پاکستان عالمی اخبارات کی توجہ کا مرکز، برطانوی جریدے کی رپورٹ پر عمران خان بھی چپ نہ رہ سکے

پاکستان عالمی اخبارات کی توجہ کا مرکز، برطانوی جریدے کی رپورٹ پر عمران خان ...
پاکستان عالمی اخبارات کی توجہ کا مرکز، برطانوی جریدے کی رپورٹ پر عمران خان بھی چپ نہ رہ سکے

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کے خوبصورت مقامات عالمی جرائد کی توجہ کا مرکز بن گئے۔اس بار برطانوی جریدے وانڈرلسٹ نے پاکستان کے نو ایسے مقامات کی تشہیر کی کہ خود وزیراعظم عمران خان بھی چپ نہ رہ سکے۔

وانڈرلسٹ کا پاکستان کے نو خوبصورت ترین مقامات پر لکھا گیا آرٹیکل شیئر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا پاکستان ناقابل تصورحسن کی سرزمین ہے،یہاں حیرت انگیز قدرتی پوشیدہ اورغیر استعمال شدہ سیاحتی مقامات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وانڈرلَسٹ نے اپنے آرٹیکل میں جن نو مقامات کی تفصیل بتائی ہے ان میں پہلے نمبر پر بلتورو گلیشئیر کورکھا گیاہے

بلتورو گلیشیر قطبین کے بعد سب سے لمبا گلیشیر ہے جو پاکستان کے صوبے گلگت بلتستان کے علاقے بلتستان میں واقع ہے اس کی لمبائی 62 کلومیٹر ہے مشہور زمانہ کے ٹو پہاڑ بھی اسی گلیشیر میں واقع ہے اسی گلیشیر سے برالدو دریانکلتا ہے جو بعد میں دریائے سندھ میں گرتا ہے۔ اس گلیشیر تک رسائی سکردو شہر سے کی جا سکتی ہے۔

جریدے کے مطابق دوسرے نمبر پرآزادکشمیرکی وادی نیلم ہے جس کی خوبصورتی سحر طاری کردیتی ہے۔

اس وادی کا نام یہاں ملنے والے نیلم پتھر وں کے نام پر ہی رکھا گیاہے۔خوبصورت جنگلات، پہاڑ، قدرتی مناظر،ہر منظرہی دلکش ہے۔وادی نیلم پاکستان کی ریاست آزاد کشمیر میں ایک جنت نظیر وادی ہے۔ یہ مظفرآباد کے شمال اور شمال مشرق میں دریائے نیلم کے دونوں اطراف واقع ہے۔وادی نیلم ضلع نیلم پر مشتمل ہے جس کا صدر مقام آٹھ مقام ہے۔ اس کی دو تحصیلیں آٹھمقام اور شاردا ہیں۔یہ وادی 144 کلو میٹر طویل ہے جو بلندوبالا پہاڑوں، گھنے جنگلات اور خوبصورت باغات پر مشتمل ہے۔

تیسرے نمبر پر لسبیلہ کا علاقہ ہنگول نیشنل پارک بتایا گیاہے ۔

مکران کوسٹ کے ساتھ پھیلے اس علاقے کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ہنگول نیشنل پارک بلوچستان اور پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو چھ لاکھ انیس ہزار ترتالیس ہیکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ کراچی سے 190 کلومیٹر دور یہ پارک بلوچستان کے تین اضلاع گوادر،لسبیلہ اورآواران کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقہ میں بہنے والے دریائے ہنگول کی وجہ سے اس کا نام ہنگول نیشنل پارک رکھا گیا ہے۔ اس علاقہ کو 1988 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔

ہنگول نیشنل پارک اس وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں چار مختلف قسم کے ماحولیاتی نظام یا Eco Systemsکا پایا جانا ہے۔ ہندوو¿ں کا ہنگلاج مندر بھی اس پارک میں واقع ہے۔20 افراد کا عملہ جو گیم واچر،رینجرز اور مینیجر پر مشتم ہے اس پارک کی نگرانی کرتا ہے۔ اس پارک کو چلانے کے لیے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔یہ پارک طبعی طور پر پہاڑ، ریت کے ٹیلوں اور دریا کے ساتھ سیلابی میدان وغیرہ میں بٹا ہوا ہے۔ ہنگول ندی نیشنل پاک سے ہوکر گزرتی ہے اور سمندر میں گرنے سے پہلے ایک مدو جزر والا دھانہ بناتی ہے جو کئی ہجرت کرنے والے آبی پرندوں اور دلدلی مگر مچھوں کا مسکن ہے۔

اس پارک کے جنگلی حیانات کے حیوانات لبونہ میں ایبیکس، یورال، چنکارہ، لومڑی، گیڈر، بھیڑیا وغیرہ شامل ہیں۔ پرندوں میں تیتر، گراوس، ہوبارہ، بوسٹرڈ، باز، چیل، مرغابی، ترن، چہا، فالکن وغیرہ شامل ہیں۔رینگے والے جانوروں میں دلدلی مگر مچھ، لمبی چھپکلی، موٹی زبان والی چھپکلی، وائپر اور کوبرا ناگ وغیرہ کے علاوہ کئی اور سمندری حیوانات بھی شامل ہیں۔۔نباتات میں تمریکس، پروسوپیز، زیز یپس اور کیکر موجود ہیں۔ یہاں چند نایاب جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ جن کی طبی حوالے سے بڑی اہمیت ہے۔ مقامی لوگ ان کے ذریعے کئی بیماریوں کا علاج دیسی طریقوں سے کرتے ہیں۔

چوتھے نمبر پرٹرینگو ٹاورز ہیں۔

ٹرینگو سلسلہ کوہ قراقرم پاکستان میں ایک مینار کی طرح بلند چوٹی کا نام ہے۔ اس کی بلندی 20469 فٹ ہے۔ یہ کے ٹو اور بالتورو گلیشیئر کے قریب ٹرینگو پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ مینار کی طرح بناوٹ اس پر چڑھنا بہت دشوار کر دیتی ہے۔ان چوٹیوں کی پہلی بار پیمائش انیس سوستتر میں ہوئی تھی۔

پانچویں نمبرپردیوسائی۔

دیوسائی نیشنل پارک سطح سمندر سے 13،500 فٹ اونچائی پر واقع ہے۔ پارک 3000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ نومبر سے مئی تک پارک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ بہار کے موسم میں پارک پھولوں اور کئی اقسام کی تتلیوں کے ساتھ ایک منفرد نظارہ پیش کرتا ہے۔دنیا کی بلند ترین سطح مرتفع نایاب بھورے ریچھوں کا مسکن اور سیاحوں کی جنت بھی کہلاتی ہے۔یہاں کے شمالی علاقہ جات اپنی خوبصور تی اور رعنائی میں لاثانی ہیں۔ یہاں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور وسیع ترین گلیشئیر کے علاوہ دنیا کا بلند ترین اور وسیع ترین سطح مرتفع دیوسائی بھی موجود ہے۔

دیوسائی کی خاص بات یہاں پائے جانے والے نایاب بھورے ریچھ ہیں اس نوع کے ریچھ دنیا میں میں کہیں اور نہیں پائے جاتے۔ دیوسائی سطح سمندر سے اوسطاً 13500َفٹ بلند ہے اس بلند ترین چوٹی شتونگ ہے جو 16000فٹ بلند ہے۔ دیوسائی کا کل رقبہ 3000 مربع کلو میٹر ہے۔ سال کے آٹھ تا نو مہینے دیوسائی مکمل طور پر برف میں ڈھکا رہتا ہے۔

میگزین نے چھٹے نمبر پرصحرائے تھر کو جگہ دی ہے۔

صحرائے تھر پاکستان کی جنوب مشرقی اور بھارت کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 200,000 مربع کلومیٹر یا 77,000 مربع میل ہے۔اس کا شمار دنیا کے نویں بڑے صحرا کے طور پر کیا جاتا ہے۔دریائے سندھ کی وادی مشرق کی سمت تھر کے ریگستان سے گھری ہوئی ہے۔

برصغیر کا یہ عظیم ریگستان تین سو میل وسعت کے ساتھ اپنی خاموشی اور تنہائی کی چادر میں جیسے جیسے بڑھتا ہے ویسے ویسے ہی بلند ہوتا جاتا ہے۔ تا آنکہ کوہ آبو اور ارادلی کے پہاڑی سلسلے سے جاملتا ہے۔جنوب کی سمت تقریباًً جمراوَ ہیڈ کے عرض البد سے رن کچھ تک واضح ہے۔ آگے شمال کی سمت میں ریت کے ٹیلے وادی کی سیلابی مٹی کے میدان میں اندر ملتے ہیں۔ اس رتیلی سرحد کے شمال اور جنوب میں جو رد بدل ہوتا ہے وہ جنوب مغربی مان سون پر منحصر ہوتا ہے۔

ساتواں نمبر سیف الملوک

جھیل سیف الملوک ناران پاکستان میں 3224 میٹر/10578 فٹ کی بلندی پر وادی کاغان میں واقع ہے۔ قریبی قصبہ ناران سے بذریعہ جیپ یا پیدل اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت جھیل ہے۔ دنیا بھر سے سیاح اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ ملکہ پربت اور دوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے۔ سال کے کچھ مہینے اس کی سطح برف سے جمی رہتی ہے۔

آٹھویں نمبرپر ہنزہ ویلی کا ذکر۔

ہنزہ شمالی پاکستان کا ایک علاقہ ہے۔ اسے وادی ہنزہ بھی کہتے ہیں۔ یہ گلگت سے شمال میں نگر کے ساتھ اور شاہراہ ریشم پر واقع ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی بستیوں کا مجموعہ ہے۔ سب سے بڑی بستی کریم آباد ہے۔ سیاحوں کا یہ بڑا مرکز ہے۔ راکاپوشی کا نظارہ بہت دلفریب ہے۔پاک فوج میں ملازمت اور سیاحوں کی خدمت سب سے بڑا ذریعہ روز گار ہے۔

دریائے ہنزہ اسکے ساتھ سے گزرتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی زبان وخی اور بروشسکی ہے۔ لیکن یہاں کے لوگ شینا زبان بھی بولتے ہیں۔ تین جغرافیائی حصوں، یعنی مرکزی ہنزہ، وادی گوجال اور شیناکی پر مشتمل وادی ہنزہ منفرد ثقافتوں اور سیاحتی مقامات کا مرکز ہے. مشہور سیاحتی مقامات میں قلعہ بلتت، قلعہ التت، بوریت جھیل، دریائے ہنزہ کی حادثاتی بندش سے وجود میں آنے والی گوجال جھیل، پھسو گلیشر، درہ خنجراب، درہ منتکا، گلمت، التر کی پہاڑی اور وادی شمشال شامل ہیں۔

جریدے نے اپنی فہرست میں نویں نمبر پر عطا آباد جھیل کو رکھا ہے جس کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔

گلگت سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر وادی گوجل میں واقع عطا آباد جھیل اپنے نیلے، شفاف اور میٹھے پانی کی وجہ سے بے حد مقبول ہے جبکہ اس کے ارد گرد موجود بلند چوٹیاں اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کردیتی ہیں، دیکھنے والے کو یہ منظر کسی جنت سے کم نہیں لگتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سر بفلک پہاڑوں کے دامن میں کسی نے صاف شفاف پانی کا تالاب بنا دیا ہو۔یہاں آنے والے اپنا شمار خوش نصیبوں میں کرتے ہیں کیونکہ اس منفرد اور انوکھی جھیل تک پہنچنا اتنا آسان نہیں۔یہاں تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹوں کی پرخطر اور کٹھن مسافت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر آپ اپنی منزل مقصود تک پہنچ پاتے ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...