پاک افغان شاہراہ پر خیبر سیاسی اتحاد کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری

پاک افغان شاہراہ پر خیبر سیاسی اتحاد کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری

  



ضلع خٰبر (بیورورپورٹ) پاک افغان شاہراہ پر خیبر سیاسی اتحاد کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری رہا، دھرنے میں ممبر قومی اسمبلی علی وزیر،فرہاد ایڈوکیٹ سید انور داوڑ کی بھی شرکت، دکھ کی اس گھڑی میں وہ لواحقین کیساتھ برابر کے شریک ہیں حکومت ماورئے عدالت قتل کی جوڈیشل انکوائری قائم کر کے غمزدہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ممکن بنائیں، علی وزیر کا احتجاجی دھرنے سے خطاب،چاروازگئی کے مقام پر خیبر سیاسی اتحاد کے دھرنے کو سات دن مکمل ہو گئے دھرنے کو سیاسی تنظیموں کے رہنماؤں سمیت ممبر قومی اسبلی جنوبی وزیرستان علی وزیر اور فرہاد ایڈوکیٹ کے علاوہ سید انور دواڑ نے بھی شرکت کی احتجاجی دھرنے سے اپنے خطاب کے دوران ایم این اے علی وزیر کا کہنا تھا کہ عدنان شینواری کا قتل ماورائے عدالت ہوا ہے اسلئے حکومت کو اسکی جوڈیشل انکوائری قائم کرنی چاہئے اور ان کے خاندان کو انصااف کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے فرہاد ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ شہریوں کی جان ومال کی تحفظ کو یقینی بنائیں اپنے حقوق کیلئے جلسے، مظاہرے اوردھرنے کرنا ہر شہری کا آئینی اور قانونی حق ہے اسلئے ریاستی ادارے انصاف کے تقاضے پورے کریں اور عدنان شینواری کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایئں ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم عدنان شینواری کیساتھ ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہیں انہوں نے خیبر سیاسی اتحاد کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں سات دن سے انصاف کے حصول کیلئے احتجاجی دھرنا دئے ہو ئے ہیں واضح رہے کہ یہ احتجاج ایک ہفتے پہلے اس وقت شرع ہوا جب پشاور ریگی میں سی ٹی ڈی پولیس نے مقابلے میں چند افراد کو ہلاک کے کر دعویٰ کیا تھا کہ وہ دہشت گرد ہیں جس میں لنڈی کوتل مختار خیل کے رہائشی اور خاصہ دار فورس کے حاضر سروس اہلکار عدنان شینواری بھی تھے جسے لواحقین نے بے گناہ قرار دے کر احتجاج کیا کہ وہ 11 نومبر 2019کو سیکورٹی اداروں نے اپنے گھرسے اٹھایا تھا اور وہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے ہیں جس پر خیبر سیاسی اتحاد نے اس واقعے کے خلاف احتجاجی دھرنا دے کر ان کے قتل کی عدالتی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر