فواد چودھری، ذرا سفید پوشوں کی طرف بھی توجہ دیں!

فواد چودھری، ذرا سفید پوشوں کی طرف بھی توجہ دیں!
فواد چودھری، ذرا سفید پوشوں کی طرف بھی توجہ دیں!

  



ہم بوڑھے لوگ، پرانے دور والے ہیں، آج کے ترقی یافتہ زمانے والے ہمیں طنز سے ”جہالت“ کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیتے ہیں۔ ہم جوابی طور پر کچھ کہتے بھی نہیں کہ مروت کے مارے اور مشرقی آداب کے قائل ہیں۔ اکثر سوچا کہ برادرم فواد چودھری کی ”شرارتوں“ کے حوالے سے بات کریں، لیکن یہ امر مانع رہا کہ کہیں جوابی طور پر کوئی ایسا فقرہ نہ آ جائے جو دیرینہ تعلقات سے ماورا ہو، تاہم اب سوچا کہ یہ ممکن نہیں، کیونکہ چودھری فواد بھلے وفاقی وزیر اور ”شرارتی“ ہوں کم از کم ہمارا تو بہت لحاظ کرتے ہیں۔

اگر ان کو موقع ملے تو یاد بھی اچھے الفاظ ہی سے کرتے ہیں، پھر بھی ہاتھ کیوں رک رہا ہے۔ شائد اس کی وجہ بھی دور جدید ہے کہ برادرم ٹوئیٹر پر بہت متحرک ہیں اور دن میں کئی بار ان کی پوسٹیں پڑھنے اور دیکھنے کو مل جاتی ہیں، اپنے خوف اور ”شرارتی“ لفظ کی تشریح کرکے آگے بڑھتے ہیں۔ ہمارا پوتا محمد اشعر چودھری ابھی ڈھائی سال کا ہے اور بہت باتیں کرتا ہے، اس کے نانا اسے شرارتی کہتے تو وہ جوابی طور پر کہتا ”نانا شرارتی“ یوں اس نے یہ رٹ سا لیا، اب ہم جب کبھی بھول سے اس کو کسی حرکت پر اسے شرارتی کہیں تو جواب میں فوراً دہراتا ہے، ”نانا شرارتی“ یہی سوچ کر چپ رہتے ہیں کہ یہ محترم کہیں واقعی جواب نہ دیں کہ وہ تو کسی کی بات سنے بغیر ہی تبصرہ کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود جب ایک صحافی کے بقول انہوں نے ملاقات کے دوران سوال کیا کہ وہ اختلافی باتیں کیوں کرتے ہیں، کیا وہ ایسا شہرت اور میڈیا میں رہنے کے لئے کرتے ہیں؟ تو ان کا جواب تھا ”یہ درست نہیں، میں (فواد)حقائق کو مسخ اور تاریخ کو غلط ہوتے نہیں دیکھ سکتا“۔

ہمیں تو ان کی اس وضاحت پر یقین سا ہے کہ وہ اپنے مرحوم چچا الطاف حسین کی فراست اور سیاست سے سیکھے ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کو بات کرنا آتی ہے لیکن بعض اوقات وہ کسی پھڈے میں بھی ٹانگ اڑا دیتے ہیں، جیسا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کا پہلا فائدہ ہجری کیلنڈر کا تھا جو بقول ان کے پانچ سال کے لئے تیار کر لیا گیا ہے اور اس کے مطابق چاندکی تمام تر گردش کی اطلاع بالکل درست ہے۔ اس پر ان کا مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے تنازعہ بھی ہوا جو کسی مفاہمت تک نہیں آیا۔ تبھی تو اب انہوں نے سیدھا سیدھا الزام لگا دیا کہ مرکزی روئت ہلال کمیٹی نے ذیقعد اور رجب المرجب کے چاند کی تاریخ اور رویت غلط کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے سائنسی کیلنڈر کے مطابق یہ بھی کہہ دیا کہ رمضان المبارک کا چاند 24اپریل کو پورے ملک میں دیکھا جا سکے گا اور پہلا رمضان 25اپریل 2020 (ہفتہ) کو ہو گا۔ ابھی انہوں نے کچھ لحاظ ہی کیا ورنہ وہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کی تاریخیں بھی بیان کر سکتے تھے۔ اس سلسلے میں ہم نے ان دنوں بھی ان سے درخواست کی تھی کہ وہ اس ”تنازعہ“ کو مزید ”تنازعہ“ نہ بنائیں کہ اس کے لئے قبلہ پوپلزئی کافی ہیں۔ لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ تاہم اس مقصد میں تو کامیاب نہ ہو سکے کہ ملک میں روزہ اور عیدیں ایک ہی روز ہوں۔

الٹا مفتی منیب الرحمن سے ان کا طویل مکالمہ ہو گیا اور مفتی منیب الرحمن محترم نے بڑی تفصیل سے رویت ہلال پر کئی کالم لکھ ڈالے اور تب ہم نے بھی اپنے تجربات شیئر کئے تھے۔ ہمارا خیال تو یہی ہے کہ جناب فواد حسین چودھری اس شعبہ کو تو چھوڑ دیں اور سیاست میں جو غلغلہ مچا رہے ہیں ادھر ہی متوجہ رہیں کہ یہ دینی معاملہ ہے اور یقینا حساس بھی، اس کے لئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے کہ یہاں تو مکاتب فکر کا بھی ٹکراؤ ہے، اس لئے فواد چودھری بیان بازی کی بجائے ان علماء کرام کو قائل کریں کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی تو محکمہ ماحولیات اور موسمیات سے بھی استفادہ کرتی ہے۔ اس لئے وزارت سائنس کے ساتھ اس کی مفاہمت ممکن ہے اور ایسا ہونا چاہیے تاکہ یہ معاملہ مستقل طور پر حل ہو جائے۔ چنانچہ ”مار نہیں، پیار“ والا فارمولا ہی بہتر ہے، کیونکہ ان کے ٹویٹ پر اب مفتی منیب الرحمن تو خاموش نہیں رہیں گے کہ یہ ایک بڑا الزام ہے۔

بات کو یہیں تک رہنے دیتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ فواد جوابی طور پر ہمیں شرارتی نہیں کہیں گے“ اب یہ کالم اختتام کی طرف ہے اس لئے وہ بات بھی کر ہی لی جائے جس کے لئے ارادہ اور نیت کی تھی، چونکہ ذکر برادرم فواد چودھری کا آ ہی گیا تو ہم ان سے یہ توقع کریں گے کہ وہ ذرا سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی بیماری اور چاند کے طلوع و غروب سے ہٹ کر خود اپنی حکومت (پنجاب نہیں وفاق) کی طرف بھی توجہ دے لیں، ملک میں جب آٹے اور چینی کے بحران کا زور شور سے سلسلہ چل رہا تھا تو ہم نے اپنے دو مختلف کالموں میں عرض کیا تھا کہ تمام تر دھمکیوں اور کوششوں کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گی کہ عوام کی حالت اس ملازم جیسی ہے جس نے مالک کو دھمکی دی کہ اس کی تنخواہ بڑھا دیں ورنہ …… اور جب مالک نے پلٹ کر پوچھا کہ ورنہ کیا…… تو فوراً ہتھیار پھینک کر جواب دیا، ورنہ…… اسی تنخواہ پرکام کروں گا“ ہماری گزارش یہ تھی کہ میڈیا میں یہ ہنگامہ ختم ہوا تو قیمتیں مستحکم ہو جائیں گی اور لوگوں کا احتجاج ختم، چنانچہ اب یہی ہوا، رولر فلور ملز کا سوجی، میدہ نکلا سفید آٹا اب عام دستیاب اور سرکاری قیمت پر مل جاتا ہے، تاہم چکی آٹا کی ”لوٹ“ سیل جاری ہے۔

ابھی گزشتہ روز ایک مل کا پانچ کلو والا چکی آٹامنگوایا تو وہ 380روپے میں ملا۔ دوسرے معنوں میں 76روپے فی کلو میں آٹا دستیاب ہوا، ہم یہی کھانا”افورڈ“ نہیں کرتے اس لئے دس کلو والا تھیلا سفید آٹا ہی لیتے ہیں اور دونوں کو ملا کر گوندھا جاتا ہے۔ سفید آٹا 420 روپے کا دس کلو ملتا ہے، اسی طرح چینی کی قیمت کم نہیں ہو پائی پرچون میں 82روپے فی کلو ہی مل رہی ہے۔ ہم منتظر ہیں کہ کب مافیاز جیل میں ہوں گے اور کب آٹا، چینی کا بحران پیدا کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے گا، جو ایسی مخلوق ہیں کہ صرف حکومت کو نظر نہیں آتے عوام تو سب کو جانتے ہیں۔ ہماری گزارش فواد چودھری سے یہی ہے کہ وہ ذرا اپنی توجہ اس طرف مبذول کریں تاکہ ہم جیسے سفید پوشوں کو بھی کوئی ریلیف ملے۔ مفتی منیب الرحمن اور محمد نوازشریف کو جانے دیں کہ مفتی شریعت والے ہیں جبکہ محمد نوازشریف کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔

مزید : رائے /کالم