”سندھ کا ایک معصوم بچہ جسکو یہ پتہ نہیں کہ وہ دولہا بنے گایا دلہن وہ ۔۔۔“وینا ملک کسی کا نام لیے بغیر برس پڑیں

”سندھ کا ایک معصوم بچہ جسکو یہ پتہ نہیں کہ وہ دولہا بنے گایا دلہن وہ ...
”سندھ کا ایک معصوم بچہ جسکو یہ پتہ نہیں کہ وہ دولہا بنے گایا دلہن وہ ۔۔۔“وینا ملک کسی کا نام لیے بغیر برس پڑیں

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)اداکارہ وینا ملک نے کسی کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ سندھ کا ایک معصوم بچہ جو نہیں جانتا کہ اسے دلہا بننا ہے یا دلہن وہ وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہا ہے،وینانے اپنے سلسلہ وار ٹویٹ میںبولنے پر چوڑیاں توڑنے کی

بات بھی کی ہے۔تفصیلات کے مطابق اداکارہ وینا ملک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے تبصروں اور دوسروں پر شدید تنقید کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کئے رکھتی ہیں۔ایسی ہی کچھ ٹویٹس انہوں نے ایک بار پھر کی ہیں جس میں کسی نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ سندھ کا ایک معصوم بچہ جسے پتہ تک نہیں کہ وہ دولہا بنے گا یا دلہن وہ وزیراعظم بننے کاخواب دیکھ رہاہے۔وینا ملک نے اپنے ٹویٹ کے ساتھ رات گئے کے خیالات کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے وینا ملک نے لکھا کہ ”پیپلز پارٹی کی حکومت میں اس حکومت کے وزیر نے بینظیر قتل کیس کی تحقیقات کیلئے امریکہ سے آنے والی ٹیم کو 70 صفحات پر مبنی ایک رپورٹ دے کر کہا آپ تحقیقات کرلو لیکن آپ کی رپورٹ یہی ہونی چاہیے کچھ ردو بدل کرنی ہے تو بس وہ کر سکتے ہو۔اب ذرا سوچئے! بینظیر کے اصل قاتل کون ہیں؟“

وینا نے مزیدکہا کہ ”پاکستان بننے سے لیکر اب تک کسی آرمی چیف، نیوی چیف یا ائیر چیف کا بیٹا یا بھائی چیف نہیں بنا جو بھی بھرتی ہوتا ہے قابلیت کے مطابق پوسٹ حاصل کرتا ہے جبکہ ملک کو لوٹ کر لندن میں جائیدادیں اور سرِمحل بنانے والوں کی تین تین نسلیں پیراشوٹ سے سیدھا پارٹی چئیرمین کی کرسی پر گرتے ہیں“

اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں وینا ملک نے لکھا کہ ”ملک میں آئینی بحران ہے ملک خطرے میں ہے۔بلاولہ بھٹو زرداری۔

اپنا رائٹر بدل لو یہ سب الفاظ تمہارا پاپی پاپا لاکھ بار بول چکا، ملک کو اتنا لوٹنے کے باوجود پاپا اور بلو بیٹی دونوں کا ایک ہی رائٹر ہے آخر اتنی دولت قبر میں لےکر جانی ہے؟اب بولی تو میں نے تمہاری چوڑیاں توڑ دینی ہیں!

وینا کے ٹویٹس نے ٹویٹر پر ہنگامہ برپا کررکھا ہے،لوگوں کی بڑی تعداد انہیں نامناسب الفاظ کے استعمال پرتنقید کا نشانہ بنارہی ہے۔کامران نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’شرم آنی چاہئے دوسروں کی تحقیر کرتے ہوئے۔ ہمارے ناد نہاد مسلمان ہونے پر اتنی دلیل کافی ہے کہ خدا ہمیں جن باتوں سے روکتا ہے ہم سینہ ٹھوک کر وہی کام کرتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر حدیثیں بھیج کر ضمیر کو مطمئن کرنے والی قوم بن چکے ہیں۔ ایمان ہے تو سب سے پہلے اپنی زبان کی حفاظت کریں۔‘

سکندر باجوہ نے لکھا

’میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد

سنگ ا ٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

خدا خوفی کا دامن نہ چھوڑیں،اسی نے سب کو بنایا‘

نکیش راٹھور نے لکھا’مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آپ کو کس الفاظ سے تشبیہ دوں، محترمہ کہو، میڈم کہو یا کیا کہو وینا جی چھوڑو بلاول صاحب کو آپ لوگوں کو خوش کرتی ہیں وہ بہت ہے۔آپ پریشان نہ ہو وہ آپ کو کچھ نہیں کرے گا نہ آپ کی ان گھٹیا باتوں کو دل و دماغ میں لے گا۔۔‘

بے نظیر سے متعلق ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے احتشام نامی صارف نے لکھا’پی پی حکومت کے دوران جب مرتضی بھٹوقتل ھواتوکچھ دن بعداپنے کچھ سینیٹرزکی موجودگی میں بینظیرنے اپنے خاص پولیس افسرراوانوارسے پوچھاکہ قاتل کاپتاچلا؟راوانوارنے دھیمی آوازمیں بتایاکہ جی ہاں،قاتل وہ ہے جس نے حلیہ بدل لیاہے۔بینظیرنے آس پاس بیٹھے سب لوگوں کودیکھا،صرف زرداری مونچھیں منڈائے بیٹھاتھا‘

محمد اعجازنے لکھا کہ ’اس کا ذمے دار مشرف تھا کیو نکہ اس وقت حکومت اس کی تھی اور بی بی نے خود کہہ دیا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار مشرف ہو گا آج مشرف کا جو حال ہے سب کے سامنے ہے‘

فوج سے متعلق وینا کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے ارسلان نامی شخص نے کہا’بہن جی فوج ایک ادارہ ہے جہاں ملازمین بھرتی ہوتے ہیں ملک کے لیے خدمات سرانجام دیتے ہیں تنخواہ لیتے ترقی کرتے شہید ہو جاتے ہیں یا ریٹائر ہو جاتے ہیں جبکہ سیاست بالکل مختلف ہے آپ اسے سیاسی جماعتوں سے کیوں کمپئیرکر رہی ہیں؟“۔

صابر حسین نے لکھا’ہم ذہنی طور پر غلام ابن غلام ہیں تو پھر یہ سیاسی خانوادے ہماری غلامی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد در اولاد ہم پر حکمرانی کرتی ہے قصور ہمارا ہے سراسر ہمارا ہے۔آرمی اور چوروں کا موازنہ ٹھیک نہیں‘

صلاح خان نے لکھا’میں آپ کے حلقہ کا ایک عام آدمی ہوں لیکن اتنی عقل رکھتا ہوں۔ کہ کیا لائک کے قابل ہے اور کیا نہیں۔۔مگر افسوس کہ میرا حلقہ اس شخص کے حوالے ہو گیا۔ جس کو لفظوں کے تمیز کا بھی نہیں پتا۔‘

سلمان خان نے لکھاکہ ’اتنا سفید جھوٹ کیوں بول رہے ہو بھائی میں سندھ میں رہ رہا ہوں بدحال کہاں ہے ہم سب خوشحال ہیں اچھی سڑکیں اچھی دل کی ہسپتالیں۔

یہ سب مخالف ہیں پ پ پ کے وہ باتیں بنا رہے ہیں میں بھی پ پ پ کا مخالف ہوں پر جو کام ہوتا ہے اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔‘

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی