پے پال سسٹم آپریشنل ہونے سے 1لاکھ نوکریاں ملنے کا امکان

  پے پال سسٹم آپریشنل ہونے سے 1لاکھ نوکریاں ملنے کا امکان

  



صادق آبا د(نامہ نگار)پے پال کو پاکستان میں لاکر ڈیجٹیل پاکستان کا خواب پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتاہے پے پال کو پاکستان میں لانا وقت کی ضرورت ہے ڈالروں کی قلت کو دور کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ پے پال بن سکتا ہے ان خیالات کا اظہار برطانیہ میں سائبر کرائم کے ایکسپرٹ عمران رشید نے صادق آباد پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے کیا عمران رشید نے بتایا کہ حکومت نے ڈیجٹیل پاکستان کی بنیاد رکھ کر انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے پاکستانی مارکیٹ کو دنیا سے جوڑنے کیلئے لین دین کے موثر (بقیہ نمبر45صفحہ12پر)

پلیٹ فارم کی ضرورت ہے اور پے پال سے بڑھ کر یہ ذریعہ اور کوئی ہونہیں ہوسکتا انہوں نے بتایا کہ لاکھوں پاکستانی نوجوان آن لائن جابز کا کام کرتے ہیں اور پے پال سے منسلک ہیں مگر پاکستان میں پے پال آپریشنل نہ ہونے کے باعث وہ اپنی ڈالرز میں حاصل کردہ انکم دیگر ذرائع سے حاصل کرتے ہیں اس سے جہاں پاکستان قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہوجاتا ہے وہیں پے پال آپریشن سے آنے والی رقم پر ٹیکس کی آمدن سے پاکستان محروم ہورہا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ پے پال خریدار اور سیلر کے درمیان اعتماد کا بھی بہترین ذریعہ ہے آج پاکستانی مارکیٹ قابل اعتماد لین دین کا پلیٹ فارم نہ ہونے کے باعث فراڈیوں سے بھری ہوئی ہے ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی اشیا جب خریدار تک پہنچتی ہیں تو کچھ اور نکلتی ہیں یا انکی کوالٹی ہلکی ہوتی ہے مگر پے پال کے پلیٹ فارم پر ایسا کرنا ممکن نہیں پے پال سے منسلک ویب سائٹ پر آرڈر کرنے پر خریدار رقم پے پال کو ادا کردے گا اور چودہ روز تک پے پال کے پاس رہی گے اس دوران سپلائر کا سامان خریدار کو ملنے کے بعد خریدار اپنی تسلی کا میسج ڈالے گا تو رقم فورا سپلائر کے اکانٹ میں شفٹ ہوجائے گی جبکہ پے پال گاہک کی جانب سے غلط شکایت پر سپلائر کا بھی تحفظ کرتا ہے انہوں نے کہا کہ پے پال کے ذریعے پاکستان کا ایک چھوٹا سا دکاندار بھی اپنی کشمیری شال سندھی اجرک غرض کے ہر آئٹم انٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت کرکے ڈالرز کما سکتا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ صرف پے پال کو پاکستان میں آپریشنل کرکے ایک لاکھ سے زائد نوکریاں فوری حاصل کی جاسکتی ہیں جبکہ ملک کو جو زرمبادلہ اور ٹیکس کی رقم حاصل ہوگی وہ الگ سے ہوگی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پے پال حکام سے حکومتی سطح پر سنجید ہ مذاکرات کیے جائیں اور اس سروس کو پاکستان میں لایا جائے اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما غلام عباس بھٹی بھی موجود تھے۔

امکان

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...