انتہا پسند ہندوؤں نے دہلی فسادات کی ذمہ دار سوارا بھاسکر کو قرار دیدیا

    انتہا پسند ہندوؤں نے دہلی فسادات کی ذمہ دار سوارا بھاسکر کو قرار دیدیا

  



نئی دہلی(آئی این پی)مسلمانوں کے حق میں بولنے والی بالی ووڈ اداکارہ سوارا بھاسکر کو بھارتیوں نے دہلی میں ہونے والے فسادات کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ دہلی میں کچھ دِنوں سے ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی جاری ہے اور اِس دوران 43 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ سیکڑوں زخمی بھی ہیں۔اِسی حوالے سے بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ مسلمانوں کے حق میں بولتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں کی سپریم کورٹ ایک ہی فیصلے میں یہ کہتی ہے کہ بابری مسجد کو شہید کرنا قانون کی خلاف ورزی تھی اور پھر اسی فیصلے میں ان ہی لوگوں کو اعزاز بھی دیتی ہے جنہوں نے بابری مسجد کو شہید کیا تھا۔ یہ قانون کے رکھوالے ہی مسلمانوں پر تشدد کرتے ہیں، ان کی جائیداد اور گھروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان کو گالیاں دیتے ہیں اور ان کے گھروں میں گھس جاتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان گوشت کھاتے ہیں۔ ہم پر وہ لوگ حکومت اور قانون دان حکمرانی کر رہے ہیں جو خود نہ تو کسی قانون کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی آئین کو مانتے ہیں۔سوارا بھاسکر کی اِس ویڈیو کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے ٹوئٹر پر ان کے خلاف ٹوئٹ کرنا شروع کردیے ہیں۔ایک بھارتی صارف نے لکھا کہ آج جو دہلی جل رہا ہے اس کی وجہ سوارا بھاسکر ہے۔ایک اور بھارتی صارف نے لکھا کہ سوارا بھاسکر کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟۔ صارف نے لکھا کہ سوارا بھاسکر کھلم کھلا کہہ رہی ہے کہ ایودھیا سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تھا اور پولیس مسلمانوں کے خلاف ہے۔

سوارا بھاسکر

مزید : صفحہ آخر