بھارت مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے،آزاد کشمیر میں بھی مہم جوئی کریگا:عمران خان

بھارت مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے،آزاد کشمیر میں بھی مہم ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتیں 5 سال پورے کرنے کے لیے آتی ہیں لیکن ہم اصلاحات کے لیے آئے ہیں۔پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا سی پیک سے چین صنعت، زراعت اور تیکنیکی تعلیم میں مدد کر رہا ہے اور ہمارا روپیہ مستحکم ہو رہا ہے۔ پاکستان کا بہترین ٹیلنٹ اوورسیز پاکستانی ہیں، اوور سیز پاکستانی کمفرٹ زون سے نکلیں اور پاکستان واپس آئیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ’اپنا‘ سے ملاقات ہوئی، پاکستانی ڈاکٹروں نے باہر کے ہسپتالوں کے سسٹم پر کینسر اسپتال قائم کیا، ہم بھی ہسپتالوں میں اصلاحات باہر ملکوں کے ہسپتالوں کی طرز پر کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والا طبقہ کہتا ہے نجکاری ہو رہی ہے، اصلاحات کو سبوتاڑ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے کہ ہسپتالوں کی اصلاحات نہیں نجکاری ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا ایک حکومت مدت پوری کرنے آتی ہے لیکن ہم اصلاحات کے لیے آئے ہیں اور تبدیلی کے بغیر پاکستان آگے نہیں جا سکتا، ملک کا انتظامی انفرا اسٹرکچر تبدیل کیے بغیر آگے نہیں جا سکیں گے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت اصلاحات کرتی ہے تو رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں لیکن ہم اصلاحات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہمیں مزاحمت ملے گی جسے ہم نے برداشت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہاتیر محمد کی اصلاحات کی بدولت ملائشیا کہاں سے کہاں پہنچ گیا، ترکی میں شرح سود 30 فیصد تھی اصلاحات کر کے معیشت ٹھیک ہو گئی، ملائیشیا اور ترکی اصلاحات کی وجہ سے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔مودی حکومت کو فاشسٹ اور نسل پرست قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کشمیر اور مسلمانوں کے معاملے میں انسانی حقوق کی  خلاف ورزیاں کر رہا ہے، عالمی قوانین کی بھی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جیسا پروگرام لا رہا ہے وہ ہٹلر کے نازی جرمنی میں تھا، ہٹلر نے نازی جرمنی کے ذریعے یہودیوں کی نسل کشی کی تھی، بھارت میں آر ایس ایس نظریے کی حامل بی جے پی حکومت وہی کر رہی ہے جو ہٹلر نے نازی جرمنی میں کیا۔عمران خان نے کہا کہ میانمار میں بھی پہلے مسلمانوں کو رجسٹریشن کے لیے کہا گیا اور پھر ان کی نسل کشی کی گئی۔ان کا کہنا تھا امریکا میں بھارت کی لابی پاکستان سے بہت طاقتور ہے، امریکا میں بھارت کا نکتہ نظر پاکستان پر حاوی رہتا ہے اور امریکی پالیسی بھارتی نکتہ نظر کی روشنی میں پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس معاملے کو امریکا میں اجاگر کرنے کی ہم نے کوشش کی ہے، شمالی امریکا میں موجود پاکستانی ڈاکٹر بھی آواز بلند کریں کہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نظربندی کو 5 مہینے ہونے کو ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدل رہا ہے جو جنگی جرم میں آتا ہے۔بھارت کے متنازع شہریت قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد ہی مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنا ہے جس کے خلاف بھارت کے اندر ہی احتجاج شروع ہو گئے ہیں، متنازع قانون کے خلاف سکھ، پارسی، اعتدال پسند اور پڑھے لکھے ہندو بھی احتجاج کر رہے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا باہر کے اخبارات، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں میں پہلی بار بھارت پر تنقید ہو رہی ہے، بھارت معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر میں مہم جوئی کرے گا، اس معاملے پر شمالی امریکا میں موجود پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم کی لابی کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کا اصل مقصد وہاں کے عوام کو ملک کے دیگر علاقوں کی طرز پر سہولیات فراہم کرنا ہے،قبائلی علاقہ جات میں کاروبار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دیں جس کی وجہ سے علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور سماجی و معاشی ترقی ہوگی۔ ہفتہ کو وزیر اعظم عمران خان سے خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ اراکین نے ملاقات کی جس میں گورنر شاہ فرمان، وزیر اعلی محمود خان،  چیف سیکرٹری،  آئی جی پولیس اور سینئر افسران موجود تھے۔وزیر اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کا اصل مقصد وہاں کے عوام کو ملک کے دیگر  علاقوں کی طرز پر سہولیات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ  بدقسمتی سے ماضی میں اس علاقے کی عوام کو نظر انداز کیا گیا،انضمام  کے عمل کو کامیابی سے آگے بڑھاناپی ٹی آئی حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔موجودہ حکومت نے انضمام شدہ علاقوں کے لئے ریکارڈ فنڈز مہیا کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہفاٹا کے انضمام شدہ علاقوں میں  نوجوانوں  کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ قبائلی علاقہ جات میں کاروبار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دیں جس کی وجہ سے علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور سماجی و معاشی ترقی ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سعودی عرب نے سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت اس پہلو پر خصوصی توجہ دے تاکہ صوبے میں موجود سیاحت کے استعداد کو بروے کار لایا جا سکے۔خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی پر عوام نے دوبارہ اعتماد کا اظہار کیا ہے اس لیے اب ہمارے اوپر زیادہ ذمہ داری ہے کہ عوام کی بھر پور خدمت کریں۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول


loading...