آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی سانحہ مشرقی پاکستان پر نئی کتاب کی رونمائی

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی سانحہ مشرقی پاکستان پر نئی کتاب کی رونمائی

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)آکسفورڈ یونیورسٹی پریس (OUP) نے ایک اہم کتاب کا افتتاح کیا جس کا عنوان ہے:Blood over Different Shades of Green-East Pakistan 1971: History Revisitedکتاب کے مصنّفین اکرام سہگل اور بٹینا ربوٹکا ہیں۔ کراچی میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں میڈیا، مصنّفین، علمی شخصیات اور غیرمُلکی معزّزین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کتاب میں 1971 ء کے اُن واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کے نتیجے میں پاکستان تقسیم ہوا۔ مصنّفین کے مطابق یہ واقعات پاکستان کی تاریخ میں نہایت اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔1971 ء کے کارکنوں کی شائع شدہ اور غیر شائع شدہ یادداشتوں پر مبنی اس کتاب میں اُن تباہ کُن واقعات کا تنقیدی تجزیہ کیا گیا ہے جن کا نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں ظاہر ہوا،اور اس سانحے سے سیکھے گئے سبق پر بھی بات کی گئی ہے۔اکرام سہگل پاتھ فائنڈر گروپ پاکستان کے چیئرمین ہیں جس میں سیکیورٹی سروسز ڈویژن (SSD) میں مُلک کی دو سب سے بڑی پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیاں اور فائنانشل سروسز اینڈ ٹیکنالوجی ڈویژن (FSTD) میں سب سے بڑی انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور متعلقہ کمپنیاں شامل ہیں۔ موصوف ورلڈ اکنامک فورَم (WEF) کے رُکن اور ایسٹ ویسٹ انسٹیٹیوٹ (EWI) کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ بینک الفلاح کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور - K الیکٹرک کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے اخبارات کے لیے آرٹیکل لکھتے ہیں اور ٹیلی وژن پر حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں میں دفاعی اور سیکیورٹی تجزیہ کار کے طور پر نظر آتے ہیں۔ بٹینا ربوٹکا نے تیس سال سے زائد عرصے تک IAAS میں بھارتی نوآبادیت اور پاکستانی تاریخ کے مختلف پہلو پڑھائے ہیں۔ انہوں نے 2005 ء سے 2010 ء تک اور 2012 ء سے 2013 ء تک ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے غیرمُلکی اساتذہ کے پروگرام میں کُل وقتی پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں ہیں اور کراچی میں IBA اور IoBM میں تاریخ اور سماجی علوم کے مختلف کورسز پڑھائے ہیں۔ برِّ صغیر میں قومی تحریک کی تاریخ، اقبال، پاکستان کا سیاسی نظام، جنوبی ایشیا میں جمہوریت، اور سیاست میں اسلام کا کردار جیسے موضوعات پر بٹینا ربوٹکا کی وسیع پیمانے پر کتب شائع ہوئی ہیں۔اب وہ پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات اور خارجہ پالیسی کے پہلوؤں پر کام کر رہی ہیں۔افتتاحی تقریب میں کتاب پر سَیرحاصل مباحثے کا انعقاد کیا گیا جس میں لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) علی کُلی خان خٹک، سابقہ چیف آف جنرل اسٹاف؛ سراج الدین عزیز، سی ای او، گروپ فائنانشل انسٹیٹیوشنز، حبیب بینک اے جی زیورچ؛ سینیٹر مشاہد حُسین سید، سیاستدان اور کالم نگار؛ جاوید جبار، مصنّف اور سابقہ وزیر اور سینیٹر؛ اور کتاب کے دونوں مصنّفین شریک ہوئے۔ مقرّرین نے کہا کہ یہ کتاب تقسیمِ پاکستان کی طرف لے جانے والے واقعات اور متعدد افراد کے کردار سے متعلق حقائق کی درستگی کی اشد ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ مباحثے کی میزبانی ڈاکٹر ہما بقائی نے کی جوIBA میں ایسوسی ایٹ ڈین اور ایسو سی ایٹ پروفیسر آف سوشل سائنسز اینڈ لبرل آرٹس ہیں۔OUP کے منیجنگ ڈائریکٹر ارشد سعید حُسین نے استقبالیہ خطاب میں کہا، ”مصنّفین نے سہگل صاحب کے ذاتی تجربات پر مبنی واقعات کی متوازن روئداد بیان کی ہے جس سے قارئین کو متعصب بیانیوں اور تجزیوں کا متبادل میسّر آتا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کتاب حقیقی طور پر ایک غیرجانبدار روئداد ہے جس سے ہمیں 1971 ء کے واقعات، اور بالخصوصان واقعات پر پاکستان کے مؤقف کی صائب سمجھ بوجھ حاصل ہوسکتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر