وہیکلز مالکان سے ڈیڑھ ارب وصولی کے باوجود کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس فراہم نہ کی جا سکیں 

وہیکلز مالکان سے ڈیڑھ ارب وصولی کے باوجود کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس فراہم نہ ...

  



لاہور(ارشدمحمود گھمن/سپیشل رپورٹر)صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھرکے 9ریجن میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن کے اعلیٰ افسران کی ناقص حکمت عملی کے باعث نیو گاڑیوں کی رجسٹریشن کی 15لاکھ کمپیوٹر نمبر پلیٹس سے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے مالکان محروم جبکہ محکمہ نے تقریباًایک ارب 50کروڑ روپے کی نمبر پلیٹس کی مد میں شہریوں سے بٹورلئے، نئے ڈی جی محمدسہیل شہزاد کی ایک ماہ کی تعیناتی کے بعد بھی تاحال مذکورہ کمپیوٹرائزڈنمبرپلیٹس کامسئلہ جوں کا توں ہے جبکہ پنجاب حکومت اس سے قبل ناقص کارکردگی پر 4ڈی جیز کو بھی تبدیل کرچکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رواں سال2019ء اختتام پذیرہونے کے بعد بھی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن 15لاکھ گاڑیوں اورموٹرسائیکل مالکان کوکمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس جاری کرنے میں بری طرح ناکام رہاہے،مذکورہ محکمہ نے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے 9ریجن میں نیو کمپیوٹرنمبر پلیٹس کی مد میں تقریباً ایک ارب 50کروڑ روپے  وصول کرچکی ہے مگر مبینہ طور پرمحکمہ میں چندکرپٹ افسران اسے ناکام بنانے کے لئے سرگرم ہیں،محکمہ ایکسائز کی جانب سے نمبر پلیٹس نہ ملنے پر مجبوری میں نجی دکانوں سے نمبر پلیٹس بنوالیتے ہیں جبکہ متاثرین پہلے محکمہ ایکسائز کو نمبر پلیٹس کی مد میں رقم دے چکے ہیں اور بعد میں نجی دکانوں سے بھی دوبارہ رقم دے کر نمبر پلیٹس بنواتے ہیں،ذرائع کے مطابق گاڑی کی کمپیوٹر نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب پولیس،ٹریفک وارڈنز اورمحکمہ ایکسائز کاعملہ بلاوجہ بہانے بنا کرانہیں تنگ کرکے پیسے بٹورنے میں مصروف ہے۔ سابق حکومت نے کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈ کے اجراء کے لئے بھی قومی خزانہ سے کروڑوں روپے خرچ کئے تھے، بعدازاں موجودہ حکومت نے باقاعدہ طور پر نیورجسٹریشن کاخاتمہ کرکے سمارٹ کارڈ کااجراء بھی شروع کردیا تھالیکن ایک سال گزرنے کے باوجود بھی سیکرٹری اور ڈی جی ایکسائز کی ناقص حکمت عملی کے باعث رواں سال کے دوران نیو رجسٹریشن گاڑیوں کے مالکان کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈ حاصل کرنے کے لئے دفاتر کے چکر لگالگاکرخوارہوچکے ہیں۔

نمبر پلیٹس

مزید : صفحہ آخر