ملک میں احتساب مذاق بن کر رہ گیا،حکومت نے ایوانوں کی موجودگی میں نیب کے پرکاٹنے کی کوشش کی:سراج الحق

ملک میں احتساب مذاق بن کر رہ گیا،حکومت نے ایوانوں کی موجودگی میں نیب کے ...
ملک میں احتساب مذاق بن کر رہ گیا،حکومت نے ایوانوں کی موجودگی میں نیب کے پرکاٹنے کی کوشش کی:سراج الحق

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی سمت جانچنے کیلئے 15 ماہ کافی ہیں،حکومت نے شرح سودمیں ریکارڈاضافہ کیا،حکومت نے مہنگائی کانیاریکارڈقائم کیاہے،چندوزیروں اورمشیروں کی زندگی میں تبدیلی آئی لیکن عوام پس گئے،حکومت نے تبدیلی کانعرہ لگایامگرآج احتساب مذاق بن گیا،نیب نے گزشتہ دنوں بی آرٹی کامعاملہ اٹھایا،حکومت نے ایوانوں کی موجودگی میں نیب کے پرکاٹنے کی کوشش کی،سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمران بھی نیب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں،اِس ادارے کی ری سٹریکچرنگ کرکے پارلیمنٹ سے اس کی منظوری لی جائے،حکومت اور ادارے عوام کے ٹیکسوں پر چلتے ہیں لیکن عوام کو کچھ نہیں ملتا،ایوانوں کی موجودگی میں نیب آرڈیننس جاری کیاگیا۔

منصورہ میں  مرکزی مجلس شوریٰ کے تین روزہ اجلاس کےبعد پریس کانفرنس کرتےہوئےامیرجماعت اسلامی سینٹرسراج الحق نےکہاکہ ملک میں جمہوریت کوپنپنے اورمستحکم ہونے کا موقع نہیں دیا گیا،اداروں کی حکمرانی کے تصور کو ختم کرنا اور عوام کی حکمرانی کے حقیقی تصور کو پروان چڑھانا ضروری ہے،جمہوریت کی مضبوطی کے لیے حکومت کا مضبوط ہونا ضروری ہے،جمہوریت ڈانواڈول اورحکومت صابن پرکھڑی ہے،لوگ ووٹ دیتے ہیں مگرہرالیکشن کےبعدنئی مایوسی کاسامناہوتاہے،حکومت اب چلنےکےقابل نہیں رہی، پاکستا ن میں ترقیاتی کام بندہوگئےاس لیے درآمدات میں کمی آئی،حکومت نے تیزی کیساتھ قرض لیے،بھارت سرحدوں پرمیزائل نصب کررہاہے،ادارے دست وگریباں ہیں۔سینیٹر سراج الحق نےکہاکہ جب تک الیکشن کے نظام کو بااعتماد اورشفاف نہیں بنایا جاتا،ہر آنےوالی حکومت پرالزامات لگتےرہیں گے،موجودہ حکومت اور سابقہ حکومتوں پردھاندلی سےآنے کےالزامات لگتےرہےاوریہ الزامات غلط نہیں تھے،ارینج منٹ سے کھڑی کی گئی حکومت کوعوام کااعتمادحاصل ہوتاہے اورنہ وہ چلنے کےقابل رہتی ہے،اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر غیر جانبدار الیکشن کمیشن تشکیل دیں جس کو تمام پارٹیوں کا ا عتماد حاصل ہو ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی ، پارلیمانی او ر داخلہ و خارجہ محاذوں پر مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے،اس وقت خارجہ محاذ پر پاکستان تنہا کھڑا ہے،ترکی اور ملائیشیا جو ہمارے دوست تھے اور انہوں نے کشمیر کے مسئلہ پر ہماری کھل کرحمایت کی تھی ،آج وہ بھی ہمارے ساتھ نہیں ہیں،ایک طرف بھارت سرحدوں پر میزائل نصب کر رہاہے اور دوسری طرف ہماری حکومت اور ادارے باہم دست و گریبان ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ بہت زیادہ توجہ طلب ہے،مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اور مسلمانوں کے خلاف شہریت بل لاکر مسلمانوں کے خلاف جو راستہ اختیار کیا تھا،وہ خود ہندوستان کے لیے تباہی کا پیغام بن گیاہے،پورے بھارت میں احتجاجی مظاہرے ہورہےہیں اور اس وقت اقلیتوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اور بہت سے ہندو راہنما بھی اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن ہماری حکومت کے پاس کشمیریوں کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں،ہم نے اسلام آباد میں کشمیر مارچ کر کے لاکھوں لوگوں کو جمع کیا تاکہ بے حسی کی چادر اوڑھ کر سوئے ہوئے حکمرانوں کو جگائیں مگر ای سی جی کے بعد پتہ چلا کہ ان حکمرانوں میں زندگی کی اب کوئی رمق نہیں  ۔سراج الحق نے کہا کہ ہماری حکومت نے 70 لاکھ افراد کو غربت میں مبتلا کر دیا،تاریخ میں پہلی بار اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں16.2 فیصد میں اضافہ ہوا، حکومت نے شرح سودمیں ریکارڈاضافہ کیا،مصنوعی اکثریت اورمینڈیٹ کے باعث حکومت کمزورہے،حکومت نے مہنگائی کانیاریکارڈقائم کیاہے،چندوزیروں اورمشیروں کی زندگی میں تبدیلی آئی لیکن عوام پس گئے،ہماراکوئی ذاتی ایجنڈاہے نہ ابوبچاوپروگرام، حکومت کی سمت جانچنے کیلئے 15 ماہ کافی ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک ظلم و جبر اور سٹیٹس کو کامسلط کردہ نظام اکھاڑ کر نہیں پھینک دیا جاتا ، ملک و قوم ترقی نہیں کر سکتے، ہم ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے قوم کو متحداور یکسو کریں گے،اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا ،آج تک تمام ادارے طاقت کے حصول اور عوام کو فتح کرنے میں مصروف رہے،عوام ووٹ دیتے ہیں مگر ہر الیکشن کے بعد ان کی مایوسی اور ناامیدی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے،عام آدمی کو تعلیم ، صحت ، انصاف اور روز گار کی سہولت حاصل نہیں ،سٹیٹس کو کی موجودگی میں آنے والا وقت بھی روشن دکھائی نہیں دیتا ۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور