پاکستان اسٹیل، پی آئی اے اور طوارتی اسٹیل۔۔۔ حقائق کیا ہیں؟ ایک تفصیلی جائزہ(1)

پاکستان اسٹیل، پی آئی اے اور طوارتی اسٹیل۔۔۔ حقائق کیا ہیں؟ ایک تفصیلی ...
 پاکستان اسٹیل، پی آئی اے اور طوارتی اسٹیل۔۔۔ حقائق کیا ہیں؟ ایک تفصیلی جائزہ(1)

  

روس کے تعاون سے 1970ء کی دہائی میں لگایا گیا ملک کا سب سے بڑا کارخانہ فولاد جو ملک میں صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مستقبل کی مضبوط بنیاد کے طور پر لگایا گیا تھا۔ قوم کے لئے ایک باعث فخر ادارے کے طور پرابھرا تھا۔ یہ کارخانہ ملک میں فولاد کی پچاس فیصد طلب پوری کیا کرتا تھا، لیکن آج اس کے کارخانے خاموش کھڑے بھائیں بھائیں کر رہے ہیں۔ قریبی بندرگاہ سے خام لوہا اور کوئلہ بھٹیوں تک منتقل کرنے والی ساڑھے چار کلومیٹر لمبی کنویئر بیلٹ رُکی ہوئی ہے اور بلاسٹ فرنسیں چپ چاپ کھڑی ہیں۔ کبوتروں نے کارخانوں کی چھتوں میں گھونسلے بنا لئے ہیں اور ساکت فیکٹریوں میں کتے آرام کر رہے ہیں۔۔۔ یہ ہے وہ تصویر جو دنیا کے معروف خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ نے گزشتہ دنوں پاکستان کے سب سے بڑے کارخانے کی کھینچی ہے۔ یہ خبر جو پاکستان کے ممتاز اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کی ۔’’رائٹرز‘‘ کی بین الاقوامی ساکھ کے پیش نظر دنیا بھر کے اخبارات میں شائع اور چینلوں پر نشر ہوئی ہوگی، جس سے پاکستان کی ساکھ پر یقیناًکوئی اچھا اثر نہیں پڑا ہو گا۔ ’’رائٹرز‘‘ نے جس کا ہیڈکوارٹر برطانیہ میں ہے ، اپنی خبر میں پاکستان کے دیگر صنعتی اداروں کی طرح پاکستان اسٹیل کو درپیش مشکلات کی وجہ سیاسی عمل دخل اور چینی درآمدات بتائی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کا یہ اہم بیان بہت سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ ایجنسی نے پرائیویٹائزیشن کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر سے یہ بیان بھی منسوب کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے پاکستان اسٹیل کو 2006ء سے اب تک 200ارب روپے دیئے جا چکے ہیں جو حقیقت پر مبنی نظر نہیں آتا۔2006ء میں تو پاکستان اسٹیل نے 4ارب سے زائد منافع کمایا تھا، جبکہ دس ارب روپے کا منافع بنکوں میں پڑا تھا اور باقی سازوسامان کی شکل میں موجود تھا۔ پاکستان اسٹیل نے امداد کا تقاضا2009ء میں کیا تھا جب اسے 26ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔

قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ کو موصول ہونے والی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیل کو پیپلزپارٹی اور موجودہ حکومت کے دوران دلوائے جانے والے قرضوں کی مالیت 63ارب روپے بنتی ہے، جسے ممکن ہے سود در سود کے ذریعے 200ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہو، جیسے پاکستان اسٹیل پر واجب 17ارب کے لئے سوئی سدرن کا محکمہ 34ارب روپے طلب کر رہا ہے۔ ’’رائٹرز‘‘ نے خبر میں اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ پاکستان اسٹیل کے حالات کی ابتری سے ملک کے صنعتی مستقبل کے ساتھ 14ہزار افراد کا روزگار بھی خطرے میں ہے۔ یہ یقیناًایک تشویشناک معاملہ ہے، کیونکہ ملازمین کو گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں، بلکہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پراویڈنٹ فنڈ اور گریجوایٹی کی صورت میں ساری عمر کی کمائی بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ کارخانے مسلسل بند رہنے کے باعث اخراجات میں کمی کے لئے یکے بعد دیگرے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں، ان میں سے الاؤنسوں کی کٹوتی اور بجلی پانی کی راشن تو کر ڈالی گئی ہے، اب درجہ بدرجہ ملازمین کی چھانٹی کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ’’رائٹرز‘‘ نے اپنی خبر میں پاکستان اسٹیل کے ساتھ پی آئی اے کا ذکر بھی کیا ہے، جس کو حکومتِ وقت کے موقف کے مطابق نجی شعبے کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پی آئی اے کے ملازمین نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا،جس کی وجہ سے نجکاری کے عمل میں رخنہ پڑ گیا ہے۔ اگرچہ دونوں اداروں کی نج کاری میں رکاوٹیں ایک دوسرے سے قطعاً مختلف نوعیت کی ہیں، لیکن دونوں کو ہی پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کا معاملہ سانپ کے منہ میں چھچھوندر کی طرح پھنسا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کو قومی تحویل میں رکھا جائے یا نجی شعبے کے حوالے کیا جائے اس بارے میں جو بھی فیصلہ ہو، حقائق کی روشنی میں کیا جانا چاہیے، تاکہ فیصلے کے ممکنہ اثرات کے بارے میں کوئی ابہام نہ رہے، لیکن گو ناگوں وجوہات کی بنا پر دونوں اداروں کے بارے میں حقائق اس قدر گڈمڈ کر دیئے گئے ہیں کہ خرابی کی اصل وجہ ہی نظروں سے اوجھل ہو گئی ہے، جسے سامنے لانے کے لئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جانا ضروری ہے۔ اس موقع پر یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کہ کسی بھی صورت حال کے تجزیئے کے لئے حقائق کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم وہ زاویہ ہوتا ہے،جس سے حقائق کو دیکھا جا رہا ہے، چنانچہ اس مضمون میں دیئے گئے حقائق سے ہر کوئی اپنے اپنے زاویئے سے معاملات کو دیکھ سکتا ہے، لیکن مضمون نگار کی جانب سے صرف اور صرف قومی زاویئے سے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس جملہ معترضہ کے بعد پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل میں سے ہم پہلے پی آئی اے کی طرف آتے ہیں، جس کے حالات پاکستان اسٹیل کی نسبت بہتر ہیں۔ اس کے اخراجات میں تیل کی قیمت میں زبردست کمی کے باعث خاطر خواہ بچت ہوئی، جس کے نتیجے میں پی آئی ا ے آمدنی اور خرچ کے لحاظ سے منافع کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ البتہ گزشتہ بارہ سال کے دوران مسلسل جمع ہونے والا نقصان اس کے پیروں کی زنجیر بنا ہوا ہے، جسے کاٹنے کے لئے کچھ وقت درکار ہو گا۔ پی آئی اے کو اگر تیل کی قیمت میں کمی سے فائدہ ہو رہا ہے تو اس کے 300ارب روپے کے مہیب نقصان کا سبب بھی تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہی تھا، جس نے ایک بحرانی کیفیت پیدا کر دی تھی۔

پی آئی اے نے 2004ء میں 2ارب 30 کروڑ روپے منافع کمایا تھا، لیکن تب تیل کی قیمت عالمی منڈی میں 25تا 30ڈالر فی بیرل تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے 147ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جس کے نتیجے میں پی آئی اے کو 2005ء میں 4ارب روپے 2006ء میں 12ارب روپے ،2007ء میں 13ارب روپے اور 2008ء میں 36ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس لحاظ سے مشرف دور میں پی آئی اے کو 65ارب روپے کا نقصان ہو چکا تھا۔ اس دوران اگرچہ پی آئی اے کی آمدنی میں مسلسل اضافہ بھی دیکھنے میں آیا جو 2004ء میں 57ارب روپے سے 2008ء میں 88ارب روپے تک پہنچ گئی، لیکن تیل کی قیمت میں کئی گنا اضافہ اس قدر بھیانک اثرات کا حامل تھا کہ آمدنی میں اضافے اور اخراجات میں بچت سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب پی آئی اے کو ایک قومی ادارے کی حیثیت سے سرمایہ کاری کی صورت میں حکومت سے امداد کی ضرورت تھی جو اگر مل جاتی تو بحران سے نمٹنے کے لئے اسے بھاری سود پر قرضے نہ لینے پڑتے اور نہ ضروری اخراجات میں کٹوتی کرنی پڑتی، جس سے آمدنی میں کمی واقع ہوئی۔ لیکن مشرف حکومت کی جانب سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، قیمتوں میں اضافے کے بحران کا صرف پی آئی اے کو ہی سامنا نہیں تھا، بلکہ دنیا کی تمام ایئر لائنز اس سے متاثر ہوئی تھیں، جن میں سے کئی بند ہو گئیں۔ باقی بروقت امداد ملنے پر بحران سے نکل آئیں۔ پی آئی اے کو مسلسل نقصان کا سلسلہ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں بھی جاری رہا جو 193 ارب روپے تک پہنچ گیا ،جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں نقصان کی رقم 300ارب روپے تک جا پہنچی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت بھی جس کی پالیسیاں نجکاری کے مخالف نہیں رہی تھیں۔ پی آئی اے کی مدد کو آنے کے بجائے معاملات کو اس امید پر ٹالتی رہی کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے پر حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نوازشریف حکومت کو تو مسئلے کا حل پارٹی کی پالیسی کے مطابق نجکاری میں نظر آیا، چنانچہ اس کی ساری توجہ اس نکتے پر مرکوز چلی آ رہی ہے۔

پاکستان اسٹیل کا معاملہ بھی پی آئی اے سے کچھ مختلف نہیں۔خالص فولاد تیار کرنے والے ملک کے سب سے بڑے صنعتی ادارے نے، جو انجینئرنگ کی صنعت کی ماں سمجھا جاتا ہے اور جو آمدنی اور اخراجات کے لحاظ سے 2001ء سے منافع میں چلا آ رہا تھا۔2008ء تک45ارب روپے منافع کمایا۔ اس میں سے پاکستان اسٹیل نے 11ارب روپے کا وہ قرضہ بھی ادا کیا جو 1985ء میں تعمیر کے بعد حسب وعدہ ایکوایٹی میں شامل کرنے کے بجائے اس پر واجب قرار دے دیا گیا تھا اور سود در سود کے حساب سے یہ رقم 19ارب روپے تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن اس کے خام مال یعنی آئرن اوئر کی قیمت جو 2003ء میں 10 ڈالر میٹرک ٹن تھی جب 2009ء میں 170 ڈالر میٹرک ٹن تک پہنچ گئی تو پاکستان اسٹیل کو ایک ہی سال میں 26ارب روپے کا نقصان ہوا۔ آئرن اوئر کی قیمت 2014ء تک 100اور 150ڈالر میٹرک ٹن کے درمیان رہی، جس کی وجہ سے پاکستان اسٹیل کو 2010ء میں 11ارب روپے، 2011ء میں 12ارب روپے ،2013ء میں 31ارب،2014ء میں 23ارب اور 2015ء میں 22ارب روپے نقصان ہوا۔ یہ رقم مجموعی طور پر 131ارب روپے بنتی ہے۔یکے بعد دیگرے نقصان کے ان بھاری دھچکوں میں 26ارب روپے منافع کی رقم بھاپ بن کر اڑ گئی۔ بحران سے نمٹنے کے لئے پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ نے 2009ء میں 20ارب روپے کی رقم مانگی تھی، جس کے بدلے 10ارب روپے کے قرضے کا اہتمام کیا گیا، لیکن یہ رقم بھی ٹوٹ ٹوٹ کر ملی، جس کی وجہ سے نقصان کو کم کرنے کے لئے بروقت کارروائی نہ کی جا سکی۔ پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور میں پاکستان اسٹیل کو کُل 41 ارب روپے کی رقم دی گئی، لیکن اسی طرح توڑ توڑ کر اور بھاری قرضوں کی صورت میں، جس سے اشک شوئی تو ہوتی رہی ،لیکن نقصان کو روکنے کے لئے کوئی موثر اقدام نہ کیا جا سکا۔(جاری ہے)

اگلی قسط یہاں سے

پی آئی اے کی طرح بحران کی زد میں صرف پاکستان اسٹیل ہی نہیں ،بلکہ دنیا کی تمام اسٹیل ملیں آئیں،جن میں سے بہت سی تو بند ہی ہو گئیں باقی کو بروقت امداد کے ذریعے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کی نسبت موجودہ حکومت نے پاکستان اسٹیل کے کارخانوں کو متحرک کرنے میں زیادہ دلچسپی دکھائی، کیونکہ اس کا مقصد قومی ادارے کو نجی شعبے کے لئے پُرکشش بنانا تھا۔ حکومت نے پاکستان اسٹیل کے لئے 18ارب روپے کی رقم منظور کی، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کی استعداد جو صرف ایک فیصد رہ گئی تھی مارچ 2015ء میں بیالیس فیصد تک پہنچ گئی، لیکن غیر متوقع مشکلات کے باعث جس میں قومی سطح پر بجلی کا بریک ڈاؤن اور سوئی گیس کے پریشر میں کمی جیسے مسائل شامل تھے۔ اپریل میں پیداوار کو 32فیصد تک اور مئی میں 28فیصد تک ہی لے جایا جا سکا۔ جون میں سوئی سدرن نے واجبات کی عدم ادائیگی کے سبب سوئی گیس کی فراہمی برائے نام کر دی،جس سے پیداوار واپس ایک فیصد پر آ گئی۔ پاکستان اسٹیل نے سوئی سدرن کے اس اقدام کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور اپنے اعلامیے میں اس طرف توجہ دلائی کہ کراچی الیکٹرک کو جو کہ نجی شعبے میں ہے63 ارب روپے کے واجبات کے باوجود گیس کی سپلائی جاری ہے، جبکہ ایک قومی ادارے کو جو اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے، اس سے کہیں کم واجبات کے باوجود گیس کی فراہمی روک دی گئی ہے، اس احتجاج کے باوجود پاکستان اسٹیل کی کوئی شنوائی نہ ہوئی اور جون 2015ء سے اب تک پاکستان اسٹیل کی دیوہیکل مشینیں صرف سانس لینے کی حد تک زندہ ہیں۔

پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل میں ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ خرابی کی اصل وجہ سے توجہ ہٹانے کے لئے بے بنیاد وجوہات کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا ہے، جن میں سے سب سے زیادہ مقبول عام وجہ سفارشی بھرتیاں اور ملازمین کی ضرورت سے زیادہ تعداد سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس پروپیگنڈہ مہم کا بھانڈا پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کے دوران نج کاری کی حمایت اور مخالفت میں قومی سطح پر ہونے والی ایک بحث کے دوران پھوٹا۔اس حوالے سے ایک جید صحافی نے نہ صرف ایک معتبر انگریزی معاصر میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں بلکہ ٹی وی چینل پر مذاکرے کے دوران بھی بتایا کہ پی آئی اے میں آمدن اور ملازمین کا تناسب گزشتہ 13سال سے 11سے 13فیصد چلا آ رہا ہے، جبکہ یورپ کی ایئر لائنز میں یہ تناسب 20فیصد سے زائد ہے۔ انہوں نے فی جہاز ملازمین کے تناسب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تناسب میں اضافہ ملازمین کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث نہیں، بلکہ خراب حالات میں جہازوں کی تعداد کم کئے جانے کے باعث ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اور دیگر قومی اداروں میں ملازمین کی تعداد کا نقصان سے یا تو کوئی تعلق نہیں یا برائے نام ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملازمین یا یونینوں وغیرہ کے حوالے سے دیگر مسائل تو ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں نقصان کی وجہ قرار دینا قطعاً بے جا ہے۔ پاکستان اسٹیل میں بھی ملازمین کی تعداد کو نقصان کی وجہ قرار دینے کا ناٹک 1998ء میں نوازشریف کی حکومت کے دوران خاص طور پر رچایا گیا تھا جب پاکستان اسٹیل کو نجی شعبے میں دینے کے لئے ملازمین کی وسیع پیمانے پر چھانٹی کا منصوبہ تیار کیا گیا۔

اس زمانے میں نوازشریف کی حکومت کا تختہ تو اُلٹ گیا، لیکن پاکستان اسٹیل میں چھانٹی کے منصوبے پر کوئی آنچ نہ آئی، کیونکہ میاں صاحب نے جن محترم شخص کو یہ ذمہ داری سونپی تھی وہ مرحوم اتفاق سے پرویز مشرف کے بیچ میٹ (Baich Mate) تھے اور پرویز مشرف کی سفارش پر ہی میاں صاحب نے انہیں پاکستان اسٹیل میں ایم ڈی بنا کر بھیجا تھا، جس زمانے میں چھانٹی کے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوا ، ان دنوں بین الاقوامی سطح پر فولاد کی منڈی میں اس قدر کساد بازاری تھی کہ اگر پاکستان اسٹیل کے تمام ملازمین کو بھی نکال دیا جاتا، تب بھی پاکستان اسٹیل نقصان میں ہی رہتا، لیکن اتفاق سے اس دوران حالات نے یکایک کروت بدلی اور چین میں فولاد کی زبردست مانگ کے سبب اس کی قیمت میں پانچ سو فیصد اضافہ ہو گیا۔ پاکستان اسٹیل نے بھی اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں اور خاطر خواہ منافع حاصل کیا، لیکن عوام و خواص کو یہی تاثر دیا گیا کہ یہ منافع آٹھ ہزار ملازمین کی چھانٹی سے ہونے والی بچت کے سبب ہوا اور اس طرح چھانٹی کا جواز بھی فراہم ہو گیا۔ اس قسم کے اور بھی غلط تاثرات کو اتنے تواتر سے دہرایا جاتا رہا ہے کہ عوام تو عوام خواص بھی ان پر پورا یقین رکھتے ہیں، جس سے ان کی آراء متاثر ہوتی ہیں اور ان کے لئے درست فیصلہ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ایسا ہی ایک تاثر یہ بھی دیا جاتا رہا ہے کہ عوام تو عوام خواص بھی ان پر پورا یقین رکھتے ہیں، جس سے ان کی آراء متاثر ہوتی ہین اور ان کے لئے درست فیصلہ کرنا ممکن نہیں رہتا۔

ایسا ہی ایک تاثر یہ بھی دیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان اسٹیل قومی خزانے پر بوجھ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اسٹیل جو 24ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہوا تھا، اپنی لاگت سے تین گنا زیادہ رقم یعنی 72ارب روپے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی شکل میں قومی کزانے میں جمع کرا چکا ہے۔ اس نے 1985ء میں اپنی تکمیل سے لے کر 2009ء تک 24سال کے دوران قومی خزانے سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا اور 2009ء یا اس کے بعد بھی جو رقم اسے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ملی، وہ بھاری سود پر قرضوں کی شکل میں ہے،جس سے اس کے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی خزانے سے اسے سرمایہ کاری کے طور پر جس مدد کی ضرورت تھی، وہ اگر بروقت مل جاتی تو اس کا آج یہ حال نہ ہوتا۔ قومی خزانے کی طرف دیکھنے سے تو اسے اسی وقت منع کر دیا گیا تھا، جب 1985ء میں اس کی تکمیل کے دو سال بعد پی سی ون کے مطابق اس کی پیداوار کو 11لاکھ ٹن سالانہ سے 22لاکھ ٹن اور پھر 30لاکھ ٹن سالانہ تک لے جایا جانا تھا۔ پہلے سے طے شدہ اس توسیع منصوبے پر برائے نام لاگت آئی، جبکہ پیداوار میں اضافے کے ذریعے ’’اکانومی آف اسکیل‘‘ کے تحت پاکستان اسٹیل بھرپور طور پر نفع بخش ادارہ بن جاتا، لیکن توسیعی منصوبے کو صرف اس لئے نظر انداز کر دیاگ یا کہ یہ فولاد ساز کارخانہ روس نے لگایا تھا جس سے ان دنوں افغانستان کی صورت حال کے سبب تعلقات دشمنی کے مراحل میں داخل ہو گئے تھے۔ ضیاء الحق کے بعد غلام اسحاق خان کے دور میں تو پاکستان اسٹیل کو یکسر بند کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ان چند محب وطن سینیٹر، بیورو کریٹس کا جنہوں نے حد سے آگے جاتے ہوئے غلام اسحاق کو ایسا کرنے سے باز رکھا۔ پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کا قیام دراصل قومی جذبے سے بھرپور فیصلے تھے، جن کا ملک و قوم کو زبردست فائدہ ہوا۔(ختم شد)

مزید :

کالم -