افغانستان، امریکہ اور عمران خان

افغانستان، امریکہ اور عمران خان
افغانستان، امریکہ اور عمران خان

  



کچھ صحافی دوستوں کا خیال ہے کہ 29 فروری کو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا معاہدہ دراصل پی ٹی آئی حکومت کے قائم رہنے کی گارنٹی ہے کیونکہ امریکہ اپنی فوج کے انخلاء کے دوران پاکستان میں کسی سیاسی افراتفری کو افورڈ نہیں کر سکتا ہے۔ گویا کہ جس طرح جنرل پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنا کر اپنی۔ حکومت کے تسلسل کو یقینی بنایا تھا اسی طرح اب عمران خان افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے نام پر اپنے اقتدار کی ڈوبتی نیا کو سنبھالا دے سکتے ہیں۔

اس وقت افغانستان میں 14000 امریکی فوجی مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ نیٹو اور اتحادی ممالک کے تقریباً 8000 فوجی بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ ان کا مرکزر کردار افغان فورسز کی تربیت اور مشاورت ہے۔ اس کے علاوہ ایک اچھی خاصی تعداد انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں بھی شامل ہے، جن میں فضائی حلمے اور ڈرون حملے شامل ہیں۔

اس فیصلے سے افغان فورسز کی تربیت کے ساتھ ساتھ آپریشنز پر بھی براہ راست اثر پڑے۔2011-2012 میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب افغانستان میں 150000 کے قریب غیر ملکی فوجی طالبان کے خلاف جنگ میں شامل تھے۔ صدر اوبامہ کے دور میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا شروع ہوا اور 2014 تک امریکہ اور نیٹو نے افغانستان میں عسکری آپریشنز ختم کر دیے تھے اور امریکی افواج کی تعداد 10000 تک پہنچ گئی تھی۔اس کے بعد سے ہی افغان فورسز نے سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی۔ اس وقت افغان فورسز کی تعداد 350000 ہے۔ 2014 کے بعد غیر ملکی افواج میں کمی کے ساتھ ساتھ طالبان کی طاقت اور اثر میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا۔ طالبان نے اس انخلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں اضافہ کیا۔

افغان فورسز نے طالبان کے خلاف کارروائیاں تو کیں لیکن انہیں شدید نقصانات بھی اٹھانے پڑے۔ 2015 سے اب تک طالبان کے خلاف لڑائی میں 30000 افغان فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ اسی عرصے میں 60 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں اتنے بڑے فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب امریکی فوجی عسکری آپریشنز کا حصہ نہیں۔

اس فیصلے سے افغان فورسز کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوگا۔ ان کے پاس ان حالات سے نمٹنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں۔ تاہم بہت ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے افغان فورسز کو ہونے والے نقصانات میں اضافہ ہو۔

یہ دیکھنا بھی ابھی باقی ہے کہ اس امریکی فیصلے کے بعد نیٹو کیا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ یہ انخلا کب شروع ہوگا اور کب تک چلے گا۔طالبان کا کہنا ہے کہ ملک کا آدھے سے زیادہ علاقہ ان کے قبضے میں ہے تاہم اس کی تصدیق ممکن نہیں۔ حکومت کے پاس کوئی مستند اعداد وشمار نہیں تاہم مختلف موقعوں پر مختلف سرکاری اہکار مختلف نمبر بتاتے ہیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس 2001 میں حکومت سے ہٹائے جانے کے بعد سے لے کر اب تک، اس وقت سب سے زیادہ علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ 

اس تمام تر تناظر میں اگر امریکہ اس لئے افغانستان سے نکل رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو دوام دیا جاسکے تو واقعی ٹرمپ کی عقل کا ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے لیکن اگر مسٹر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کو ملکی انتخابات میں فائدہ ہو سکتا ہے تو عمران خان کو کفالتی فائدہ ضرور ہو سکتا ہے وگرنہ ملکی معیشت کی جو حالت ہو چکی ہے اور جس طرح کے قیافے آئندہ آنے والے سالوں کے حوالے سے لگائے جا رہے ہیں، ان کو مدنظر رکھیں تو کل کی جگہ آج عمران خان کی حکومت کو چلتا کیا جانا چاہئے۔ اس کے علاوہ اپنے ان صحافی دوستوں کی خدمت میں یہ عرض بھی گزارنا ہے کہ خطے میں چین اور روس کے مفادات میں پیوستہ ہیں جو کسی طور پر بھی امریکی مفادات سے میل نہیں کھاتے ہیں، اس لئے اپنے ان دوستوں سے گزارش ہے کہ ابھی سے لمبی تان کر مت سوجائیں کیونکہ اگلے بجٹ کے بعد جو کچھ ہوگا وہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے!

مزید : رائے /کالم