ٹرمپ کا دورۂ بھارت

ٹرمپ کا دورۂ بھارت
ٹرمپ کا دورۂ بھارت

  



امریکی صدر ٹرمپ کے دورۂ بھارت کے دوران بہت سے اہم واقعات ہوئے۔ بھارتی اور پاکستانی میڈیا کے کچھ حصوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ اس دورے کے دوران یا تو پا کستان کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کریں گے یا پھر بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر پا کستان کو برا بھلا کہہ کر بھارت کو خوش کرنے کی کوشش کریں گے،مگر اس کے برعکس ٹرمپ نے احمد آباد میں ہزاروں افراد کے بھرے جلسے میں یہ کہہ دیا کہ ان کے پا کستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور پا کستان دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے۔موجودہ صورتِ حال کو سمجھنے والے افراد اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ٹرمپ ایک بزنس مین اور ڈیل میکر ہیں۔ان کو اس سال نومبر میں امریکی انتخابات کا بھی سامنا ہے اور ان انتخابات میں وہ امریکی ووٹروں کے سامنے اپنی جن کامیا بیوں کو پیش کریں گے، ان میں ایک اہم کامیا بی یہ ہو گی کہ ٹرمپ نے امریکہ کو 19سالہ افغان جنگ (امریکہ کی طویل ترین جنگ) سے با ہر نکا لا ہے۔ اس مقصد کے لئے قطر میں 29فروری کو طا لبان کے ساتھ معاہدے پر دستخط بھی ہونے والے ہیں۔ایسے میں ایک ”سیلزمین“ کے طور پر ٹرمپ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ابھی افغانستان کی صورتِ حال کے پیش نظر پا کستان کو خوش رکھنا امریکہ کے لئے ضروری ہے۔

ٹرمپ نے احمد آباد میں اپنے خطاب کے دوران”پرامپٹر“ پر لکھی ہو ئی تقر یر پر ہی انحصار کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں اس بیان کو ہوم ورک کرنے کے بعد ہی پیش کیا گیا۔اسی طرح میڈیا اور خارجہ امور کے اکثر ما ہرین کی رائے یہ تھی کہ ٹرمپ،بھارت کے دورے کے دوران کشمیر کا ذکر نہیں کر یں گے، مگر امریکی صدر ٹرمپ نے ماضی میں بھارت کا دورہ کرنے والے امریکی صدور کی روایات کو توڑتے ہوئے بھارتی سرزمین پر کھڑے ہوکر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش بھی کر دی……بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر پا کستان کی تعریف اور مسئلہ کشمیر کے ذکر کو پا کستانی حکومت کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ٹرمپ کے ان بیانات میں اس معروضیت کا بھی کافی عمل دخل ہے، جس کا ذکر ابھی امریکہ اور طا لبان کے درمیان ہو نے والے معا ہدے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔اب اس بات کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے کہ ٹرمپ کی بھارت یا ترا کے اصل مقا صد کیا ہیں؟……حربی بنیا دوں پر دیکھا جائے تو اس خطے، خاص طور پر ”پیسیسفک“ (بحرالکاہل) کے علاقے میں چین کے اثرو رسوخ کے خلاف بھارت کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں، تاہم ٹر مپ کے دورے سے پہلے اگر ہم امریکی اور بھارتی میڈیا کے سنجیدہ حلقوں کی رائے کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس وقت امریکہ اور بھارت کے ما بین معیشت، خاص طور پر تجارت کے حوالے سے بہت سے معاملا ت میں سخت اختلا فات پائے جاتے ہیں۔

بھارتی معیشت کا شمار ایسی معیشتوں میں کیا جا تا ہے، جو Protectionismکی پالیسی پر چلتی ہیں، اس پا لیسی کے تحت اپنے ملک کی مصنوعات کو تحفظ دینے کی خاطر غیر ملکی مصنوعات پر بھاری ”امپورٹ ڈیوٹی“ یا ”ٹیرف“ لگا ئے جاتے ہیں۔ بھارت آزادی کے ساتھ ہی ملکی مصنوعات کو تحفظ دینے کی پالیسی پر چلنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اگر چہ 1990ء کی دہائی سے اس پالیسی میں بہت زیا دہ نر می لائی گئی، بھارتی منڈی کو کھولا گیا، مگر اس کے با وجود Protectionismکی پالیسی کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا جا سکا۔ مو دی جب2014ء کا انتخابات جیت کر وزیراعظم بنے تویہ توقع کی جا رہی تھی کہ بھارت ”ٹیرف“ (غیر ملکی اشیاء پر زیادہ ٹیکس) میں واضح طور پر کمی لا ئے گا، مگر مو دی،بھارت کے کا رپوریٹ سیکٹر اور سر مایہ داروں کی مدد سے ہی اقتدار میں آیا ہے، اس لئے اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ان سرمایہ داروں کے مفا دات کے خلاف کچھ کرے۔امریکہ کا ہمیشہ یہ مطا لبہ رہا ہے کہ امریکہ میں بننے والے میڈیکل کے آلات،ادویات، ٹرانسپورٹ کے ذرائع،زرعی اجناس اور مشروبات کو بھارتی منڈیوں تک کم ٹیرف کے ساتھ رسائی دی جائے۔

مثال کے طور پر ”ہارلے ڈیوڈسن“ امریکہ کی موٹر سائیکل بنانے والی ایک بہت بڑی کمپنی ہے۔ گزشتہ سال بھارت نے اس کمپنی پر 50فیصد ٹیرف لگا دیا تاکہ بھارت کے اندر موٹر سائیکل بنانے والی درجنوں کمپنیوں کو خسارے میں جانے سے بچایا جا سکے۔ٹرمپ نے ”ہارلے ڈیوڈسن“ موٹر سائیکل پر اتنا زیادہ ٹیرف لگانے پر سخت تنقید کی۔یہاں پر اس با ت کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ٹرمپ اور مودی دونوں اپنے آپ کو اپنے ملکوں کے سرمایہ داروں کے مفا دات کے نگہبان کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دونوں اپنے آپ کو ”قوم پرست“ قرار دیتے ہیں،تاہم حقیقت میں قوم پر ستی کے اس لبادے کے پیچھے ”سرمایہ پر ستی“ چھپی ہوئی ہے۔اب ٹرمپ کے اس دورے کے دوران بھی بھارت اور امریکہ کے مابین ا یسے مسائل حل نہیں ہو پائے،تاہم ٹرمپ نے بھارت کو 3ارب ڈالرز کا اسلحہ خریدنے کے لئے رام ضرور کر لیا۔اس سے امریکہ میں اسلحہ سازی کی صنعت کو بہت زیا دہ فا ئد ہ ہو گا اور اس صنعت سے جڑے سرمایہ دار ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھی بھرپور فنڈز دیں گے۔

ٹرمپ کے اس دور ے کے دوران جو ایشو سب سے زیادہ تو جہ کا مو ضوع بنا رہا،وہ دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں ہونے والے فسادات ہیں۔ان فسادات میں اب تک 40سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں،جبکہ بھارتی میڈیا کے غیر جانبدار حصے بھی یہ دعویٰ کرہے ہیں کہ دہلی میں صورت حال اس وقت کشیدہ ہوئی، جب بی جے پی کے رہنما کپل مشرا نے دہلی کے شاہین با غ میں ”شہر یت ترمیمی قانون“ کے خلاف مظاہرہ کرنے والی خواتین کے مقابلے میں اس قانون کے حق میں بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے انتہا پسندوں کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ بھجن پور،موج پور، جعفر آباد،برج پوری اور چا ند با غ، جیسے علاقوں میں حملے کر وانے شروع کر دیئے۔ان فسادات میں کئی بے گناہ مسلمان اپنی جانوں سے گئے، اور درجنوں ایسے ہیں جن کے گھر بار، دکانوں کو تبا ہ کر دیا گیا ہے۔ بھارت کے سیکولر حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دہلی کے ان فسادات نے1984ء میں اندرا گا ندھی کی ہلاکت کے بعد”سکھ کش“ فسادات کی یاد تا زہ کر دی ہے۔دہلی میں ”عام آدمی پا رٹی“ ابھی چند روز پہلے ہی انتخابات جیت کر آئی ہے اور کجری وال پھر سے دہلی کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔ ”عام آدمی پارٹی“ سیکو لر جما عت ہے اور کجری وال نے کبھی مسلم مخالف پالیسی یا بیا نات نہیں دیئے، مگر اس کے با وجود صورت حال کجر ی وال کے کنٹرول سے با ہر دکھائی دیتی ہے، کیونکہ ”بی بی سی“سے ایسی رپورٹیں بھی سامنے آرہی ہیں کہ بعض مقامات پر دہلی کی پو لیس بھی ’بجرنگ دل‘ اور بی جے پی کے غنڈوں کی مدد کر رہی ہے اور مسلم بستیوں پر حملوں پر با لکل خا موش تما شائی بنی ہوئی ہے۔

وزیراعلیٰ کجری وال نے فوج کو بھی طلب کر نے کی بات کی ہے۔فوج دہلی کی صورتِ حال کو کنٹرول کر پائے گی یا نہیں؟یہ تو آنے والا وقت ہی بتا ئے گا، امریکہ کے صدر کے دورے کے موقع پر دارالحکومت دہلی میں اس طرح کے فسادات سے بھارت کا سیکولر چہرہ داغدار ہوا،تاہم یہاں پر پا کستانی میڈیا کے کچھ حصوں کی یہ خواہش بہت سادہ دکھائی دی کہ ٹرمپ اپنے اس دورے کے دوران کھل کر بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی پا ما لی کا ذکر کر یں گے……مگرایسا دو با توں کی وجہ سے ممکن نہیں تھا…… ایک تو اس دُنیا میں خارجہ پا لیسی کے اصول نظریات اور اخلاقیات کی بنیادپر طے نہیں ہوتے، بلکہ معاشی اور سیاسی مفادات کی بنیا دوں پر طے ہوتے ہیں۔ امریکہ کومحض اپنے مفا دات سے غرض ہے نا کہ کسی ملک میں انسانی حقوق کے پا مال ہونے سے کیا…… مشرق وسطیٰ اور اسرا ئیل میں انسانی حقوق کی پاما لی نہیں کی جاتی؟ مگر اس کے باوجود امریکہ کا ہر صدر مشر ق وسطیٰ کی شاہی ریاستوں اور اسرا ئیل جیسی فسطا ئی ریاست کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ٹرمپ کی اپنی سیاست بھی تو امریکہ میں سفید فام نسل پرستی کے گرد گھومتی ہے، جس میں سیا ہ فام نسل، لاطینی امریکہ اور ایشیا کے غریب ممالک کے عوام کے لئے نفرت کے جذبات پا ئے جا تے ہیں،اس لئے ٹرمپ کو دہلی یا بھارت میں مسلمانوں یا اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے بُرے سلوک کی کیا پروا ہو سکتی ہے؟

مزید : رائے /کالم