پنجاب میں پہلی بار اموات اوربرتھ رجسٹریشن کامربوط نظام شروع

  پنجاب میں پہلی بار اموات اوربرتھ رجسٹریشن کامربوط نظام شروع

  



رحیم یار خان (بیورو رپورٹ)ملک کی تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں اموات اور برتھ رجسٹریشن کے مربوط نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے،سول رجسٹریشن اور وائٹل سٹیٹسکس سسٹم کے تحت سپیشلائزڈ ڈاکٹرز تمام اموات اور وجوہات کا تعین کریں گے اور یہ ڈیٹا محکمہ لوکل گورنمنٹ اور نادرا سے بھی شیئر کیا جائے گا،پہلے مرحلے میں محکمہ صحت کے پلاننگ اینڈ سٹرٹیجک ہیلتھ یونٹ پی ایس ایچ یو اور وفاقی وزارت (بقیہ نمبر40صفحہ12پر)

منصوبہ بندی کے تعاون سے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں 100 ماسٹر ٹرینرز کی ٹریننگ کی گئی ہے،اس سے قبل ہسپتالوں میں ہر موت کو حرکت قلب یا سانس بند ہونے کا نتیجہ قرار دے کر فائل بند کردی جاتی تھی حالانکہ ہر موت صرف حرکت قلب بند ہونے سے نہیں ہوتی، نئے سسٹم کے تحت اب ہر موت کی اصل وجہ کا ریکارڈ رکھا جائے گا، اس سے اموات کی اصل وجوہات کا تعین ہوسکے گا، صوبہ بھر میں اموات بشمول ٹریفک حادثات کا الیکٹرانک ڈیٹا اینڈارئیڈ موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے مرتب کا جائے گا، اس نظام کے تحت حکومت پنجاب کو پالیسی مرتب کرنے اور زیادہ شرح اموات والی وجوہات میں تخفیف کرنے میں مدد ملے گی، آئی سی ڈی 10 کے سسٹم کے تحت رحیم یارخان سمیت صوبہ بھر میں ہونے والی سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں تمام بچوں کی پیدائش کا ریکارڈ بھی کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گاجبکہ پی ایس پی یو الیکٹرانک ریکارڈ کے نظام کے تحت ہونے والے ڈیٹا کی مکمل نگرانی ہو گی،مربوط ڈیٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع ہیلتھ پالیسی مرتب کی جائے گی، شرح پیدائش، ماں کی صحت پر زیادہ بچوں کی پیدائش کے اثرات کا جائزہ لے کر شرح اموات کم کرنے کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔

نظام شروع

مزید : ملتان صفحہ آخر