سال 2019ء اور پاکستانی سیاست ،حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور اپوزیشن کی کارکردگی کیسی رہی؟تفصیلات جانئے

سال 2019ء اور پاکستانی سیاست ،حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور اپوزیشن ...
 سال 2019ء اور پاکستانی سیاست ،حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور اپوزیشن کی کارکردگی کیسی رہی؟تفصیلات جانئے

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جلد رخصت ہونے والا سال 2019ءپاکستانی سیاست کے لیے غیر معمولی رہا،تحریک انصاف کی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اپوزیشن بھی اپنے دعوؤں کے برعکس حکومت کے خلاف کوئی فیصلہ کن سرگرمی نہ دکھا سکی اوراپوزیشن منقسم رہی ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اس رخصت ہونے والے سال میں اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت کو جیلوں میں جانا پڑا،حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن بھی دو روز میں ختم ہو جائیگی،رہبر کمیٹی کے قائدین نے دعوی کیا تھا کہ دسمبر حکومت کا آخری ماہ ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے 31 دسمبر کی حکومت کو مستعفی ہونے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملکی سیاست میں  2020ء بھی سیاسی طور پر ہنگامہ خیز سال ثابت ہو سکتا ہے تاہم رخصت ہونے والے سال میں  پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں اہم ایشوز زیر بحث رہے، بھارت کے جارحانہ عزائم کے خلاف پوری پارلیمینٹ متحد ہوگئی تھی اور بلاتفریق تمام جماعتوں نے دفاعی اداروں سے اظہاریکجتی کیا تھا ۔قومی اسمبلی نے بعض اہم معاملات پر سرگرمی دکھائی تاہم میثاق معیشت کے معاملہ بار بار پارلیمان میں اٹھتا رہا لیکن  کو ئی پیش رفت نہ ہوسکی۔پاکستان تحریک انصاف کی  پہلی حکومت ہے جس کے پہلے سال قومی اسمبلی سے گیارہ قوانین منظور ہوئے جو کہ سینٹ میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ 2019ء کے اوائل میں متحدہاپوزیشن کی  آل پارٹیز کانفرنس نے حکومت کو گرانے کے لیے ایجنڈے کا اعلان کیا لیکن اپوزیشن اپنے دعوؤں پر پورا اترنے میں ناکام رہی تاہم حکومت کو بھی سیاسی طور پر استحکام حاصل نہ ہو سکا۔سال 2019ء میں ملک  کو عدالتی اور دفاعی محاذ پر اہم چیلنجز کا سامنا رہا۔

رواں سال بجٹ کی منظوری کے بعد اپوزیشن کا دعوی تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک شروع ہو جائے گی ،پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کے  آزادی مارچ کے حوالے سے تحفظات کے اظہار اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی طرف سے مکمل طور پر ساتھ نہ دینے پر  حکومت کے لیے راوی چین ہی چین لکھتا رہا اور آزادی مارچ کے حوالے سے حکومت کو کسی بڑی مشکل یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جبکہ  پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی بھی معمول کے مطابق جاری رہی۔سیاسی طور پر 2019ء میں حکومت اپوزیشن کے درمیان پارلیمنٹ کے  حوالے سے تعلقات کار قائم نہ ہو سکے اورحکومت کی جانب سے تعاون کی سازگار فضاء کو بار بار سبوتاژ کیا گیا۔ سال 2019ء میں احتساب عدالت کے جج  ارشد ملک کی ’’ویڈیو لیک ‘‘کا معاملہ بھی ملکی نظام انصاف پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے  جج  جسٹس شوکت صدیقی کی ایک تقریر نے بھی ملک میں طوفان برپا کر دیا تھا ۔

یہ سال  نواز شریف کے لیے کچھ اچھا ثابت نہیں ہوا تاہم سال کے آخری دو مہینوں میں اُن کے لئےخوشی کی نوید لے کر آیا جبکہ  آصف علی زرداری  کی گرفتاری کا سال بنا جبکہ نواز شریف  کی رہائی کے بعد  آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت  کو بھی ضمانت پر رہائی نصیب ہوئی۔سال  2019 میں رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات کیس کی بازگشت سنائی دیتی رہی لیکن اسی سال کے آخری دنوں میں سابق صوبائی وزیر قانون رہا بھی ہو گئے،مفتاح اسماعیل کی گرفتاری اور رہائی کا عمل بھی اسی سال مکمل ہوا جبکہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال  کی گرفتاری بھی سیاسی عمل میں بھونچال ثابت ہوئی۔سال 2019ء میں ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے لیکن اپوزیشن حکومت کےلیےکوئی بڑا چیلنج نہ بن سکی۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کی ایکسٹینشن کا معاملہ حکومتی نا اہلی کے باعث سپریم کورٹ تک جاپہنچا اور پھر اسی سال  2019 ء   میں خصوصی عدالت کی جانب سے سابق فوجی سربراہ جنرل(ر)پرویز مشرف کوسنگین غداری کیس میں پانچ مرتبہ سزائے موت  کے فیصلے نے ملکی سیاست میں سب کو ہی حیران کر دیا ۔

سال2019ءجلدرخصت ہوجائےگاجبکہ سیاسی طور پر کئی تلخیاں بھی ساتھ ہی  چھوڑ جائےگا ،سیاست کے  حوالے سے سخت سال تھا حکومت عوامی ریلیف کے لیے کوئی غیر معمولی سرگرمی دکھا سکی، نہ اپوزیشن نے عوامی مسائل کے معاملے پر حکومت پر دباؤ کے سلسلے میں کوئی نیک نامی کمائی اپوزیشن بعض مواقعے پر انتہائی بے بس نظر آئی جبکہ حکومت بھی چند اراکین کی برتری کی وجہ سے دفاعی پوزیشن پر نظر آئی۔

مزید : قومی