جھگڑے، طلاق،خلع، سوشل میڈیا، موبائل فون خاندان تڑوانے میں سب سے آگے

  جھگڑے، طلاق،خلع، سوشل میڈیا، موبائل فون خاندان تڑوانے میں سب سے آگے

  



ملتان (خبر نگار خصوصی) سوشل میڈیا و انٹرنیٹ اور موبائل کے بے دریغ استعمال کے باعث میاں بیوی کے در میان لڑائی جھگڑوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا،ناچاکی کے بعد والدین کے گھر رہنے والی خواتین کا عدالتوں سے خرچہ نان و نفقہ،طلاق و خلع کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانا بھی معمول سمجھا جانے لگا ہے۔بیروزگاری اور نشے کی بری عادت کے باعث معاشرتی اقدار بھی تباہ ہو(بقیہ نمبر7صفحہ12پر)

چکا ہے۔اسی وجہ سے ضلع ملتان کی عدالتوں میں طلاق، بچوں کی حوالگی، نان و نفقہ، جہیز کے ہزاروں مقدمات زیر التواء ہیں۔میاں بیوی کے مابین لڑائیوں کی اہم وجوہات میں کم عمری کی شادیاں،عدم برداشت و تحمل بھی شامل ہے، رشتہ داروں کی مداخلت اور معمولی جھگڑوں کا حل طلاق سمجھا جانے لگا ہے۔ جس کی وجہ سے عدالتیں مقدمات کے بوجھ تلے دب چکی ہیں۔ رواں سال کے دوران طلاق و خلع، نان نفقہ اور جہیز کے ساڑھے چھ ہزار کے قریب مقدمات زیر سماعت ہیں، سال بھر میں 11 ہزار 320 مقدمات دائر، 12 ہزار 466 مقدمات کا فیصلہ، اور 2 ہزار 50 مقدمات کو دوسری عدالتوں میں منتقل کیا گیا جبکہ اب بھی چھ ہزار 662 مقدمات التواء کا شکار ہیں۔ اسی طرح جانشینی کے 1 ہزار 299 مقدمات دائر، 1 ہزار 602 کا فیصلہ، 9 مقدمات کو دوسری عدالتوں میں منتقل کیا گیا جبکہ اب بھی 340 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ دریں اثناء والدین کے مابین جھگڑے کے نتیجے میں بچوں کی حوالگی بھی ایک اہم مرحلہ ہے جس کے باعث 2 ہزار 259 مقدمات دائر، 2 ہزار 160 کا فیصلہ اور 1 ہزار 611 ابھی بھی لٹکے ہوئے ہیں۔مقدمات کے لٹکے رہنے کی اہم وجہ نئے دائر ہونے والے مقدمات کی زیادتی ہے۔اس سلسلے میں سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ شوہر بیوی کے مابین تلخ کلامی کے طول پکڑنے کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس روایت کو ختم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر آگاہی مہم چلانی چاہیے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...