مقبوضہ کشمیر،بھارتی فورسز کا محاصرہ اور پابندیاں برقرار،لداخ میں مواصلاتی رابطے بحال

مقبوضہ کشمیر،بھارتی فورسز کا محاصرہ اور پابندیاں برقرار،لداخ میں مواصلاتی ...

  



سرینگر،نئی دہلی(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں مسلسل147ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ برقرار ہے، سردی کے شدید ترین دورانیے ”چلہ کلاں“نے محصور کشمیریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی محاصرے کے باعث مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں خوف و ہراس کا ماحول اور غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ سرینگر اور وادی کے دیگر بڑے قصبوں میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں اورچپے چپے پر بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ، پری پیڈ موبائل فون اور ایس ایم ایس سروسز بھی مسلسل معطل ہیں۔ انٹرنیٹ کی معطلی کی وجہ سے لوگوں خاص طور پر صحافیوں، طلباء اور تاجروں کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے ضلع لداخ کے خطہ کرگل میں 145روز کے بعد انٹرنیٹ اور فون سروسز کو بحال کر دیا گیا۔تاہم مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کی وجہ سے طلباء اور تاجر طبقہ سخت متاثر ہے۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے یوم شہدائے کشمیر اور سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ شیخ عبد اللہ کے یوم پیدائش کو عام تعطیلات کی فہرست سے خارج کردیا۔ مقبوضہ علاقے کے محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کے ڈپٹی سیکرٹری جی ایل شرما کی طرف سے جاری کردہ فہرست کے مطابق سال2020 میں مقبوضہ کشمیر میں 27 تعطیلات منائی جائیں گی۔ مقبوضہ کشمیر میں ہائیکورٹ نے تین افراد پر لاگو کالا قانون ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ کالعدم قرار دیتے ہوئے قابض انتظایہ کو انہیں رہا کرنے کے احکامات دیدئیے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عدالت نے جاوید احمد پرے، امتیاز حسین میر اور ارشاد احمد ڈار کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ان پر لاگو کالا قانون ”پی ایس اے“کالعدم قرار دے دیا۔ امتیاز حسین میر اور ارشاد احمد ڈار کا تعلق ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور جبکہ جاوید احمد پرے اسی ضلع کے علاقے پٹن کے رہائشی ہے۔ 

مقبوضہ کشمیر

سرینگر(آئی این پی)مقبوضہ کشمیر میں 2019کے دوران تشدد کے 141واقعات پیش آئے۔بین الاقوامی میڈیاکے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 2019میں 50 عام شہری ہلاک ہوئے، 152عسکریت پسند سکیورٹی اہلکاروں کیساتھ جھڑپوں اور تصادم میں شہیدہوئے جبکہ ہلاک شدہ سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 82رہی۔ خصوصی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی سب سے زیادہ ہلاکتیں جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ایک خودکش حملے میں ہوئیں۔ یہ حملہ سرینگرجموں قومی شاہراہ پر فروری میں کیا گیا تھا جس دوران 40نیم فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔پلوامہ خودکش حملے میں مقامی عسکریت پسند عادل احمد ڈار شامل تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والے تمام عسکریت پسند مقامی ہیں۔جس سے بھارت کے اس پروپیگنڈاکی نفی ہوتی ہے کہ کشمیر کی تحریک مقامی لوگوں کی تحریک نہیں ہے۔

رپورٹ

مزید : صفحہ اول


loading...