ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

  



سرکاری افسروں کے بارے میں میرا تاثر ہمیشہ سے اس شعر کے گرد گھوم رہا ہے:

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

آپ پنجاب کے تمام اضلاع میں تعینات ڈپٹی کمشنروں کو دیکھیں اور اُن کے دعووں و سرگرمیوں کی طرف نظر ڈالیں تو یوں لگے گا جیسے انہوں نے اپنے اپنے ضلع کو گڈ گورننس کے لحاظ سے جنت نظیر بنا دیا ہے۔ ان سب میں مشترک بات یہ ہو گی کہ سب خود کو عوام کا خادم کہتے ہیں،ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش میں نظر آتے ہیں، روزانہ کسی اجلاس کی تصویر لگوانا یا کسی دورے کی کوریج کروانا، جزو لاینفک ہو گا۔ سیاسی نمائندوں کی اتنی تصویریں نہیں لگتیں، جتنی کسی ضلع کے ڈپٹی کمشنروں کی شائع ہوتی ہیں۔ کام پر توجہ دینے کی بجائے نام پر توجہ دینے کی یہ حکمت عملی نجانے بیورو کریسی نے کیوں پلے باندھ لی ہے؟ مَیں آج کمشنر ملتان کے دفتر گیا تو وہاں ایک قد آدم پینا فلیکس لگا ہوا تھا،جس پر لکھا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی گڈ گورننس کے وژن پر عملدرآمد کے لئے کمشنر ملتان ہر روز ایک بجے سے تین بجے تک شہریوں سے ملیں گے۔اگر شہریوں کی جگہ وہاں ”رعایا“ لکھا ہوتا تو حالات کے مطابق زیادہ موزوں لگتا۔ مجھے کھلی کچہریوں کے ڈرامے سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔یہ کچہریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نظام ٹھیک نہیں چل رہا۔ جو افسر مغلیہ بادشاہ بن کر کھلی کچہری لگاتے ہیں، وہ درحقیقت اس بات کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں کہ نظام پران کی گرفت نہیں، نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ اُن کی وجہ سے خلق ِ خدا پر کیا گذر رہی ہے، آپ کسی بھی ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں چلے جائیں۔اُن کے اندر جتنی بھی برانچیں ہوں گی، اُن میں بیٹھے ہوئے بابو آپ کو اچھوت سمجھیں گے۔سیدھے منہ بات نہیں کریں گے، کام کرنا تو دور کی بات ہے۔ ضلع کا ہر محکمہ قانوناً ڈپٹی کمشنر کے ماتحت ہوتا ہے،اگر کسی ضلع میں عوام کے ساتھ سرکاری عمال بدترین ظلم کر رہے ہیں،انہیں معمولی معمولی کاموں کے لئے ذلیل و خوار کر رہے ہیں، تو اس کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر پر عائد ہوتی ہے۔ اب کتنے ڈپٹی کمشنر اس امر کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ ماتحت دفاتر میں جو رشوت ستانی کا بازار گرم ہے، وہ اُن کی بری گورننس کی وجہ سے ہے۔

مَیں آج ایک کام سے ضلع کچہری گیا، جہاں ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے علاوہ اُن کے ماتحتوں کی خالی کرسیاں میرا منہ چڑا رہی تھیں۔ صبح دس بجے کا وقت تھا،لیکن افسر موجود نہیں تھے۔ ہر دفتر سے ایک ہی جواب مل رہا تھا کہ صاحب پی ایس ایل میچ کی وجہ سے مصروف ہیں۔ میچ تو شام کو ہونا ہے، پھر یہ صبح سویرے چھٹی؟…… مَیں نے اکثر یہ سوال پوچھا اور اکثر یہی جواب ملا کہ سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، اِس لئے صاحب سڑکوں پر ڈیوٹی دے رہے ہیں،جب دفتر میں صاحب بہادر نے نہیں آنا تو نچلا عملہ کیوں آئے گا؟ آئے گا تو بس صرف سائل آئے گا اور دفتر کو بھائیں بھائیں کرتا دیکھ کر ناکام و نامراد واپس لوٹ جائے گا۔ چلو جی اسے بھی برداشت کر لیتے ہیں، یہ تو ایک وقتی معاملہ ہے،لیکن یہاں تو خلق ِ خدا کے ساتھ بارہ مہینے یہی سلوک ہوتا ہے۔عملہ بیٹھا بھی ہو تو عوام کے مسائل حل ہو جاتے ہیں؟ اعتراضات پر اعتراضات لگا کر سرکاری محکموں کے کارندے عوام کی ناک میں دم کئے رکھتے ہیں۔ کالم لکھتے اور میڈیا سے منسلک ہوئے میری عمر بیت گئی۔ مَیں نے کبھی یہ نہیں سنا کہ کسی افسر نے یہ تسلیم کیا ہو کہ اُس کے ماتحت ایک کرپٹ نظام ہے اور وہ باوجود کوشش کے اُسے ٹھیک نہیں کر سکا۔ اُس کا ایک ہی تکیہ کلام ہو گا……عوام کے مسائل ترجیحی بنیاد پر حل کئے جا رہے ہیں،عوام کو تنگ کرنے والے ضلع میں نہیں رہیں گے،حالانکہ اُن کے پاس جو لوگ شکایات لے کر آتے ہیں، وہ انہی کی ماتحت برانچوں کے عملے کی دست و برد کا شکار ہوتے ہیں۔

بری گورننس کا ذمہ دار صرف سیاست دانوں کو قرار دیا جاتا ہے، جیسے آج بھی ساری ذمہ داری وزیراعظم عمران خان یا وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے سر آتی ہے…… اگر ملک یا صوبے میں بری حکمرانی ہے تو اس کی وجہ اسلام آباد یا لاہور میں بیٹھا ہوا حاکم کیسے ہو گا؟اس کی ذمہ داری تو بیورو کریسی پر عائد ہوتی ہے جو اوپر سے لے کر نیچے تک حکمرانی کے مزے لوٹتی ہے۔اگر کسی ضلع میں عوام رشوت ستانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور نااہل اہلکاروں کے ظلم و ستم کا شکار ہیں تو اصل میں ذمہ داری وہاں کے ڈپٹی کمشنر پر عائد ہوتی ہے،مگر اُسے تو کوئی پوچھتا نہیں ……مَیں نے اس بات کو بھی بڑے غور سے نوٹ کیا ہے کہ اضلاع میں تعینات ہونے والے افسر سب سے پہلے میڈیا میں اپنے تعلقات بناتے ہیں،کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جب تک وہ اپنا مثبت چہرہ نہیں دکھائیں گے،اُن کے عیبوں پر پردہ نہیں پڑ سکے گا۔ اب تو ڈپٹی کمشنروں اور کمشنروں نے اپنے سرکاری فیس بُک اور ٹویٹر اکاؤنٹس بنا لئے ہیں، ان کا مقصد سوائے اپنی تشہیر کے اور کچھ نہیں۔ان اکاؤنٹس کی بنیاد پر کارکردگی جانچی جائے تو یوں لگے گا جیسے اس سے اچھا افسر تو پاکستان میں کوئی دوسرا پیدا ہی نہیں ہوا،حالانکہ حقیقت میں اُس کی ناک کے عین نیچے عوام کو لوٹنے کے ماہر کلا کار سرکاری مناصب پر بیٹھ کر اپنا کام دھڑلے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔مَیں سمجھتا ہوں اگر پنجاب کے36اضلاع کے ڈپٹی کمشنر ٹھیک ہو جائیں تو ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟ جواب یہ ہے کہ اُنہیں اپنی پوسٹنگ پیاری ہوتی ہے۔

گڈ گورننس کا مطلب یہ ہے کہ مافیا پر گرفت ……اور مافیاز تو خود اُن کے دفاتر میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ کسی کو عہدے سے ہٹانا بھی چاہیں تو اِدھر اُدھر کا دباؤ آڑے آ جاتا ہے، پھر اکثر ڈپٹی کمشنروں کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ڈپٹی کمشنری عموماً پورے کیریئر میں صرف ایک بار ملتی ہے، اس موقع کو وہ گنوانا نہیں چاہتے۔ کرپشن کو ختم کرنے کی بجائے اُس سے مستفید ہونے کی راہ اختیار کرتے ہیں …… سو جب تبدیلی کی پہلی اینٹ ہی نہیں رکھی جائے گی تو عمارت کیسے تعمیر ہو سکے گی، بہتری کیسے آئے گی؟ ہر حکومت یہی کہتی آئی ہے کہ انہوں نے چُن چُن کر اچھے افسر ڈپٹی کمشنر لگائے ہیں، لیکن اچھے افسربھی کوئی مثبت تبدیلی لانے میں آج تک کامیاب نہیں ہوئے۔ہم نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ منتخب ارکانِ اسمبلی کو ڈپٹی کمشنر کے آگے سوالی بنا کر بٹھا دیا گیا۔ سارے فنڈز،سارے منصوبے، ساری ترقی ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے کرانے کی حکمت ِ عملی اختیار کی گئی،مگر ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“…… کوئی فرق نہیں پڑا، کوئی تبدیلی نہیں آئی،بس اتنا ہوا کہ دفاتر کے سامنے یہ بورڈ آویزاں ہو گئے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر دن ایک سے تین بجے تک رعایا کو شرفِ ملاقات و دیدار بخشیں گے۔ گویا باقی معاملات جوں کے جوں چلتے رہیں گے۔

مزید : رائے /کالم