مدرسے میں زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے کیلئے مدد آن پہنچی، اہم شخصیت ہسپتال آگئی

مدرسے میں زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے کیلئے مدد آن پہنچی، اہم شخصیت ...
مدرسے میں زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے کیلئے مدد آن پہنچی، اہم شخصیت ہسپتال آگئی

  



مانسہرہ(ویب ڈیسک) مدرسے میں مبینہ طور پر 100 سے زائد مرتبہ زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے کی تیمار داری کے لیے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ہزارہ مظہر الحق کاکا خیل ہسپتال پہنچ گئے،انہوں نے بچے کے علاج کے تمام تر اخراجات خود اٹھانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق ڈی آئی جی ہزارہ کا کہنا تھا کہ بچے سے زیادتی میں ملوث پانچ معاون ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں اور غیر رجسٹرڈ مدرسے کو سیل بھی کردیا گیا ہے۔مظہر الحق کاکا خیل نے مزید کہا کہ مرکزی ملزم قاری شمس الدین کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔ڈی آئی جی نے ہسپتال میں بچے کے والد کو یقین دہانی کرائی کہ مرکزی ملزم کو جلد گرفتار کرکے عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔

دوسری جانب مانسہرہ میں بچے سے ہونے والی مبینہ زیادتی مرکزی ملزم شمس الدین کے سرکاری  سکول کے استاد ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع کے مطابق  ملزم گورنمنٹ ہائی سکول ٹھاکر میرا میں معلم ہے۔اس اطلاع کے بعد خیبرپختونخوا کا محکمہ تعلیم بھی حرکت میں آگیا ہے اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر(ڈی ای او) مانسہرہ نے جنسی زیادتی کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کیے جانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

اس ضمن میں مشیر تعلیم کا کہنا ہے کہ الزام ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز کوہستان کے رہائشی 10 سالہ بچے سے مانسہرہ کے ایک مدرسے میں استاد کے مبینہ طور پر 100 سے زائد مرتبہ زیادتی کیے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔بچے کی حالت انتہائی غیر ہونے پر اسے اسپتال لایا گیا تھا۔

مزید : جرم و انصاف /علاقائی /خیبرپختون خواہ /مانسہرہ


loading...