بڑی ناکامیاں، کچھ کامیابیاں 2019 ءاپنے دامن میں کہانیا ں سمیٹے چلا گیا

بڑی ناکامیاں، کچھ کامیابیاں 2019 ءاپنے دامن میں کہانیا ں سمیٹے چلا گیا

  



2019 ءبھی بلند وبانگ دعوﺅں کی نذر ہوکررہ گیا وقت سے کچھ نہ سیکھا،بلکہ اس کو صرف اپنے مفاد کی خاطر ضائع کردیاگیا جس سے یہ سال بھی کھیلوں کی ترقی کے لئے مفید ثابت نہ ہوسکا اور ترقی کاخواب بس خواب بن کر رہ گیا اب نظریں نئے سال2020 پرمرکوز ہیں جو بس شروع ہونے کو ہی ہے کھیلوں کے حوالے سے اگر اس سال کی مجموعی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے تو یہ یقین کرنا بہت مشکل ہے کہ پاکستان نئے سال میں بھی کھیلوں کی ترقی کے اہداف حاصل کرنے میںکامیاب ہوسکے گا کیونکہ جب تک اس سلسلہ میں عملی طورپر کام نہ کیا جائے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا2019 ءجب شروع ہوا تو کھیلوں کے اداروں کی جانب سے یہ دعوے کئے گئے کہ یہ سال اچھا ثابت ہوگا اورجوہم گزشتہ سال نہیں کرسکے اس سال کرگزریں گے، مگر پورے سال2019 ءکی مجموعی طورپر با ت کی جائے تو ابھی بہت کچھ حاصل کرنے کوباقی تھا کرکٹ کی بات کریں تو یہ سال کرکٹ کے لئے مجموعی طور پر کسی بھی طرح سے اچھا ثابت نہیں ہوسکامگر ایک سب سے اچھی خبر شائقین کرکٹ اور پاکستان کےلئے یہ ضرور رہی کہ پاکستان میں دس سال کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی رونقیں بحال ہوئیں اور بلاشبہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے یہ ا قدام قابل تعریف ہے اور سری لنکن کرکٹ بورڈ کاکردار بھی قابل تعریف ہے جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے مجموعی طور پر جتنے بھی میچز کھیلے اس میں اس کی کامیابی کا تناسب صرف تیس فیصدہی رہا جو خوش آئند نہیں کپتان سرفرازاحمد کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ اس سال کا ایک غلط فیصلہ ثابت ہوا جس کی صورت میں ہمیں آسٹریلیاکے خلاف بدترین شکست ہوئی ایک کامیاب کپتان کو جس طرح سے ہٹا دیاگیا کرکٹ کے لئے درست ثابت نہیں ہوا اسی طرح سے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی ٹیم توقعات کے مطابق کھیل پیش نہ کرسکی۔جبکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سال 2019 پاکستانی ٹیم کے لیے انتہائی مایوس ک±ن رہا،سال میں ٹی ٹونٹی میںعالمی نمبرون پاکستان کی کارکردگی افعانستان،بحرین،بنگلہ دیش،برمودا،کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، آئرلینڈ،برازیل، اٹلی،کویت،ملائیشیا،نمیبیا، نیپال ،نیدرلینڈاورکینیاسمیت دیگرٹیموں سے بھی کمتررہی۔مجموعی طور پر 10 میچز کھیلنے والی گرین شرٹس کو صرف ایک فتح مل سکی۔6 فروری کو سنچورین میں جنوبی افریقا کے خلاف 3 میچوں کی سیریز کے آخری مقابلے میں قومی ٹیم 27 رنز سے کامیاب ہوئی جس کے بعد پورے سال فتح پاکستانی ٹیم سے روٹھی رہی۔سال 2019 کے بقیہ 9 میچوں میں سے قومی ٹیم کو 8 میچوں میں شکست ہوئی جب کہ ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا۔پاکستان نے اس سال 3ممالک کے خلاف سیریز کھیلیں جن میں جنوبی افریقا کے خلاف 1-2 ، سری لنکا کے خلاف 0-3 اور آسٹریلیا کے خلاف 0-2 سے ناکامی کا داغ سہنا پڑا جب کہ دورہ انگلینڈ میں میزبان کے خلاف واحد میچ میں 7 وکٹ سے شکست کی ہزیمت ا±ٹھانی پڑی۔ شائقین کرکٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کی سب سے حیران ک±ن اور پریشان کردینے والی کارکردگی سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں رہی جس میں گرین شرٹس تینوں میچوں میں ہار گئے ، حالانکہ قومی ٹیم اس وقت ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن پر موجود تھی۔یہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کی کیپٹن کی حیثیت سے آخری سیریز تھی جس کے بعد انہیں کپتانی سے ہٹانے کے بعد ٹیم سے بھی ڈراپ کردیا گیا۔ دورہ آسٹریلیا میں قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی کے نئے قائد بابر اعظم کی قیادت میں میدان میں اتری تاہم یہاں بھی پاکستانی ٹیم کو میزبان ٹیم کے خلاف سیریز میں 0-2 سے شکت ہوئی جب کہ پہلا میچ بارش کی نذر ہوگیا۔جبکہ سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کے بعد قومی ٹیم کے نوجوان بلے باز بابر اعظم نئی آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹے نمبرپر پہنچ گئے ہیں۔25سالہ بابر اعظم کراچی ٹیسٹ میں60اور100ناٹ آﺅٹ رنز کی باریاں کھیلنے کے بعد اب9ویں سے چھٹی پوزیشن پر چلے گئے ہیں،وہ اب ٹاپ 10ٹیسٹ بلے بازوں کی فہرست میں موجود واحد بیٹسمین ہیں۔ٹاپ 20 میں موجود پاکستانی بیٹسمین اسد شفیق اس وقت 20 ویں نمبر پر موجود ہیں ،کراچی ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے ٹیسٹ کپتان اظہر علی ترقی پاکر26ویں پوزیشن پر آگئے ہیں ، سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ اپنے نام کرنے والے اوپنر عابد علی 78ویں پوزیشن سے ترقی کے ساتھ62ویں نمبر پر آگئے ہیں،اوپنر شان مسعود بھی ترقی پاکر41ویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں ،سابق کپتان سرفراز احمد اس وقت45ویں پوزیشن پر براجمان ہیں۔باﺅلر کی فہرست میں محمد عباس نے4درجے ترقی پاکر 15ویں پوزیشن سنبھال لی،نوجوان پیسر شاہین شاہ آفریدی نے 39 ویں سنبھال لی ہے جب کہ نسیم شاہ نے کراچی ٹیسٹ میں شاندار باﺅلنگ پرفارمنس دیکر79 ویں پوزیشن پر قبضہ جما لیا ہے۔لیگ سپنر یاسر شاہ باﺅلرز کی فہرست میں22ویں پوزیشن پر موجود ہیں جب کہ آل راﺅنڈرز کی فہرست میں ان کا18واں نمبر ہے۔ جبکہسال 2019میں ٹی ٹونٹی میںپاکستان کی جانب سے بابراعظم کامیاب ترین بلے باز رہے ۔انہوںنے10میچوں کی10اننگزمیں41.55کی اوسط سے374رنزبنائے جن میں4نصف سنچریاں بھی شامل ہیں ،ا ن کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور90ہے۔دوسرے نمبرپرافتخاراحمدنے5میچوں کی5اننگزمیں75کی اوسط سے150رنزبنائے جن میںایک نصف سنچری شامل ہے ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور62ناٹ آو¿ٹ ہے۔تیسرے نمبرپرعمادوسیم نے10میچوں کی10اننگزمیں13.44کی اوسط سے121رنزبنائے اوران کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور47 ہے۔چوتھے نمبرپرحارث سہیل نے5میچوں کی5اننگزمیں24کی اوسط سے120رنزبنائے جن میں2 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں ۔پانچویں نمبرپرحسین طلعت نے3میچوں کی3اننگزمیں32.66کی اوسط سے98رنزبنائے جن میںایک نصف سنچری شامل ہے ۔سال2019کے دوران محمدعامرپاکستان کی جانب سے کامیاب ترین بولررہے۔ انہوں نے7میچوں میں23.4اووروں میں185رنزدے کر26.42کی اوسط سے7وکٹیں لیں۔دوسرے نمبرپرعمادوسیم نے10میچوں میں33اووروں میں190رنزدے کر27.14کی اوسط سے7وکٹیں ،تیسرے نمبرپرشاداب خان نے9میچوں میں26اووروں میں227رنزدے کر56.75کی اوسط سے4وکٹیں ،چوتھے نمبرپرشاہین شاہ آفریدی نے3میچوں میں12اووروں میں85رنزدے کر28.33کی اوسط سے3وکٹیں لیںجبکہ پانچویں نمبرپرمحمدحسنین نے4میچوں میں16اووروں میں137رنزدے کر45.66کی اوسط سے3وکٹیں لیں۔جبکہ قومی ٹیم کے ابھرتے ہوئے فاسٹ باﺅلرز نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی نے سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ کے دوران نئی تاریخ رقم کردی۔19سالہ شاہین آفریدی نے سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں شاندار باﺅلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 77رنز کے عوض5شکار کیے جب کہ16سالہ نسیم شاہ نے دوسری اننگز میںصرف31رنز دے کر مہمان ٹیم کے 5کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا،یہ ٹیسٹ کرکٹ کی142سالہ تاریخ میں پہلا موقع تھا جب دو ٹین ایچ باﺅلرز نے ایک ہی ٹیم کے لیے کسی ٹیسٹ میں 5،5وکٹیں حاصل کیں۔اس سے قبل دو ٹین ایج باﺅلرز نے مختلف ٹیموں کی جانب سے ایک ہی ٹیسٹ میں 5،5وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز اس وقت حاصل کیا جب 2005ءمیں بنگلہ دیش کے انعام الحق جونیئر اور زمبابوے کے ایلٹن چگمبھرا نے پانچ ،پانچ شکار کیے تھے۔شاہین شاہ آفریدی اب ٹیسٹ کرکٹ میں بطور ٹین ایج باﺅلرزیادہ وکٹیں لینے والے پانچویں گیند باز ہیں ،ان کے علاوہ عمر گل نے بھی 25شکار کررکھے تھے جب کہ لیجنڈری فاسٹ باﺅلر وسیم اکرم نے بطور ٹین ایج باﺅلر28وکٹیں حاصل کی تھیں،بطور ٹین ایج باﺅلر زیاد ہ وکٹیں لینے کا اعزاز قومی ٹیم کے موجودہ باﺅلنگ کوچ وقار یونس کے پاس ہے جنہوں نے 55وکٹیں اپنے نام کیں تھیں۔ جبکہ قومی ٹی ٹونٹی کپتان بابر اعظم جوں جوں ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اپنا سکہ جماتے جارہے ہیں ویسے ویسے ان کا بھارتی کپتان ویرات کوہلی سے موازنہ بڑھتا جارہا ہے ،رواں سال بابر اعظم نے ٹیسٹ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں فارمیٹس میں ٹاپ9بلے بازوں میں جگہ بنانے والے دنیا کے واحد بلے بازہونے کااعزاز بھی اپنے نام کرلیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ 36میچز کی41اننگز میں5مرتبہ ناٹ آﺅٹ رہتے ہوئے57.83کی اوسط سے2082رنز سکور کیے جن میں 6سنچریاں اور13نصف سنچریا ں شامل تھیں،انہوں نے یہ رنز90.20کے سٹرائیک ریٹ سے سکور کیے،بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے رواں سال44میچز میں64.60کی اوسط سے2455رنز سکور کیے ہیں جن میں7سنچریاں اور14نصف سنچریاں شامل ہیں،انہوں نے یہ رنز90.55کے سٹرائیک ریٹ سے سکور کیے ہیں۔اگر 2019ءمیں دونوں کھلاڑیوں کی ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کی کمزور ٹیموں کے خلا ف پرفارمنس نکال دی جائے تو بابر اعظم کا پلڑا ویرات کوہلی پر بھارتی ہوجاتا ہے ، پاکستانی بلے باز نے دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف رواں سال 1964رنز سکور کیے ہیں،بھارت کے روہت شرما نے انہی ٹیموں کے خلاف1726رنز بنائے جبکہ ویرات کوہلی نے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیزکو نکال کر دیگر ٹیموں کے خلاف1473رنز سکور کیے ہیں۔بہرحال 2019 ءمیں دس سال کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی اور سال کے اختتام پر پاکستان کی ٹیم نے اچھی پرفارمنس کامظاہرہ کیا بھارت کے ساتھ بھی اس سال تعلقات اچھے نہ ہونے سے کرکٹ معاملات کھٹائی کاشکار رہے اس سے پاکستان کرکٹ کونقصان ہوا۔جبکہ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے سال 2019 کو پاکستان ویمن کرکٹ کی بہتری کا سال قرار دےدیا۔پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے 2019 اور 2020 کے حوالے سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ اس سال پاکستان ویمنز ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی اور کھیل میں بہتری آئی ہے۔بسمہ معروف نے کہا کہ یہ سلسلہ گزشتہ برس شروع ہوا تھا اور اس میں بتدریج بہتری آتی گئی، ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز سے سال کا آغاز ہوا اور اپنے ہوم گراونڈز پر کامیابی حاصل کی ، ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچز جیتے۔انہوں نے کہا کہ سب سے یادگار سیریز ساو¿تھ افریقہ کے خلاف رہی کیونکہ ساو¿تھ افریقہ کی سرزمین پر کھیلنا کبھی آسان نہیں رہا، جانے سے پہلے سوچا نہیں تھا کہ ساو¿تھ افریقہ میں کارکردگی اتنی اچھی ہو گی۔پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے کہا کہ کھیل کے تینوں شعبوں میں پاکستان ٹیم نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا، اس سیریز سے کھلاڑیوں میں اعتماد بڑھا کہ وہ کہیں بھی اچھا کھیل سکتی ہیں۔بسمہ معروف نے کہا کہ بنگلہ دیش ویمن ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیم بہتری کی طرف گامزن ہے تاہم میں سمجھتی ہوں کہ سال کا اختتام اچھا نہیں رہا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ملائیشیا میں انگلینڈ کے خلاف سیریز میں نتائج توقع کے مطابق نہیں رہے، پاکستان ٹیم کو شکست ہوئی تاہم اس سیریز سے یہ اندازہ ضرور ہوا ہے کہ پاکستان ویمن ٹیم کو کہاں کہاں بہتری کی ضروت ہے اور اب ان شعبوں پر سخت محنت کی جا ئے گی۔کپتان بسمہ معروف نے آئندہ سال کے حوالے سے کہا کہ 2020 کے لیے بھی اچھے عزائم ہیں، اب کارکردگی میں مزید بہتری لانا ہے اور ٹیم کےلئے کچھ اہداف مقرر کیے ہیں جنہیں حاصل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت فوکس آسٹریلیا میں ہونے والا ورلڈ کپ ہے، آسٹریلیا میں کنڈیشنز آسان نہیں ہو تیں، کوشش یہی ہے کہ ان کنڈیشنز کے مطابق سخت محنت کریں اور 2020 اچھی کارکردگی سے یادگار بنائیں۔دوسری جانب ملک میں کلب کرکٹ زوال پذیر ہوتے ہوتے ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔کلب کرکٹ کی زبوں حالی پر اُس ایک کاری ضرب لگی جب اگست میںپی سی بی کا نیا آئین منظور ہونے کے بعد بورڈ حکام نے ملک بھر میںریجنل اور ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشنز کے زیر اہتمام ہونے والے ٹورنامنٹس کو روکنے کا حکم نامہ جاری کردیا جس سے ملک بھر میں کلب کرکٹ پر جمود طار ہوگیا ۔ایسی صورت حال میں گولڈن سٹار کرکٹ کلب نے اوٹی سی کے ساتھ مل کرلاہور میںکلب کرکٹ کی سرگرمیاں بحال کرنے کا بیڑا اٹھا یا اور پھر دس دسمبر کو لاہور شہر میں کلب کرکٹ کے نئے دور کا آغاز ہوا۔لاہور چیلنج کپ میں شہر کی تین سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کی 64کلبوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے ٹورنامنٹ کے ابتدائی تین راﺅنڈز ناک آﺅٹ بنیادوں پر کھیلے جائیں گے جبکہ ایونٹ کی ٹاپ آٹھ ٹیمیں لیگ مرحلے میں ایک دوسرے کے مد مقابل آئیں گی۔لاہور چیلنج کپ کے انعقاد سے شہر کے کرکٹ حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور کرکٹ سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں خاص طور پر ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں میں اس ایونٹ میں اچھی کارکردگی دکھاکرخود کو منوانے کا جوش وجذبہ عروج پر ہے انتظامیہ نے شہر میں کلب کرکٹ کو پروفیشنل بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے اہم اقدامات اٹھائے ہیںجن میں پہلی مرتبہ کلب کی سطح پر اینٹی کرپشن اینڈ ویجی لینس کمیٹی بنائی گئی ہے ۔کمیٹی کے اراکین ٹورنامنٹ کے دوران میچز کو مانیٹرکریں گے اور ایونٹ کے دوران اینٹی کرپشن اینڈ ویجی لینس قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا اس سلسلے میں ٹورنامنٹ میں شامل ٹیموں کو اینٹی کرپشن قوانین تحریری طور پر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بریفنگ بھی دی گئی ہے۔ٹورنامنٹ کمیٹی کے چیئرمین ملک سجاد اکبر کاکہنا ہے کہ اوٹی سی لاہور چیلنج کپ شہر میں کرکٹ ڈیویلپمنٹ کا سب سے بڑا منظم پلیٹ فارم بن کر سامنے آیا ہے۔دوسری جانب اگر بات کی جائے پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کی تو اس میں تو پاکستان کی ٹیم نے کچھ حاصل نہیں کیا بلکہ اس سال پاکستان ہاکی ٹیم کی کارکردگی گزشتہ سالوں کی نسبت مزید تنزلی کا شکار رہی پاکستان کی ٹیم نے ہاکی کے میدانوں میں نہایت ہی ناقص کارکردگی کامظاہرہ کیا بس ہاکی فیڈریشنوں نے اپنی تنخواہیں وصول کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیںکیا حکومت کی اس کھیل کی طرف عدم توجہی بھی سمجھ سے باہر ہے قومی کھیل کی تنزلی جس طرح تیری سے ہورہی ہے اس سے تو بہتر ہے کہ خزانے پربوجھ کوکم کیا جائے اور ہاکی فیڈریشن ہی ختم کردی جائے ایک مرتبہ دوبارہ فیڈریشن کیجانب سے بلند وبانگ دعوے تو کئے جارہے ہیں مگرعملی طور پر اس حوالے سے کچھ بہتر ہونے کی امید نظر نہیں آرہی حکومت کوچاہئیے کہ ہاکی کے کھیل کو اگر بچانا ہے تو اس پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور پاکستان ہاکی ٹیم کے مسائل کو حل کیاجائے تاکہ نئے سال پاکستان کی ہاکی ٹیم ترقی کرے اور یہ وزیر اعظم پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ سپورٹس مین ہونے کے ناطہ وہ اپنا کردار ادا کریں ۔جبکہپاکستان ہاکی ٹیم 6 برسوں کے بعد ملائیشیا میں ہونے والے ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں حصہ لے گی۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری آصف باجوہ نے ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت کو پاکستان ہاکی کی بہتری کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔گفتگو میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی اس وقت اولین ترجیح یہی ہے کہ عالمی باڈیز کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا جا ئے۔انہوں نے کہا کہ وہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے ساتھ ساتھ ایشین ہاکی فیڈریشن کے ساتھ بھی رابطوں میں ہیں، ان باڈیز کے ساتھ تعلقات کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے۔آصف باجوہ نے کہا کہ پاکستان ہاکی ٹیم نے 2014 کے بعد ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کی تھی اور اس کی کئی وجوہات رہی ہیں، پاکستان ہاکی فیڈریشن نے عین وقت پر بھی اپنی عدم دستیابی کے بارے میں آگاہ کیا جس کے بعد ملائیشین ہاکی کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب ملائیشین ہاکی کے ساتھ دوستانہ روابط ہیں اور ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کی دعوت ملنا اور پھر ہمارا اس ایونٹ میں شرکت کرنا پہلا ا قدم ہے جس سے پاکستان ہاکی میں بہتر ی آئے گی اور یہ شرکت سنگ میل ثابت ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے بھی رینکنگ پوائنٹس ہیں اور اس وقت پاکستان ٹیم کو رینکنگ پوائنٹس کی بہت ضرورت ہے۔سیکرٹری پی ایچ ایف کا کہنا ہے کہ 2019 پاکستان ہاکی کے لیے اچھا نہیں رہا لیکن مجھے اتنا یقین ہے کہ 2020 اور اس کے بعد آنے والے سال پاکستان ہاکی کی بہتری کے سال ثابت ہوں گے۔اسی طرح سے فٹ بال فیڈریشن بھی کھیل پر توجہ دینے سے قاصر رہا اور صرف اور صرف زبانی کلامی دعوﺅں تک ہی کام کیاگیا پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے عہدے داروں کے آپس کے جھگڑے بھی اس سال ختم نہ ہوسکے اور اسکا نقصان صرف اور صرف فٹ بال کھیل کو ہی ہوا پاکستان کی اگر فٹ بال عالمی رینکنگ کی بات کیجائے تو نہایت افسوس ناک صورتحال ہے اپنے مفادکے لئے فٹ بال کھیل کو برباد کردیاگیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ہر کھیل میں ہی بہت ٹیلنٹ ہے مگر آپس کے جھگڑوں کے باعث جس طرح سے اس ٹیلنٹ کو ضائع کیاگیا اس کی مثال نہیں ملتی پاکستان کے لئے یہ سال ٹینس کے لئے بھی اچھا ثابت نہیں ہوا سوائے فن پہلوانی کے گوجرانوالہ کے ریسلر انعام بٹ کی اس حوالے سے جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے انہوں نے پاکستان کے لئے 2019 میں گرانقدر خدمات سر انجام دیں بہرحال ابھی بھی وقت ہاتھ میں ہے ان کھیلوں میںترقی کاراستہ ابھی باقی ہے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے اب زبانی کلامی دعووئں کے بجائے عملی اقدامات کئے جائیں نئے سا ل کے حوالے سے کھلاڑی پر عزم ہیں کہ وہ 2010 ءمیں پاکستان کا نام روشن کریں گے اس حوالے سے ٹینس کی مایہ ناز کھلاڑی اشناءکا کہنا ہے کہ اس سال بھی میں نے ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش کی اور اس میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کی مگر میںچاہتی ہوکہ نیا سال پاکستان کے لئے کھیلوں کے لئے نہایت مفید ثابت ہو اور میں ٹینس کے میدان میں عمدہ پرفارمنس دکھانے کاعزم رکھتی ہوں اور امید ہے کہ میں اپنے پرستاروں کی امیدوں پر پورا اتروں گی اور پوری دنیا میں اس کھیل میں پاکستان کانام روشن کروں گی ریسلر انعام بٹ کا کہنا ہے کہ یہ سال میرے لئے بہت اچھا ثابت ہوا اور میں جس مقابلہ میں بھی شرکت کی اس میں پاکستان کا نام روشن کیا اور اب 2020 ءمیں بھی کامیابی کے لئے پر امید ہوں اور جس مقابلہ میں بھی شرکت کروں گا میں پاکستان کا پرچم ضرور بلند کروں گا آج میں جو بھی ہو اس میں پاکستان کا ہی ہاتھ ہے اور مجھے پاکستان کی خدمت کرکے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے اور میں اپنے پرستاروں کا بھی بہت شکر گزار ہوں جن کی محبت کی بدولت آج اس مقام پر پہنچا ہو اگر حکومت مجھے سپورٹ کرے تو میں اس کھیل میں مزید پاکستان کا نا م روشن کرسکتا ہوں اگلا سال میرے لئے بہت اچھا ثابت ہوگا فٹ بال سے وابستہ میاں رضو ان علی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس کھیل کی ترقی کے لئے میںنئے سال بھی بھرپور وش وجذبہ سے کام کروں گا ماڈل ٹاﺅن فٹ بال اکیڈمی کا نام اس کھیل میں پوری دنیا میں جانا جاتا ہے اور اس سال ہم نے اپنے اہداف کوحاصل کیا ہے اور نئے سال میں مزید کامیابیاں سمیٹیں گے بہرحال پاکستان میں مجموعی طور پر کھیلوں کے لئے نیا سال اچھا ثابت ہونا چاہئیے تاکہ پاکستانی کھلاڑی کھیل کے ہر میدان میں نئے سال پاکستان کا نام روشن کرسکیں اس کے لئے بس فیڈریشنوں اور ان سے وابستہ کھلاڑیوں کومحنت اور بھرپور جوش و جذبہ کی ضرورت ہے اس طرح سے نئے سال ترقی کے اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1