لوک میلہ”ورثہ“ قومی یکجہتی کامظہر

لوک میلہ”ورثہ“ قومی یکجہتی کامظہر

  



صبح صادق

ہرے بھر،سرسبز و شاداب درختوں کے درمیاں لوک میلہ ”ورثہ“کا انعقاد اپنی مثال آپ تھا

”ورثہ“ میں ملک بھر کے علاقائی ثقافتی حسن کو اجاگر کرنا قومی یکجہتی کا مظہر ہے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا

پاکستانی قوم اپنی اعلی روایات کا بے حد احترام کرتی ہے جیسے الحمرا نئی نسل کو روشناس کروا رہا ہے۔اطہر علی خان

 اس میلے کا ایک مقصدتناؤ کو کم کرتے ہوئے ماحول کو تازگی بخشنا اورمعاشرہ کو امن کا گہوارہ بنانا تھا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا

یو م قائد پر سیمینار،نمائش کے انعقاد سے نوجوان نسل کو قائد کے فرمودات سے آگاہ کیا گیا۔اطہر علی خان

ورثہ میں ہینڈی کرافٹ، نودرات و قدیم اشیاء کی نمائش کی گئی،علاقائی رقص و موسیقی کے محفل بھی سجائی گئی،یہ سلسلہ تین روز جاری رہا۔

”ورثہ“ میں جہاں ثقافتی رنگوں کو یک جاء کر کے پیش کیا گیا ہے وہاں عوام نے الحمرا کے اس میلے کو دیکھ کر ملک بھر کے خوبصور ت رنگ دیکھے۔پارلیمانی سیکرٹری کلچرمحمد ندیم قریشی

ورثہ میں تین روز ہینڈی کرافٹ،نوادرات،قیمتی اشیاء کی نمائش جاری رہیں، علاقائی رقص و موسیقی کے محفلوں سے لوگ لطف اندوز ہوتے رہے۔

لوگ ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے رہے،روایتی کھانوں کی خوشبو بھی من موتی رہی،ثقافتی ملبوسات کے دیدہ زیب سٹالز بھی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

لوک ورثہ میں بچوں کے لئے خصو صی شوز ”پتلی تماشہ“،”عینک والا جن“اور”الہ دین کا چراغ“ پیش کئے گئے جن سے بچے بے حد محظوظ ہوئے۔

ایسی سرگرمیاں جن میں شرکت کرکے لوگوں کو ذہنی سکون میسر آئے،جو عوام کے رویوں میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں،اپنی اقدار کو تقویت بخشیں،آپ کو الحمراء آرٹس کونسل کے پلیٹ فارم کے علاوہ کہیں میسر نہیں آئیں گئی۔یہ ادارہ کئی دہائیوں سے فن کے ذریعے ملک میں امن وآشنی کا علم بلند کئے ہوئے ہے۔گزشتہ دنوں الحمراء آرٹس کونسل میں تین روز لوک میلہ”ورثہ“ کا انعقاد کیا گیا۔جس میں لوک موسیقی،ہاتھ سے بنی اشیاء کے سٹالز،نوادارت وقیمتی چیزوں کی نمائش،طرح طرح کے روایتی کھانے،ڈرامے، بچوں کیلئے پتلی تماشہ ودیگر خوبصورت سرگرمیاں شامل تھیں۔لوگوں کیلئے میلے میں اس قدر دلچسپی تھی کہ لوگ ٹھنڈے موسم میں بھی لوک میلے میں جوق درجوق شریک ہوئے،الحمراء کے استقبالی دروازے سے داخل ہوتے ان کی نظریں ثقافتی لباس میں ملبوس ڈھولیاں پر پڑتی جن سے ان کا دل خوش وخرم ہوجاتا، لوگوں کو کہیں لڈی کا نظارہ دیکھنے کو ملتا توکہیں جھومر رقص سے لطف اندوز ہورہے ہوتے،پنجاب کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے ثقافتی رنگ خصوصاََلوگ گیت عوام کی توجہ کا مرکز بنارہے،دھمال میں عوام کی دلچسپی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، منصوعی گھوڑاناچ،بھنگڑا ناچ اور موسیقی کی محفل بھی اس ”ورثہ“ کا حصہ تھے۔ اس میلے کا ایک مقصدتناؤ کو کم کرتے ہوئے ماحول کو تازگی بخشنا اورمعاشرہ کو امن کا گہوارہ بنانا تھا۔

پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن اینڈ کلچر محمد ندیم قریشی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان کے ہمراہ ”ورثہ“ کا افتتاح کیا اور لوک میلہ میں لگائے گئے مختلف سٹالز دیکھے۔ چیئرپرسن بورڈ آف گورنر منیزہ ہاشمی اور نامور گلوکار وارث بیگ نے بھی افتتاحی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن اینڈ کلچر محمد ندیم قریشی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہورہی ہے کہ الحمرا میں منعقد ہونے والے ”ورثہ“ میں پنجاب کی ثقافت کے تمام رنگوں کو عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے،لاہور آرٹس کونسل نے اپنی ثقافتی سرگرمیوں میں اپنی اعلی روایات کو زند ہ رکھا ہوا ہے جو قابل تعریف ہے۔انھوں نے کہاکہ مجھے الحمرا کئی بار آنے کا اتفاق ہوا ہے ہر بار نئی سے نئی ثقافتی تقریب کا انعقاد ہو رہا ہے،الحمرا کے ان اقدامات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، دوسرے ثقافتی اداروں کو بھی الحمرا کی ان کاوشوں کی تقلید کرنی چاہیے۔میں اس لوک میلہ کے کامیاب انعقاد پر الحمرا انتظامیہ کی کاوشو ں کی قدر کرتا ہوں میں امید رکھتا ہوں کہ الحمرا آئندہ بھی ایسی تقریبات کا انعقاد کرتا رہے گا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان نے اس موقع پر کہاکہ ہمیں اپنی ثقافتی اقدار پر فخر ہے،ہم عظیم ورثہ کے مالک ہیں،اس کو فروغ دینے کے لئے الحمرا شب وروز مصروف عمل ہے یہ میلہ اس سلسلے کی کڑی ہے،الحمرا لوگوں کو معیاری تفریح کے موقع فراہم کر رہا ہے۔انھوں نے کہاکہ ثقافتی ملبوسات کے دیدا زیب سٹالز یہاں آنے والے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں،دستکاروں کے کام کو سراہا جارہا ہے،”ورثہ“ میں شرکت کرنے کے لئے لوگ بڑی تعداد میں الحمرا کا رخ کر رہے ہیں،ہمارے ثقافتی رنگ اصل میں ہمارے آپسی پیار و محبت ہی کا نام ہے،میلے میں شریک لوگ ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے رہے، روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے،عوام نے سٹالز سے مختلف اشیاء کی خریداری بھی بڑے شوق سے کی۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان نے مزید کہاکہ”ورثہ“ میں رکھی گئی ہینڈی کرافٹ،روایتی کھانے کے سٹالز، علاقائی رقص، موسیقی کے پروگرامز کی وجہ سے ہم دنیا میں اپنا الگ اور منفرد مقام رکھتے ہیں،ان ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ سے الحمرا معاشرہ میں محبت، برداشت کے رویوں کو تقویت بخش رہا ہے۔

الحمراء فنون لطیفہ کے شعبے میں ہر فن کی آبیاری کرنے میں نت نئے،ٹھوس اور ثمرآور اقدامات کرتا رہتا ہے،جن کے اثرات براہ راست معاشرہ پر مرتب ہوتے ہیں،سماج کے احسن انداز میں تعمیر نوکرنا بلاشبہ ایک مشکل کام ہے۔مگر الحمراء ایسی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے جس سے مرحلہ وار اچھے اثرات معاشرے میں منتقل ہورہے ہیں،لوگ ایسی سرگرمیوں میں جانا پسند کرتے ہیں جن میں شرکت کرکے ان میں پیار ومحبت کو فروغ ملے،آپسی اختلافات کا خاتمہ ہوں۔”ورثہ“ میں موجود علاقوئی تاریخ،زبان،لباس،شکل وصورت،رہن سہن کا معیار دیگر جفرافیائی خصوصیات جن میں غذائی روایات بھی شامل تھیں، نے تین روز تک عوام کو اپنی طرف متوجہ رکھا۔

الحمراء نے سماجی حسن سے بھرپور ان ثقافتی رنگوں کو نہ صرف زندہ رکھا ہو اہے جن کی بدولت ہمارا معاشرہ عالمی تناطر میں اپنا ایک الگ اور منفرد مقام رکھتا ہے بلکہ ان کے فروغ کے لئے شب وروز مصروف عمل ہے جس کی زندہ مثال تین روزہ لوک میلہ”ورثہ“ ہے۔اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ ہم عظیم تہذیب وتمدن،ادب وثقافت کے وارث ہیں،ہماری تہذیب پر آج کی جدید دنیا کا سماجی ڈھا نچہ استوار ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ پوری دنیا میں پاکستان کا رخ اس لئے بھی کرتے ہیں کہ وہ جان سکیں کہ اس کی ثقافت کا رنگ کیسا ہے،دنیا میں لوگوں کی ذوق کی تسکین کرنے کیلئے الحمراء میزبانی کے فرائض سرانجام دیتا ہے جن کو دیکھ کر دنیا کا تجسس،حقیقت کا روپ دھارتا ہے،لوگ پاکستانی ثقافت کے معترف ہے اس میں الحمرا آرٹس کونسل کا اہم کردار ہے۔

پاکستانی قوم باشعور اور مہذب اقوام کی طرح اپنی اعلیٰ روایات کا بے حد احترام کرتی ہے،لوگ اس چیز کے متمنی ہیں کہ ان کے آباؤ واجداد نے اپنے معاشروں کو خوبصورت رکھنے کیلئے جو رسوم ورواج چھوڑے ہیں ان کو آج کی نسل میں منتقل کیا جائے۔اس کام کیلئے الحمراء اپنا قدم آگے بڑھاتاہے اور نئی نسل کو اپنی رسوم وراج سے روشناس کروانے کیلئے باقاعدہ سرگرمیاں مرتب کی جاتی ہیں۔یہ لوک”ورثہ“ اپنی سرگرمیوں کا ایک تسلسل تھا جو تین روز تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔ایگزیکٹو ڈایکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمر ا اطہر علی خان نے اس موقع پر کہا کہ ”ورثہ“ میں ملک بھر کے علاقائی ثقافتی حسن کو اجاگر کرنا قومی یکجہتی کا مظہر ہے،عوام کو معیاری تفریح میسر آئی، نئی نسل کو اپنی سماجی اقدار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا،اس میلے کو کامیاب بنانے کے لئے انتھک محنت کی گئی تما م وسائل برؤے کار لائے گئے۔انھوں نے کہاکہ میلے کا مقصد معاشرتی حسن میں نکھار پیدا کرنا، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کرنا ہے جس سے معاشرے میں پیار، محبت اور برداشت کے رویوں کو فروغ ملے گا، اس نوعیت کے ثقافتی پروگرام کا انعقاد الحمر ا کا خاصہ ہے،جو آئندہ بھی منعقد کئے جاتے رہے گے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان نے میلے کے آخری روز تما م سٹالزہولڈ کا شکریہ ادا کیا،انکی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور تمام سٹالز ہولڈکے سٹالز کے چارجز نہ لینے کا حکم دیا۔تین روز عوام کی بڑی تعداد نے میلے میں شرکت کی اور اس نوعیت کی ثقافتی سرگرمی کے کامیاب انعقاد پر الحمرا انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ورثہ میں تین روز ہینڈی کرافٹ،نوادرات،قیمتی اشیاء کی نمائش جاری رہیں، علاقائی رقص و موسیقی کے محفلوں سے لوگ لطف اندوز ہوتے رہے۔لوگ ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے رہے،روایتی کھانوں کی خوشبو بھی من موہ رہی،ثقافتی ملبوسات کے دیدہ زیب سٹالز بھی توجہ کا مرکز بنے رہے۔واضح رہے اپنی اسی متنوع سماجی اقدار کی بنا ء پاکستانی معاشرہ دنیا بھر میں ایک الگ اور منفرد پہچان رکھتا ہے۔لوک ورثہ میں بچوں کے لئے خصو صی شوز ”پتلی تماشہ“،”عینک والا جن“اور”الہ دین کا چراغ“ پیش کئے گئے جن سے بچے بے حد محظوظ ہوئے۔سر سبز و شادارب درختوں کے درمیان میں یہ میلہ لوگوں کو تادیر یاد رہے گا۔یوم قائد کے موقع پر الحمرا آرٹس کونسل میں بانی پاکستان کی نایاب اور خوبصورت تصاویر پر مبنی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔سیکرٹری انفارمیشن راجہ جہانگیر انور نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان اور کمشنرسوشل سیکیورٹی تنویر اقبال کے ہمراہ نمائش کا افتتاح کیا۔سیکرٹری انفارمیشن راجہ جہانگیر انور نے اس موقع پر کہاکہ میں یوم ولادت قائد پر پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آج کے دن ہم سب مل کر اس عزم کا اعادہ کریں گے کہ ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں ان مقاصد کے حصول میں صرف کریں گے جن کے لئے بابائے قوم نے انتھک محنت اور کوشیش کیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمرا اطہر علی خان نے کہا کہ اپنی احسن اقدار کو فرو غ دے کر پاکستان کو عظیم ملک بنا رہے ہیں،قائداعظم کے تصور کے مطابق ادب و ثقافت کے شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں،ہمیں متحد ہوکر قائداعظم کی تعلیمات پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ترقی کی منازل حاصل کرنے کیلئے قائد کے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا، الحمرا نے اپنے عظیم قائد کو خراج عقید ت پیش کرنے کے لئے پروقار تقریبات کا انعقاد کیا،قائد کے پوٹریٹ پر مبنی نمائش میں انکی خوبصورت پر نایاب تصاویر رکھی گئی ہیں جیسے عوام کی بڑی تعداد نے پسند کیا اور خصوصا نئی نسل کوبابائے قوم کی زندگی، آزادی کے سفر میں کی جانے والی جدوجہد سے روشناس کروایا گیا،ان تصاویر کو دیکھ کر اپنے وطن کے لئے کام کرنے کا عزم تازہ ہو جاتا ہے۔یہ دن ملک وقوم کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے،دنیا بھر میں اس شخصیت کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں،الحمرا نے بھی ہمیشہ کی طرح انکی خدمات کو یاد کرنے کے لئے اپنے باقاعدہ سلسلے گوشہ گیان میں ایک اہم نشست کا اہتمام کیا جس میں بڑی تعدا د میں شریک لوگوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے احسان کو یاد کیا۔نامور سکالر ڈاکٹر طارق شریف زادہ نے نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں وطن کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے،قائداعظم نے کہا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ باوجود خطرات کے جوہمیں درپیش ہیں، آپ سب کا مل اتحاد او ریکجہتی کے ساتھ مل کر کام کریں، مجھے یقین ہے کہ ہم پاکستان کا وقار پہلے سے زیادہ بلند رکھتے ہوئے اور اسلام کے عظیم روایات اور قومی پرچم کو بلند کئے ہوئے ان خطرات کے درمیان سے گزر جائیں گے۔گوشہ گیان میں نیاز حسین لکھویرا، زید حسن، شان زہرہ، ممتاز ملک، پروفیسر عابد قادری ودیگران نے بھرپور شرکت کی۔

مزید : کلچر