حکومت نے نیب قوانین میں تبدیلی پر پھیلی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

حکومت نے نیب قوانین میں تبدیلی پر پھیلی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے بڑا اعلان ...
حکومت نے نیب قوانین میں تبدیلی پر پھیلی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب  بیرسٹرمرزا شہزاد اکبر نے کہا ہے  کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ احتساب کا عمل ختم ہو گیا،نیب ڈرافٹ پر دیکھئے بغیر تنقید کی جارہی ہے،کوئی ذاتی فائدہ چاہتا ہےتواِس حکومت سےنہیں مل سکتا،جس شخص کاتعلق پبلک آفس ہولڈرسےنہیں ہوگا اِس پر نیب کا اطلاق نہیں ہو گا،نیب قوانین میں  ترمیم کے بعد اب ٹیکس کے تمام معاملات نیب نہیں بلکہ ایف آئی اے دیکھے گا،لیوی اور امپورٹ کے کیس بھی نیب نہیں دیکھے گا۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس نیب آرڈیننس 2019 کے بارے میں ہے،نیب ڈرافٹ پر دیکھئےبغیرتنقید کی جارہی ہے،اس لئے وضاحت ضروری ہے،میں چھٹیوں پرتھالیکن نیب قوانین میں ترمیم سے متعلق کنفیوژن کو دور کرنے آیا ہوں، طریقہ کار کا نقص نیب کا دائرہ کار نہیں بنتا اس میں محکمانہ کارروائی بنتی ہے جبکہ نیب کا کام کرپشن کی روک تھام ہے اداروں کی اصلاح کرنا نہیں،صرف فیصلہ کرنے کی وجہ سے کسی کا کیس نیب میں آتا تھا تو وہ زیادتی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ آرڈیننس کو پارلیمان کے پاس ہی جانا ہے،گزشتہ 10 برس میں نیب قوانین میں تبدیلی کی خواہشات بدنیتی پر مبنی تھیں جن پر عمل نہیں کیا گیا،ماضی میں نیب قوانین میں ترامیم کی کوششوں کامقصدخودکو بچاناتھا،کوئی ذاتی فائدہ چاہتاہےتو اِس حکومت سے نہیں مل سکتا،معاشرے میں کرپشن کاناسورپھیلاہےاوراس کی درستگی کے  لیے  سخت قوانین کی ہی ضرورت ہے،ایسا نہیں ہے کہ نیب ترمیمی قانون پاس ہونے کے بعد کسی ٹیکس چور کو رعایت مل جائے گی بلکہ وہ معاملہ متعلقہ ادارہ دیکھے گا۔اُنہوں  نے کہا کہ12 میں سے ایک شق اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ہے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق وضاحت ہونی چاہیے،4 صفحاتی ترمیمی آرڈیننس کا سیکشن 4 بتائے گا کہ قانون کا کہاں اطلاق ہوگا؟نیب ترمیمی قانون سے کسی کو اس حکومت سے ذاتی فائدہ نہیں مل سکتا ،اس لیے احتساب کا عمل ختم ہونے کا تاثر غلط ہے،نیب قانون کا دو طرح کے افراد اور ٹرانزیکشن پر اطلاق نہیں ہوگا جبکہ جہاں لفظ کرپشن آئے گا وہ اب بھی نیب کی دسترس میں ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ نیب کےبعدایف آئی اےکےلیےبھی ایسےہی عمل کاآغازکیاہے،ایف آئی اےکو مضبوط کرنے پر بھی کام کر رہےہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نےحکومت سنبھالی توملک معاشی طورپربدحال تھا تاہم اب حکومتی پالیسیوں کے  نتائج آرہےہیں اور اداروں کی ساکھ بحال ہورہی ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...