوری ہو گی۔ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ ہمارے خان صاحب سے جو اوکھا بوکا نیب کو ضرور بْرا لگا اور جو نیب کو برا لگا اسکی ابتدائی منزل حوالات۔سنتا سنگھ نے اپنے باپو کو کہا اوئے باپو ادھر آ،سنتا کی امی بولیں بے شرم باپ کو عزت سے بلاتے ہیں،سنتا سنگھ بولا اوئے باپو عزت نال ایدھر آجا۔ہم تو بلاول کو خاص ممتا کے جذبے سے کہہ رہے ہیں کہ پھر پکڑے گئے تو ہمیں دکھ ہو گا۔ ابھی ہم احسن اقبال کا غم نہیں بھولے۔ دل کو اتنے صدمے نہیں ملنے چاہئیں۔ ہمارے درویش شہر یار آفریدی کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں کہ یہ ضمانتوں کا موسم ہے۔ہم تو سمجھے تھے کہ گیس کے بغیر لحافوں میں سکڑنے اور کمزور لحافوں میں اکڑنے کاموسم ہے چلیں مان لیتے ہیں لیکن ہم ان کو مفت مشورہ دیں گے کہ موسم بھی ہے اور موقع بھی، ابھی ضمانتیں کرا لیں کل شاید سہولت ملے نہ ملے۔ کیونکہ جو آج بہو ہے اس نے کل ساس بننا ہی بننا ہے۔یہ وقت بہتے پانی کی طرح چلتا رہتا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور ضمانت اس سے اچھی کوئی مثال نہیں۔ بندہ پکا لیگی ہو اور اس پر رانا بھی تو معاملہ ”سوہنی تے اوتوں سوتی پئی اٹھی“ والا ہو جاتا ہے۔ یہ ماننا پڑے گا رانا رانا ہی ہوتا ہے، جان جائے پر وچن نہ جائے، رانا کے گھر چور آ گئے، رانا کی آنکھ کھل گئی چور اٹھ کر بھاگ نکلا، رانا نے پیچھے دوڑ لگا دی چور سے آ گئے نکلتے ہوئے رانا بولا اک تے چوری اوتوں رانے نال ریساں مان گئے رانا صاحب آپ تو چور سے بھی آگے نکل گئے، مجھے تو افسوس اس درجنوں کلو ہیروئن پر ہے جو اب مال مقدمے میں گل سڑ جائے گی،کسی بے چارے کے منہ ہی پڑجاتی۔ جیسے عزت کسی کسی کو راس آتی ہے ایسے ہی سب موسم سب کو راس نہیں آتے، ضمانتوں کے موسم میں نجانے ہمارے بھائی سعد رفیق سے کیا گناہ ہوا ہے کہ ایک سال سے ان کی سنی نہیں جا رہی۔ نہ شہباز شریف ان کے لئے بولتے ہیں نہ ”ہرماسٹر وائس“ مریم اورنگ زیب، لیکن سعد رفیق جس بہادری سے کھڑے ہیں ان کا قدتو مجھے نواز شریف اور زرداری سے زیادہ بلند لگ رہا ہے۔ کسی زنجیر کی سب سے کمزور کڑ ی سب سے مضبوط ہوتی ہے وہ کھل جائے تو زنجیر بکھر جاتی ہے۔ سعد رفیق جس دن کھل گئے مجھے نون لیگ بکھرتی نظر آ رہی ہے، ڈاکٹر بولا بنتا سنگھ آپ کی ٹانگ میں زہر پھیل گیا ہے لیکن فکر والی کوئی بات نہیں، بنتا سنگھ کر اہتے ہوئے بولا ڈاکٹر صاحب زہر آپ کی ٹانگ میں پھلتا تو فکر میرے لئے وی کوئی نئی سی۔ یہ ہے ہماری سیاسی قیادت جس کی اوقات اتنی ہی کہ جب وقت پڑے تو دوڑ اپنی اپنی ہو جاتی ہے۔ زندانوں سے آوازیں آ رہی ہوتی ہیں بھئی جاگدے تے ساڈے تے نہ رہنا۔ بہرحال دعا ہے جب سب ہی موسم کو ”انجوائے“ کر رہے ہیں تو سعد برادران کی بھی سنی جائے اپنوں نے کونسا دلی لوٹنے میں نمبر ون کردار ادا کیا تھا۔

لو جی حکومت نے سوپیاز کھا لیے بس دوسری جانب ننانوے پر جا کرنیب کی باگیں کھینچ ہی لیں، اگر وہ شروع میں بریک پر پاؤں رکھ لیتے تو شاید انہیں سو پیاز کھانے پڑے نہ سو…… ہم تو شروع سے کہہ رہے ہیں کہ خاں جی یہ گنڈاسے والی فلم بہت ہو گئی اس میں تھوڑا بہت ششکا ایک آدھا ٹھمکے والے گانا ایک آدھا کوئی ہنسنے ہنسانے والا سین ڈالنا ضروری ہے لیکن ہماری سنتا کون ہے۔ رانا صاحب نے ضمانت کی خوشی میں دوستوں کو کھانے پر بلایا۔ کھانے میں نمک تیز نہیں بہت تیز ہو گیا۔ رانا صاحب ڈاڈے تھے اے این ایف کی طرح سب ڈرتے تھے۔ رانا ایک ایک دوست کے پاس جاتے کھانے کا پوچھتے، دوست ڈرکے مارے کہتا واہ مزا آ گیا۔ رانا سنتا سنگھ کے پاس پہنچا، سنتا بولا واہ رانا جی، کیا بات ہے کھانے کی، دو لاکھ دا تے تسی لون (نمک) ای پا دتا۔ اب بتائیں معاشرے میں سنتا سنگھ جیسے بھانڈ نہ ہوں تو کون سچ بولے گا۔ آج کا دانشور تو انگلیاں چاٹتے کہہ رہا ہے واہ خان صاحب واہ میاں صاحب سواد آ گیا۔ یہ سنتا سنگھ بنتا سنگھ نہ ہوں تو کون نمک کا سچ بولے۔ کون کہے کہ خان صاحب ہم تو مٹھے چول کھانے آپ کے ساتھ آئے تھے آپ کہتے ہیان کہ مٹھے چول تے کج نہ پھول۔ آپ نے نیب، احتساب کا نمک اتنا بڑھا دیا کہ چاہتے ہوئے بھی یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ واہ جوان سواد آ گیا، دانشور تو دانشور، عوام بیچاری شرمندہ شرمندہ ٹکور کرتی پھر رہی ہے۔ اسے بڑا چاہ تھا تبدیلی کا، تبدیلی آئے نہ آئے اسے چس آ گیا۔

2019 بھی چلا گیا، نئے اور پرانے سال میں بس انیس بس کا ہی فرق ہے بھلا کلینڈر بدلنے سے عوام کی تقدیر بدلتی ہے۔ ایک بدبو دار پیمپربدل بھی جائے تو اگلا پیمپر کونسا پرفیوم بھرا ہوتا ہے۔ جو چونسے عوام نے 19میں نہیں چوپے وہ 20میں چوپ لے گی۔ مہنگائی، بے روزگاری بے برکتی ہمارے گرد میں تے میرا دلبر جانی گاتی پھر رہی ہے۔ بنتا سنگھ کا سو روپے کا بیلنس ایک لڑکی کو چلا گیا انہوں نے مسیج کیا کہ وہ برائے مہربانی واپس کر دے۔ لڑکی بولی پر میرے پاس تواسی روپے کا بیلنس آیا ہے۔ بنتا سنگھ بولا اوہ سوری ٹہرو میں وی دا بیلنس دوبارہ بھیجنا۔شاوا وئی شاوا یہی ہمارا قومی مزاج ہے حکمرانوں کو اسی کا بیلنس ملے تو بھی قوم کو سوری کر کے بیس کا بیلنس بھجوانا ہوتا ہے اور پھر بھی ہم سے گلا ہے کہ وفا دار نہیں۔ بھیا میرے سرخ و سپید چہرے والو کیا کریں آہستہ آہستہ مر تو رہے ہیں۔ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک سے نڈھال ہو کر خون تھوکتے تھوکتے جان دے تو رہے ہیں کیسے پورا کریں تمہارا بیس کا بیلنس۔ ان فاقہ حالوں سے اور کیا چاہتے ہو۔ عدالتیں تمہاری قانون تمہارا انصاف تمہارا فیصلے تمہارے موسم تمہارے۔ ہم تو بس ”فل ان دی بیلنک“ ٹہرے، اپنا رول کرتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ بہتر سالوں سے خواب خرید رہے ہیں اور لہو بکھیرتی آنکھوں سے اپنی بے بسی پر ماتم کر رہے ہیں۔ لڑتے رہو اقتدار کی جنگ اپنے پیادوں، فیلوں رخوں کی پٹواتے رہو، بس تم اور اونچی مچان پر بیٹھا بادشاہ سلامت رہے۔کھیلتے رہو ادارے ادارے۔

مزید : رائے /کالم


loading...