بنوں،میر علی کے دکانداروں کا معاوضہ کی عدم ادائیگی کیخلاف مظاہرہ

بنوں،میر علی کے دکانداروں کا معاوضہ کی عدم ادائیگی کیخلاف مظاہرہ

  



بنوں (بیورورپورٹ) میر علی کے دکانداروں اور مارکیٹ مالکان کا آپریشن میں مسمار دکانات کا معاوضہ نہ ملنے کے خلاف پریس کلب بنوں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیامظاہرہ کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹریڈ یونین تحصیل میر علی کے صدر ذہین اللہ خان، نائب صدر ارفاق اللہ، حاجی عبداللہ خان، احمد اللہ، ملک افتاب خان، محمد ابراہیم، سمیع اللہ خان، رحمان گل، پراپرٹی ایسوسی ایشن کے صدر بوستان خان اور نائب صدرطاہر اللہ نے کہا کہ میرعلی میں چھ ہزار سے زائد دکانات تھے جس میں مقامی لوگوں کے علاوہ غیر مقامی لوگ بھی کاروبار کر رہے تھے آپریشن ضرب عضب کے دوران ہمیں اپنے دکانات سے سامان نکالنے کے لئے بہت کم مہلت ملی جس کی وجہ سے آپریشن کے دوران تمام قیمتی کروڑوں روپے مالیت کا سامان دکانات میں ہی تباہ ہو گیا حکومت نے میرعلی کے تین ہزار کے قریب دکانداروں کے کچھ نقصانات کا ازالہ تو کیا لیکن ہزاروں کی تعداد میں متاثرین تاجر اب بھی معاوضہ کے لئے ترس رہے ہیں میرعلی میں آپریشن ضرب عضب کے دوران مارکیٹوں کا مالکان کا کافی نقصان ہوا ہے اور ان کے کروڑوں مالیت کے پلازے اور مارکیٹیں مسمار کر دی گئی تھیں ان لوگوں کے نقصانات کا ازالہ نہ ہونے پراحتجاج شروع کیا ہے ہم ان کے مکمل حمایت کرتے ہیں دکانداروں نے اے سی میرعلی کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں موخر کر دیا تھا لیکن اس کو اچانک تبدیل کر دیا گیا ہے شمالی وزیرستان کے لوگ جنگ زدہ ہیں اور یہاں لوگوں کا معاش بری طرح متاثر ہے اس لئے ضم ہونے کے بعد اس کو کچھ عرصہ کے لئے فری ٹیکس علاقہ قرار دیا جائے اور غلام خان کسٹم چیک پوسٹ کو سیدگی چیک پوسٹ منتقل کیا جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کی معاشی صورت حال بہتر ہو سکے اور اگر ہمارے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو ہم ایک بارپھر احتجاج پر مجبور ہوں گے اور تاجروں کے حقوق کے لئے سڑکوں پر نکلیں گے

مزید : پشاورصفحہ آخر