خطے میں جنگ کے بے قابو نتائج

خطے میں جنگ کے بے قابو نتائج

  



ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ چھڑی تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے، دو نیو کلیئر طاقتوں کی جنگ میں ناقابل ِ تلافی نقصان ہو گا،ہماری کوشش ہے کہ امن کا راستہ اپنایا جائے، ہم دفاعِ وطن کے لئے ہر وقت تیار ہیں، ملک پر آنچ نہیں دیں گے،ہر قیمت پر اپنی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے لئے تیار ہیں،ہم اپنے دشمن کی ہر سازش سے بخوبی آگاہ ہیں،عزت و وقار کی کوئی قیمت نہیں ہوتی،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابیوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے ایل او سی پر بھارتی شرانگیزی میں بہت اضافہ ہو گیا ہے،پاک فوج نے اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور دیتے رہیں گے۔ ایک برس پہلے 27فروری کو دشمن سرپرائز ہو کر ناکام واپس لوٹا، یہ دن ہماری تاریخ میں ایک روشن باب ہے اور اس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے،بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔اگر خطے میں جنگ چھڑی تو غیر ارادی اور بے قابو نتائج ہوں گے، مسئلہ کشمیر کا حل ہمارا قومی مفاد اور سلامتی کا ضامن ہے، آزادی کی اس جدوجہد میں ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔خطہ اور دُنیا دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ڈی جی آئی ایس پی آر27فروری کے تاریخی دن کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جو عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی پہلی پریس کانفرنس تھی۔

ایک برس پہلے بھارت نے پاکستان کو جو سرپرائز دینے کی کوشش کی تھی، وہ خود اُس کے لئے سرپرائز ثابت ہوا اور پاکستانی علاقے پر حملہ کرنے کے لئے آنے والا پائلٹ گرفتار ہو گیا، اس کے طیارے کا انجر پنجر پاکستان میں آج بھی محفوظ ہے اور دیکھا جا سکتا ہے۔اس حملے کے بعد بھارت کی حکومت نے بلند بانگ دعوے شروع کر دیئے اور آغاز اس جھوٹ سے کیا کہ بھارتی طیارے نے دہشت گردی کے تربیتی کیمپ پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا ہے اور350 دہشت گرد مارے گئے ہیں،یہ ایسا دعویٰ تھا جس کے ثبوت کئی میل کے علاقے میں بکھرے ہوئے ہونے چاہئے تھے، کیونکہ جس جگہ کسی فضائی حملے کے نتیجے میں 350 لوگ مارے جاتے ہیں،وہاں مرنے والوں کے جسم کے ٹکڑے دور دور تک پھیل جاتے ہیں،خون کے چھینٹے بھی جگہ جگہ نظر آنے چاہئیں،لیکن اگلے ہی روز صحافیوں نے دیکھا کہ جہاں دہشت گردوں کے کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا وہاں اس کے کوئی آثار نہ تھے ان اخبار نویسوں کو مرنے والوں کے اعضا کہیں نظر نہ آئے،نہ کوئی ایسا ثبوت ملا جس سے پتہ چلتا کہ یہاں کوئی ہوائی حملہ ہوا ہے۔البتہ درختوں کی کچھ ٹہنیاں ٹوٹ کر ضرور گری ہوئی تھیں جیسے کسی حواس باختہ پائلٹ نے واپس جانے کی جلدی میں ایک آدھ بم گرایا ہو،لیکن یہ پائلٹ پھر بھی دھر لیا گیا اور فراخ دِلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو دن کے اندر ہی بھارت کے حوالے کر دیا گیا، اس پر بھارت نے پاکستان کا ممنون ہونے کی بجائے یہ بڑ ہانکی کہ ایسا عالمی دباؤ کی وجہ سے کیا گیا،حالانکہ جنگی قیدیوں کے لئے بین الاقوامی طور پر طے شدہ قوانین موجود ہیں۔اگر پائلٹ کو واپس نہ بھی کیا جاتا تو کوئی عالمی دباؤ نہیں آنا تھا، ایسا محض خیر سگالی اور عالی ظرفی کے مظاہرے کے تحت کیا گیا۔

بھارت کے اوسان بحال ہوئے تو پھر اُس نے350 افراد کی ہلاکت کے دعوے سے رجوع کر لیا اور مان لیا کہ یہ درست نہیں تھا۔بھارت سرجیکل سٹرائیک کے دعوے بھی کرتا رہتا ہے،لیکن آج تک کسی ایک کا ثبوت بھی نہیں دیا۔کشمیر کی کنٹرول لائن کے قریب ایسی کسی خیالی سرجیکل سٹرائیک کی قلعی بھی کھل گئی تھی، جب غیر ملکی صحافیوں نے اس جگہ کا دورہ کیا۔ یہ بات البتہ درست ہے کہ ایل او سی پر بھارتی شر انگیزیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور مودی کے پورے عہد ِ اقتدار میں یہ سلسلہ تیز ہو گیا ہے،اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جب بے سرو پا مگر بلند آہنگ دعوے کئے جاتے ہیں تو بھوکی جنتا پوچھتی ہے کہ ہمیں بھوکا رکھ کر اسلحے کے جو انبار لگائے جا رہے ہیں ان کا حاصل حصول کیا ہے اسے مطمئن کرنے کے لئے کشمیر کی کنٹرول لائن پر شرارتیں جاری رکھی جاتی ہیں،لیکن یہاں بھی اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے۔صدر ٹرمپ کے حالیہ دورہئ بھارت میں امریکہ نے 3 ارب ڈالر کا دفاعی سازو سامان فروخت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔صدر ٹرمپ تو بڑا تجارتی معاہدہ بھی کرنا چاہتے تھے،لیکن یہ طے نہ پا سکا،البتہ دفاعی معاہدے سے خطے میں جو عدم استحکام پیدا ہو گا اس جانب امریکی صدر کی توجہ نہیں گئی، کیونکہ انہیں تو بہرحال اپنے ملک کے اسلحہ ساز کارخانوں کا مفاد عزیز تھا،جس کا اہتمام بڑی اچھی طرح ہو گیا، لیکن اُن کے دورے کے دونوں دن دہلی میں جو آگ لگی ہوئی تھی، وہ اب بہت پھیل چکی ہے اور ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کا جو قتل ِ عام شروع کر رکھا ہے، پوری دُنیا میں اس کی مذمت ہو رہی ہے۔

خطے کے ان حالات میں پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے،کیونکہ مکار دشمن اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے کسی بھی وقت شرارت کر سکتا ہے،ایسی شرارت اس لئے بھی متوقع ہوتی ہے کہ ”بالا کوٹ میں دہشت گردی کے کیمپ“ تباہ کرنے اور سرجیکل سٹرائیک کے دعوؤں کا بھانڈا تو پھوٹ گیا، اب نئے دعوؤں کے لئے بھی تو کوئی بہانہ چاہئے،اِس لئے مکاری کے اس سارے کھیل پر پاکستان کی گہری نظر ہے اور دفاع کے تمام تر اعلیٰ ترین انتظامات چوبیس گھنٹے کرنے پڑتے ہیں،پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کو شکست دے چکا ہے، اور جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا، آپریشن ردالفساد میں 17ہزار دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور یہ ایسی کامیابی ہے، جس کا تذکرہ صدر ٹرمپ نے مودی کے سامنے کرنا بھی ضروری سمجھا،لیکن بھارت کو پاکستان کی ایسی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی، وہ ایل او سی کا محاذ اِسی لئے گرم رکھتا ہے۔

بھارت اگرچہ ماضی میں بھی پاکستان پر جنگ مسلط کر چکا،لیکن اُس وقت کی روایتی جنگ کا آج کے دور سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا،کیونکہ اس وقت بھارت اور پاکستان دونوں نیو کلیئر قوتیں ہیں، اس جنگ کی تباہی کے اثرات خطے تک محدود نہیں رہیں گے،بلکہ کسی نہ کسی انداز میں پوری دُنیا کو متاثر کریں گے،اِس لئے پاکستان بھارت کو مسلسل خبردار کرتا رہتا ہے کہ وہ ایٹمی جنگ کی تباہی کے اثرات کا ادراک کرے،لیکن اس کے عاقبت نااندیش سیاست دان ایٹمی جنگ کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں، شاید انہیں اندازہ نہیں کہ اس تباہی کا دائرہ کتنا وسیع ہو گا اور کتنے کروڑ انسان اس سے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر متاثر ہوں گے،بلکہ پورا کرہئ ارض قیامت ِ صغریٰ کا منظر پیش کر رہا ہو گا، اس کے لئے ضروری ہے کہ بھارت اُن اقدامات کی طرف آئے جو خطے کو امن کا گہوارہ بنا سکیں، کشمیر کا مسئلہ حل کر کے نہ صرف کشمیریوں کے دِل جیتے جا سکتے ہیں،بلکہ علاقے میں ایک بڑی وجہ نزاع کا بھی ہمیشہ کے لئے خاتمہ کیا جا سکتا ہے،اِس لئے دیکھا جائے تو مسئلہ کشمیر کا حل بھارت کے اپنے مفاد میں بھی ہے اس کا جنگی بجٹ بھی کم ہو سکتا ہے اور اس سے بچنے والی رقم ممبئی کے اُن لاکھوں لوگوں کو پناہ گاہ دینے پر صرف ہو سکتی ہے،جن کی ساری زندگی فٹ پاتھوں پر گزر جاتی ہے، بھارت ان بھوکے ننگے لوگوں کی زندگی بدلنے کی کوشش کرے گا تو یہ اس سے کہیں بہتر ہو گا کہ وہ اربوں ڈالر مستقل طور پر جنگ کی تیاریوں کی بھٹی میں جھونکتا رہے۔

مزید : رائے /اداریہ