بھارت مذاکرات کی ہر میز الٹ چکا ہے

بھارت مذاکرات کی ہر میز الٹ چکا ہے
بھارت مذاکرات کی ہر میز الٹ چکا ہے

  



اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کا ایک اہم دورہ کیا ہے پچھلی بار جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان تشریف لائے تھے تو اس وقت پاکستان بُری طرح سے حالات کے تھپیڑوں میں گھرا ہوا تھا۔شہر شہر دہشت گردوں کی کارروائیاں عروج پر تھیں، لیکن آج حالات کچھ اور ہیں آج پاکستان نہ صرف حالات پر قابو پا چکا ہے، بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کی اولین ترجیح بنتا جارہا ہے۔موجودہ حکومت کی بہت سی کوتاہیوں پر بات ہوسکتی ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں عمران خان نے پاکستانی قوم کا وقار بلند کیا اور ملک کے اندر اقلیتوں کے لئے ایسا ماحول بنادیا ہے جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے سیکرٹری جنرل، پاکستان میں ایسے گھوم رہے تھے جیسے اپنے ہی قریہ و نگر میں ہوں۔کبھی بادشاہی مسجد تو کبھی لاہور کی گلیوں سے ہوتے ہوئے کرتار پور اور کبھی اسلام آباد,غرض وہ جہاں جہاں گئے پاکستانیوں کی خدمات کا اعتراف کرتے چلے گئے۔انہوں نے ہر تقریب میں کشمیر کا ذکر ضرور کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یواین سیکرٹری جنرل نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان اور بھارت تحمل کا مظاہرہ کریں،جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری ہونی چاہیے۔ انہوں نے باور کرایا کہ امن و سلامتی صرف اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل سے ہی ممکن ہے۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کنٹرول لائن پر خدمات سرانجام دیتے رہیں گے۔

سبھی جانتے ہیں کہ بھارت نے خطے کا امن تباہ کر رکھا ہے۔ وہی ایٹمی جنگ کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے اور پاکستان کو چند سیکنڈ میں ختم کرنے کی بڑھکیں بھی مار رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان نے ہر موقع پر امن کا گیت گایا ہے دوستی کی بات کی ہے۔ اسی امن کی خاطر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے پر بھی ہم نے صبر سے کام لیا۔ اس کے باوجود جب بھی تنبیہ کرنے کی باری آتی ہے تو پاکستان کو بھارت کے ساتھ ہی تنبیہ کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کو کم کریں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف بیانات سے گریز کریں۔ یہی تو اقوام متحدہ کی غیر مسلموں کے مفادات کے تحفظ کی پالیسی ہے۔یہاں پاکستانی قیادت کو چاہیے تھا کہ سیکریٹری جنرل کی توجہ مکمل طور پر مسئلہ کشمیر پر مرکوز رکھنے کی کوشش کرتے۔ وہ جہاں بھی جاتے ان کے سامنے کشمیر کی ہی بات کی جاتی۔ مسئلہ افغانستان پر ہمیں زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ وہ امریکا کا ذاتی مسئلہ ہے، وہ اسے حل کرکے ہی رہے گا۔ اگر نہیں کرے گا تو طالبان حل کرالیں گے۔ ہمیں کشمیر پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ ہر حال میں کشمیر پر بات چیت ہونی چاہئے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری کو ایل او سی کا ایک دورہ بھی کرایاجاتا جہاں وہ خود صورتحال کا جائزہ لیتے۔ وہاں کے رہائشیوں سے ملاقاتیں کرتے۔ وہاں کے عوام پر بھارتی جبر کے نشان دیکھتے۔ وہاں بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے متاثر ہونے والے در و دیوار کا مشاہدہ کرتے، تاکہ انہیں اچھی طرح یقین آجاتا کہ واقعی بھارت کی طرف سے زیادتیاں ہورہی ہیں۔ پھر ان سے عہد لیتے کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عمل کرائیں گے اور کشمیریوں کو بھارتی ظلم و ستم سے نجات دلائیں گے۔

کسی قسم کے مذاکرات کے ذریعے تو اس دیرینہ مسئلہ کے حل کی بہت کم امید ہے کیونکہ بھارت تو پہلے ہی مذاکرات کی ہر میز الٹاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں یواین سیکرٹری جنرل خود مدبرانہ کردار ادا کریں اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی قیادتوں کو اس معاملہ میں بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لئے قائل کریں۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 جس کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی کی منسوخی کے بعد ایک اور کشمیر دشمن اقدام کے طورپر مقبوضہ کشمیرمیں انتخابی حلقوں کی حدبندی کے نام پر جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرنے کی سازش کاآغاز کردیا گیا ہے۔ وزارت قانون و انصاف کے محکمہ امور قانون سازی کی ایما پر چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے الیکشن کمشنر سوشیل چندر اکو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مجوزہ حد بندی کمیشن کے لئے نامزد کیا ہے۔ تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین جن کی مودی حکومت کی کشمیر اور مسلم دشمن پالیسیوں پر گہری نگاہ ہے، کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نام نہاد اسمبلی کے لئے انتخابی حلقوں کی حد بندی میں ایک سازش کے تحت ردوبدل کر کے وادی کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرنا ہے۔ بھارتی پولیس نے گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد سے براڈ بینڈ اور موبائل فون انٹرنیٹ کی مکمل معطلی کے باوجود کشمیری نوجوانوں کے خلاف سوشل میڈیا کے استعمال کے مضحکہ خیز الزام پر مقدمات درج کر لئے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ سفارتی دباؤ اور عالمی رہنماؤں کی طرف سے ثالثی کی پیشکش سے مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد ملے گی۔نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیا ں کر رہا ہے، 9 لاکھ بھارتی فوجیوں نے کئی ماہ سے مقبوضہ وادی کو لاک ڈاؤن کر رکھا ہے۔ایک سوال کے جواب میں منیر اکرم نے کہاکہ عالمی رہنما بھارت کو مذاکراتی میز پر لانا چاہتے ہیں، تاکہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان تصادم کو روکا جائے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور افغانستان میں امن کے معاملہ کو حل کرنا چاہیے۔ہمارے لئے زیادہ بڑا مسئلہ ’کشمیر‘ہے۔ جہاں بھارتی افواج موجود ہیں اور بھارت ان کی تعداد میں اضافہ کررہا ہے۔ یہ مسئلہ فقط پاکستان اور کشمیریوں کا ہے۔ اس لئے یہ ہمارے لئے نہایت پریشان کن مسئلہ ہے۔ اگر ہم کشمیر کو بھارت کا مسئلہ قرار دیں تو یہ درست نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ بھارت نے تو بھاری تعداد میں فوج کشمیر میں تعینات کرکے وہاں قبضہ کر رکھا ہے۔

مزید : رائے /کالم