عطائیوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کی تیاریاں 150ٹیمیں تشکیل

عطائیوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کی تیاریاں 150ٹیمیں تشکیل

  



لاہور (جاوید اقبال)پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر شعیب خان نے کہا ہے کہ عطائیت کے خاتمہ کے لئے پوری طاقت سے جنگ شروع کرنے کے لئے ایکشن پلان تشکیل دے دیا ہے اس کے لئے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کے سیکرٹری کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں محکمہ کی مدد سے 150ٹیمیں عطائیوں کے خلاف میدان میں اتریں گی۔جعلی ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوں گی جس کا اختیار فیلڈ افسروں کو دیا جا رہا ہے۔ ایسے ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ جو اپنی کارروائی کے پہلے72 گھنٹوں میں رپورٹ جمع نہیں کرائیں گے ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی وہ گزشتہ روز پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سابق ایم ایس ڈاکٹر محمد ا میر کی طرف سے ان کے اعزاز میں جم خانہ میں دیے گئے ظہرانہ کے موقع پر روزنامہ پاکستان سے گفتگو کر رہے تھے۔ڈاکٹر امیر کی پر وقار تقریب میں سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزکے پرنسپل ڈاکٹر پروفیسر محمود ایاز،ایم ایس ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ،پی آئی سی کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر ثاقب شفیع شیخ، ایم ایس فرخ سلطان،مینٹل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اشرف،شاہدرہ ٹیچنگ اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر شاہد اقبال قریشی، پی آئی سی کے ایم ایس ایڈمن ڈاکٹر صغیر بلوچ، ہیلتھ کیئر کمیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مشتاق سلہریہ، ڈاکٹر ریاض چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ریاض تسلیم،سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز،سابق ایم ایس گنگارام ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ کے علاوہ سینئر ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر نمائندہ پاکستان سے اپنی خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر شعیب نے کہا کہ میں بڑی تبدیلی کا خواہاں ہوں میرے خیال میں ہیلتھ کیئر کمیشن کے پاس کام زیادہ اور وسائل کم ہیں پورے پنجاب میں عطائیت کے خلاف کارروائیوں کے لیے صرف چار ٹیمیں ہی ان کی تعداد بڑھانے کے لیے میں نے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کے سیکرٹری سے ملاقات کی جو بڑی کامیاب رہی اور انھوں نے مجھے افرادی قوت دینے کا وعدہ کر لیا ہے اب ہمارے پاس 150کے قریب آپریشنل ٹیمیں آجائیں گی جو روزانہ کی بنیاد پر عطائیوں کے خلاف کارروائی کریں گی۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرشعیب خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ڈسٹرکٹ کی ٹیموں میں شامل ڈسٹرک آفیسرز ہیلتھ کا عملہ رپورٹ نہیں بھیجتا اور زیادہ تر مک مکا کر لیتا ہے اس کا بھی ہم نے بندوبست کرلیا ہے۔چیف ایگزیکٹو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے مزید کہا کہ مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ادارے کے پاس وسائل ہی نہیں ہیں پورے پنجاب میں عطائیت کے خلاف کارروائی کے لیے 300 کے قریب ٹیمیں درکار ہیں مگر کمیشن کے پاس صرف چار ٹیمیں ہیں۔ انہوں نے کہا کے میں یہ نہیں کہتا کہ جعلی ڈاکٹر اگلے تین ماہ میں ختم کردیں گے اس کے لیے ایک ٹائم درکار ہوگا کہا کہ میری نیت صاف ہے انشاء اللہ تبدیلی محسوس ہوگی ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں سابق ایم ایس ڈاکٹر محمد امیر کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اچھے لوگوں سے ملوایا انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر امیر ایک قابل ایڈمنسٹریٹر ہیں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں گے تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر امیر ڈاکٹر سلیم چیمہ اور پروفیسر محمود ایاز نے معزز مہمان کو گلدستہ پیش کیا۔

ٹیمیں تشکیل

مزید : میٹروپولیٹن 1