پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات
 پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جنوری2016ء سے اب تک پاکستان اور سعودی عرب کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ان ملاقاتوں میں پاکستان کی طرف سے اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ سعودی عرب کی سلامتی کو کسی بھی قسم کے خطرے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہو گا۔ سعودی عرب کا ایران کے ساتھ 909 کلو میٹر لمبا بارڈر ہے اور دونوں کے درمیان تعلقات کبھی بھی معمول کے مطابق نہیں رہے۔ سعودی قیادت کو یقین ہے کہ پاکستان جس کی فوج اسلامی ممالک کی سب سے بڑی اور بہترین فوج ہے اور واحد اسلامی مُلک ہے، جس کے پاس ایٹمی صلاحیت بھی ہے، کسی بھی قسم کے خطرے کی صورت میں، چاہے وہ ایران ہی کی طرف سے کیوں نہ ہو، اپنی ایٹمی صلاحیت کے ساتھ ان کی مدد کے لئے موجود ہے، لیکن پاکستان کے اپنے مسائل بھی ہیں، مفادات بھی ہیں، خصوصاً علاقائی صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر سعودی عرب کو بھی اس کا احساس ہے اِس لئے تعلقات میں شکوک و شبہات کی فضا بھی موجود ہے۔

یہی ملاقاتیں اگر سعودی عرب میں ایک شیعہ عالم کو سزائے موت دینے اور ردعمل کے طور پر تہران میں سعودی عرب کا سفارت خانہ جلا دینے سے پہلے ہوتیں تو نہ ان کو اتنی اہمیت ملتی اور نہ عالمی ذرائع ابلاغ میں اتنی اہمیت سمجھی جاتی۔ بہرحال ان ملاقاتوں سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں جو سرد مہری آ گئی تھی، وہ کافی حد تک دور ہو گئی۔ یہ سرد مہری اُس وقت آئی جب سعودی عرب نے یمن میں فوجی آپریشن شروع کیا اور پاکستانی پارلیمینٹ نے پاکستانی فوج کا اس آپریشن کا عملی حصہ بننے کی مخالفت کی تھی کہ ہمیں یمن میں فوج نہیں بھیجنا چاہئے، پاکستان کی طرف سے یہ فیصلہ ابھی تک سعودی قیادت کے ذہن میں موجود ہے اور ماضی میں جیسے تعلقات رہے ہیں، شاید دوبارہ ویسے نہ ہو سکیں۔ماضی میں جب بھی ضرورت پیش آئی پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کو ہر طرح کی امداد کی نہ صرف پیشکش کی گئی، مدد بھی کی گئی۔1979ء میں جب خانہ کعبہ پر قبضے کی کوشش کی گئی تو پاکستانی فوج کے کمانڈوز نے وہ کوشش ناکام بنائی۔ ایران،عراق جنگ کے دوران پاکستانی فوج سعودی سرحدوں پر تعینات رہی۔ افغانستان میں روس کی مداخلت کے موقعہ پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعاون رہا۔ پاکستان نے سعودی افواج کی تربیت کی اور سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستان کو ضرورت کے وقت ضرورت کے مطابق امداد مہیا کی۔ معاشی طور پر بھی اور تیل بھی مفت یا برائے نام قیمت پر مہیا کیا جاتا رہا۔

خصوصاً سعودی قیادت کے پاکستان کے موجودہ حکمرانوں پر احسان بھی ہیں، 1999ء میں جب انہیں مُلک بدر کیا گیا تو شاہی خاندان نے ہر طرح کی مہمان نوازی کی، جب تک 2007ء میںیہ خاندان پاکستان واپس نہیں آ گیا، اس کے علاوہ عالمی تاثر یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے مالی مدد بھی سعودی عرب نے مہیا کی تھی۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد جب امریکہ کی طرف سے پاکستان پر پابندیاں عائد کی گئیں، تب بھی سعودی عرب نے پاکستان کا مکمل ساتھ دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کو یقین ہے یا تھا کہ سعودی عرب کی مدد اور سلامتی کی حفاظت کے لئے پاکستانی ایٹمی چھتری بھی مہیا ہو گی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بھی کافی بڑا ہے۔گزشتہ برسوں میں تو یہ5ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو گیا تھا۔اس کے علاوہ سعودی عرب میں قریب 15لاکھ ماہر، سکلڈ اور اَن سکلڈ ورکر کام کرتے ہیں، جو تین ارب ڈالرز کے قریب پاکستان بھیجتے ہیں، جو پاکستانی معیشت کے لئے ایک بڑا سہارا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان909 کلو میٹر لمبی سرحد ہے۔ پاکستان کو ایرانی اثرو رسوخ کے راستے میں ایک رکاوٹ سمجھتا ہے یا بنانا چاہتا ہے، مذہبی اعتبار سے ان کا ایک خصوصی مقام اور احترام ہے۔ خلیجی علاقائی معاملات میں اپنی مضبوط معیشت کی وجہ سے بھی اس کی اہمیت ہے۔ پاکستان میں بھی فقہی اعتبار سے اس کا ایک مضبوط قلعہ ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے خصوصاً انقلاب ایران کے بعد جب ایران نے یہ عندیہ دیا کہ اب وہ ایرانی انقلاب ایکسپورٹ کرے گا، سعودی حکمران اس حلقے کی مساجد اور مدارس کو مالی امداد بھی دیتے ہیں۔ پاکستان اس وقت انڈونیشیا کے بعد آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا مسلمان مُلک ہے اور اس کی فوج سب سے بڑی اور دُنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔ سعودی عرب کے حکمران سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں ’’ایٹمی امداد‘‘ کی ضرورت ہو گی تو پاکستان اس کے لئے بھی تیار ہے۔ ان تمام حقائق اور عوامل کی موجودگی میں پاکستان نے یمن کی خانہ جنگی میں فوج بھیجنے سے معذرت کی جو سعودی عرب کے لئے ’’جھٹکا‘‘ تھا۔ خلیجی ریاست کے ایک وزیر نے بہت سخت بیان بھی دیا تھا۔ ایران حوثی قبائل کی مدد کرتا ہے جو شیعہ ہیں اور سعودی عرب، خلیجی ریاستیں اور خطے کے مسلم ممالک سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اس خانہ جنگی کا حصہ یا شیعہ سُنی کشیدگی میں حصہ بننے سے انکار کی وجہ سے پاکستان و سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات میں دراڑ پیدا ہو گئی۔ پاکستان میں ایران کے بعد سب سے زیادہ شیعہ آباد ہیں۔ پاکستان اس جنگ کے شعلوں کو اپنے گھر میں نہیں لا سکتا تھا۔ پاکستانی شیعہ ایران کے معاملے میں بہت جذباتی ہیں اور وہاں کے علماء کے زیر اثر ہیں۔ سعودی عرب نے جب شیخ نمر النمر کو سزائے موت دی، تو ایران کے بعد سب سے زیادہ احتجاج پاکستان میں ہوا تھا۔ یہ بھی ایک تاثر ہے کہ شیعہ نوجوان ایران کے انقلابی گارڈز کے ساتھ شام میں صدر اسد کے خلاف باغیوں سے جنگ میں بھی شامل ہیں۔

پاکستان اپنے تعلقات ایران کے ساتھ دوستانہ رکھنا چاہتا ہے۔ ایران پاکستان کے توانائی کے بحران میں مدد دے رہا تھا اور ایرانی گیس، پائپ لائن کے ذریعے پاکستان لانا چاہتا تھا اور ہے۔اس پراجیکٹ کو چین بھی فنانس کر رہا تھا اور ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج بھارت اور افغانستان سے ملحقہ لمبی سرحدوں پر الجھی ہوئی ہے۔ ایک اور محاذ کھولنا کسی لحاظ سے بھی پاکستان کے لئے دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا۔ افغانستان میں دونوں کے مفادات مشترکہ ہیں۔ایک اہم بات یہ ہے کہ بعض حلقوں کے نزدیک سعودی عرب نے یمن اور شام میں جو ’’ایڈونچر‘‘ شروع کیا ہے، ایسے ’’ایڈونچر‘‘ کا حصہ نہ بننا ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ماضی میں ایک وقت تھا جب سمجھا جاتا تھا کہ اگر ایران نے سعودی عرب پر ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا اشارہ دیا تو پاکستان بھی اپنے ایٹمی ہتھیار سعودی عرب کی سرزمین پر تعینات کر سکتا ہے یا سعودی عرب کو اپنا پروگرام شروع کرنے کے لئے معاونت دینے کے لئے بھی تیار ہو گا (پاکستان کا ریکارڈ بھی اس کی گواہی دیتا ہے) اور پاکستانی حکومت بظاہر اپنے ماہرین کی ان سرگرمیوں سے بے خبر رہے گی یا کم از کم اس قسم کی صورت حال میں ’’ایٹمی چھتری‘‘ تو ضرور مہیا کر دی جائے گی، کیونکہ کسی بڑے حملے یا منصوبے کی صورت میں ’’مقدس مقامات‘‘ کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جو پاکستان کی حکومت تو کیا، کسی بھی پاکستانی کے لئے قابلِ قبول نہیں ہے اور ان مقامات کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی قربانی دی جائے گی۔ یہی بات جنرل راحیل شریف نے دورۂ سعودی عرب کے دوران واضح کی تھی اور کھلے الفاظ میں کہا تھا کہ سعودی عرب کی ’’سرزمین‘‘ کو لاحق کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان کی طرف سے سخت ترین جواب دیا جائے گا۔

یہ یقین دہانی صرف ’’حرمین شریفین‘‘ کی حد تک ہے، شاہی خاندان کی حفاظت ہماری ذمہ داری نہ کبھی تھی، نہ ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں بلاوجہ بگاڑ نہ ہمارے مفاد میں ہے اور نہ علاقائی صورت حال میں درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے ہم ایسا کر سکتے ہیں۔گو ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ کیا ہے، لیکن اس پر عائد شدہ پابندیوں نے اُسے ایک زبردست معاشی طاقت بنا دیا ہے، پھر اس بات کا خدشہ رہے گا کہ ایران ایک ایٹمی قوت بن چکا ہے، جس کے بعد یہ معاہدہ کیا گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں ہی نہیں، عالمی سطح پر بڑا کردار ادا کرنے کے قابل ہے اور سعودی عرب میں مقیم شیعہ آبادی کے لئے ایک بڑا سہارا ہے، جو سعودی عرب کے لئے ایک داخلی خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی سعودی عرب داخلی عدم استحکام کا شکار ہے۔ خارجی طور پر ہی بلاوجہ ’’ایڈونچر‘‘ شروع کئے ہوئے ہیں اور کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کو اندر سے خطرہ ہو سکتا ہے، باہر سے نہیں، فی الحال تو بالکل نہیں ہے، داخلی عدم استحکام کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کی کوئی مدد نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ تو ایک طرح سے ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سمجھی جائے گی۔

سعودی عرب کی موجودہ قیادت کی اہلیت کے بارے میں بھی پاکستان خدشات رکھتا ہے۔بادشاہ سلامت کے صاحبزادے شہزادہ محمد بن سلمان جو وزیر دفاع بھی ہیں اور ڈپٹی کراؤن پرنس بھی، اس کی بہت بڑی وجہ بنتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی بھرپور کوشش ہونی چاہئے کہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں کہ ہمیں ایران اور سعودی عرب میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔ موجودہ صورت حال میں بھی پاکستان نے ایکHonest Brokarکا کردار ادا کیا ہے۔دسمبر2015ء میں سعودی عرب کے بادشاہ سلامت نے اپنے طور پر34ممالک کے ایک اتحاد کا اعلان کیا، اتحاد دہشت گردی کے خلاف محاذ ہو گا، پاکستان میں وزارتِ خارجہ، عسکری حلقوں کو علم ہی نہیں تھا کہ اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ یہ کیسے آپریٹ کرے گا؟ پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ ہمیں اعتماد میں لئے بغیر یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور پاکستان کسی فوج کشی کا حصہ نہیں بنے گا۔جیسے جیسے ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی بڑھے گی، پاکستان کے لئے پریشانی بڑھے گی کہ ایسے حالات میں توازن کیسے برقرار ر کھا جا سکے گا؟ مَیں نے پچھلے ایک مضمون میں شہزادہ محمد بن سلمان کی وجہ سے شاہی خاندان میں پیدا ہونے والی بے چینی کا ذکر بھی کیا تھا، اس نوجوان شہزادے کی وجہ سے علاقہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے اور پاکستان کے لئے سعودی عرب کے ساتھ ’’گرم جوش‘‘ اور ’’قریبی تعلقات‘‘ کے بارے میں بھی خدشات ہیں اور رہیں گے۔

مزید : کالم